Saturday, March 28, 2026
ہومPoliticsمربوط جوہری نظام اور وسیع انفرا اسٹرکچر، ایران کا افزودہ یورینیئم کا...

مربوط جوہری نظام اور وسیع انفرا اسٹرکچر، ایران کا افزودہ یورینیئم کا ذخیرہ کہاں ہے؟

ایران کا جوہری نظام: صرف چند مقامات نہیں بلکہ ایک وسیع نیٹ ورک

ایران کا جوہری پروگرام محض ایک یا دو تنصیبات پر مبنی نہیں بلکہ پورے ملک میں پھیلے ہوئے ایک مربوط، محفوظ اور انتہائی منظم نظام پر مشتمل ہے، جہاں ہزاروں سائنسدان اور انجینئر کام کر رہے ہیں۔ مغربی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایران کی جوہری تنصیبات درجنوں مقامات پر موجود ہیں، جن میں افزودہ یورینیئم مستقل گردش میں رہتا ہے، اور کسی ایک جگہ طویل عرصے تک ذخیرہ نہیں کیا جاتا۔

افزودہ یورینیئم کا ذخیرہ مسلسل منتقل ہوتا رہتا ہے

ایران کا 60 فیصد تک افزودہ یورینیئم صرف 16 چھوٹے کینسٹروں میں سمیٹا جا سکتا ہے، لیکن یہ کسی ایک مقام پر مستقل طور پر موجود نہیں ہوتا۔ یہ مواد ایران کے مختلف جوہری مراکز کے درمیان منتقل ہوتا رہتا ہے، جس کی وجہ سے اس کا پتہ چلانا مشکل ہو جاتا ہے۔ انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی (IAEA) کے مطابق ایران نے اس بات کا انکشاف کیا تھا کہ اسرائیلی حملے کی صورت میں وہ اپنے یورینیئم کے ذخیرے کو بچانے کے لیے مخصوص اقدامات کرے گا۔

IAEA لاعلم، عالمی ماہرین پریشان

ایران نے اگرچہ سفارتکاروں کو ان اقدامات کی یقین دہانی کروائی تھی، لیکن IAEA کو نہ صرف ان اقدامات کی تفصیلات معلوم نہیں بلکہ یہ بھی پتہ نہیں کہ موجودہ وقت میں یورینیئم کہاں منتقل کیا گیا ہے۔ اسی غیر یقینی صورتحال نے عالمی جوہری ماہرین کو شدید تشویش میں مبتلا کر رکھا ہے کیونکہ اس سے خطے میں کشیدگی اور ممکنہ خطرات میں اضافہ ہو رہا ہے۔

ایران کے پاس جوہری ہتھیار بنانے کی صلاحیت؟

بین الاقوامی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق مئی 2025 تک ایران کے پاس 408.6 کلوگرام افزودہ یورینیئم موجود تھا، جس میں سے زیادہ تر 60 فیصد تک افزودہ تھا۔ ماہرین کے مطابق اگر یہی یورینیئم 90 فیصد تک افزودہ کر لیا جائے تو یہ 10 جوہری ہتھیار بنانے کے لیے کافی ہو سکتا ہے، جو دنیا بھر کے لیے ایک بڑا خطرہ بن سکتا ہے۔

Most Popular