لاہور قلندرز کی ملکیت پر تنازع: ثالثی عدالت کا تاریخی فیصلہ، فواد رانا کے مؤقف کی توثیق
پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کی معروف فرنچائز لاہور قلندرز کی ملکیت سے متعلق تنازع میں ثالثی عدالت نے فواد رانا کے مؤقف کو درست قرار دیتے ہوئے ان کے حق میں فیصلہ سنا دیا ہے، جس سے رانا برادران کے درمیان 2023 سے جاری قانونی کشمکش کا ایک اہم مرحلہ مکمل ہو گیا۔
سابق جسٹس مقبول باقر کی سربراہی میں قائم ثالثی ٹریبونل نے قرار دیا کہ لاہور قلندرز کی شیئر ہولڈنگ کی منتقلی قانونی تقاضوں کے مطابق نہیں تھی اور اس عمل میں شفافیت کا فقدان پایا گیا۔ فیصلے میں واضح کیا گیا کہ فواد رانا کی ملکیتی حصص کی منتقلی بغیر مکمل رضامندی اور قانونی عمل کے کی گئی، جسے عدالت نے غیر قانونی قرار دیا۔
ٹریبونل نے عاطف رانا اور سمین رانا کو ہدایت کی ہے کہ وہ یا تو فواد رانا کو 2.3 ارب روپے (بمع سود تقریباً 3 ارب روپے) ادا کریں یا لاہور قلندرز کی 51 فیصد شیئر ہولڈنگ فواد رانا کی کمپنی قطر لبریکنٹس کمپنی (QALCO) کو واپس منتقل کریں۔ فیصلے پر عملدرآمد کے لیے 45 دن کی مہلت دی گئی ہے۔
عدالتی فیصلے میں یہ بھی نوٹ کیا گیا کہ فرنچائز کے بعض شیئرز کی خفیہ فروخت کے شواہد سامنے آئے، جو کارپوریٹ گورننس کے اصولوں کے منافی ہیں۔ ثالثی عدالت کے مطابق، ملکیت سے متعلق ایسے معاملات میں اعتماد، شفافیت اور تحریری معاہدوں کی پاسداری بنیادی حیثیت رکھتی ہے۔
قانونی ماہرین کے مطابق، یہ فیصلہ نہ صرف فواد رانا کے قانونی مؤقف کو تقویت دیتا ہے بلکہ پاکستان میں کھیلوں کی فرنچائزز کے کارپوریٹ ڈھانچے کے لیے بھی ایک اہم نظیر ثابت ہو سکتا ہے۔
پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے ثالثی فیصلے کو نوٹ کر لیا ہے، جبکہ اس پیش رفت کے ممکنہ اثرات آئندہ پی ایس ایل 11 پر بھی پڑ سکتے ہیں۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر فواد رانا انتظامی کنٹرول میں واپس آتے ہیں تو اس سے لاہور قلندرز کی برانڈ ویلیو، مارکیٹنگ اسٹرٹیجی اور فین انگیجمنٹ میں مزید بہتری آ سکتی ہے۔

