Wednesday, May 13, 2026
ہومPoliticsبجٹ میں پیٹرول سمیت ہر قسم کی نقد خریداری پر اضافی رقم...

بجٹ میں پیٹرول سمیت ہر قسم کی نقد خریداری پر اضافی رقم لینے کی تجویز

نقد ادائیگیوں کی حوصلہ شکنی کے لیے اقدامات

وفاقی حکومت آئندہ مالی سال 2025-26 کے بجٹ میں نقد خریداری کی حوصلہ شکنی کے لیے اہم تجاویز شامل کرنے جا رہی ہے، جن کے تحت پیٹرول سمیت مختلف اشیاء کی نقد خریداری پر اضافی رقم وصول کی جا سکتی ہے۔ ذرائع ایف بی آر کے مطابق فنانس بل میں شامل ان تجاویز کا مقصد پیٹرول پمپ پر ٹیکس چوری، ملاوٹ اور کیش ٹرانزیکشنز پر انحصار کم کرنا ہے۔

پیٹرول پر نقد خریداری مہنگی ہو جائے گی

بجٹ تجاویز میں پیٹرول پمپ سے نقد ادائیگی پر پیٹرول لینے والوں سے 3 روپے فی لیٹر اضافی رقم وصول کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ اس کے برعکس ڈیجیٹل ادائیگی کرنے والوں کے لیے سہولتیں فراہم کی جائیں گی، جن میں کیو آر کوڈز، ڈیبٹ و کریڈٹ کارڈز اور موبائل والٹس شامل ہوں گے۔

مینوفیکچررز اور درآمد کنندگان پر بھی اثرات

ایف بی آر کا کہنا ہے کہ مینوفیکچررز اور درآمد کنندگان کو بھی نقد فروخت پر اضافی 2 فیصد ٹیکس لینے کی اجازت دی جا سکتی ہے۔ یہ اقدام بھی فنانس بل کا حصہ ہوگا، تاکہ کاروبار کو ڈیجیٹل ادائیگی کی طرف راغب کیا جا سکے۔ کارپوریٹ سیکٹر سے اس بارے میں مشاورت مکمل ہو چکی ہے۔

ریلیف کم، ٹیکس زیادہ

تنخواہ دار طبقے کے لیے ٹیکس ریلیف محدود ہوگا۔ ایف بی آر ذرائع کے مطابق صرف معمولی نوعیت کا ریلیف دیا جائے گا۔ دوسری جانب درآمد کنندگان اور مینوفیکچررز سے مطالبہ ہوگا کہ وہ ڈیجیٹل ادائیگی پر معیاری 18 فیصد سیلز ٹیکس وصول کریں۔

دیگر شعبے فی الحال ٹیکس نیٹ سے باہر

ذرائع کے مطابق بجٹ میں جیولرز، شادی ہالز، وکلاء، یونٹ مینیجرز اور ڈاکٹروں کو فی الحال ٹیکس نیٹ میں لانے کی کوئی تجویز شامل نہیں کی گئی۔

یہ بھی پڑھیں:حکومت نے پیٹرول کی قیمت میں اضافہ کردیا

Most Popular