فصلوں میں آگ لگنے سے کسانوں کو کروڑوں کا نقصان
سندھ اور پنجاب کے مختلف علاقوں میں سیکڑوں ایکڑ پر پھیلی گندم کی تیار فصل میں آگ لگنے سے کروڑوں روپے مالیت کی گندم جل کر راکھ ہوگئی۔ گزشتہ دو ہفتوں کے دوران گندم کے کھیتوں میں آگ لگنے کے کئی واقعات رپورٹ ہوئے ہیں، جس نے کسانوں کی محنت پر پانی پھیر دیا۔
لودھراں اور حافظ آباد میں سب سے زیادہ نقصانات
لودھراں میں دو ہفتوں کے اندر 30 جبکہ حافظ آباد میں ایک ہفتے میں 17 مختلف مقامات پر آگ لگنے کے نتیجے میں مجموعی طور پر 300 ایکڑ سے زائد رقبے پر گندم کی فصل تباہ ہوگئی۔ ساہیوال، ڈی جی خان، سرگودھا، گوجرانوالہ، بہاول پور اور شکرگڑھ میں بھی متعدد واقعات پیش آئے جہاں آگ نے کئی ایکڑ گندم کو جلا کر خاک کر دیا۔
سندھ میں نوشہرو فیروز بھی متاثر
سندھ کے ضلع نوشہرو فیروز میں بھی گندم کی فصل میں آگ لگنے کا واقعہ پیش آیا، جس میں لاکھوں روپے کا نقصان ہوا۔ متاثرہ کسانوں نے حکومت سے مالی امداد اور بچاؤ کے اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔
آگ لگنے کی ممکنہ وجوہات
ریسکیو حکام کے مطابق گندم کے کھیتوں میں آگ لگنے کی عام وجوہات میں فصل کی باقیات کو جلانا، جلتی ہوئی سگریٹ کا پھینکا جانا، اور باراتوں کے دوران کی جانے والی آتش بازی شامل ہیں۔ حکام نے شکرگڑھ میں پیش آنے والے واقعے کی وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ وہاں آگ باراتیوں کی آتش بازی کے باعث لگی۔
نتیجہ
بار بار پیش آنے والے ان واقعات نے کسانوں کو شدید مالی مشکلات سے دوچار کر دیا ہے۔ ریسکیو ٹیمیں آگ بجھانے کی مسلسل کوششیں کر رہی ہیں تاہم فوری احتیاطی اقدامات کے بغیر اس نقصان کو روکنا مشکل دکھائی دے رہا ہے۔ ماہرین نے کسانوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ فصل کی کٹائی کے دوران آگ سے متعلق تمام حفاظتی اقدامات پر سختی سے عمل کریں تاکہ مزید نقصان سے بچا جا سکے۔
یہ بھی پڑھیں:وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کا گندم کے کاشتکاروں کیلئے خصوصی پیکج کا اعلان

