صبح و شام کے مسنون اذکار مومن کی حفاظت اور دلی سکون کا ذریعہ ہیں۔ آیت الکرسی اور سورۃ البقرہ کی آخری دو آیات رات کو پڑھنے کی خاص فضیلت احادیث میں آئی ہے، اور تینوں «قل» والی سورتیں صبح و شام تین تین مرتبہ پڑھنا مسنون ہے۔
آیت الکرسی — سورۃ البقرہ 2:255
ٱللَّهُ لَاۤ إِلَـٰهَ إِلَّا هُوَ ٱلۡحَیُّ ٱلۡقَیُّومُۚ لَا تَأۡخُذُهُۥ سِنَةࣱ وَلَا نَوۡمࣱۚ لَّهُۥ مَا فِی ٱلسَّمَـٰوَ ٰتِ وَمَا فِی ٱلۡأَرۡضِۗ مَن ذَا ٱلَّذِی یَشۡفَعُ عِندَهُۥۤ إِلَّا بِإِذۡنِهِۦۚ یَعۡلَمُ مَا بَیۡنَ أَیۡدِیهِمۡ وَمَا خَلۡفَهُمۡۖ وَلَا یُحِیطُونَ بِشَیۡءࣲ مِّنۡ عِلۡمِهِۦۤ إِلَّا بِمَا شَاۤءَۚ وَسِعَ كُرۡسِیُّهُ ٱلسَّمَـٰوَ ٰتِ وَٱلۡأَرۡضَۖ وَلَا یَـُٔودُهُۥ حِفۡظُهُمَاۚ وَهُوَ ٱلۡعَلِیُّ ٱلۡعَظِیمُ
اللہ، اس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں، ہمیشہ زندہ رہنے والا ہے (سارے عالم کو اپنی تدبیر سے) قائم رکھنے والا ہے، نہ اس کو اُونگھ آتی ہے اور نہ نیند جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے سب اسی کا ہے، کون ایسا شخص ہے جو اس کے حضور اس کے اِذن کے بغیر سفارش کر سکے، جو کچھ مخلوقات کے سامنے (ہو رہا ہے یا ہو چکا) ہے اور جو کچھ ان کے بعد (ہونے والا) ہے (وہ) سب جانتا ہے، اور وہ اس کی معلومات میں سے کسی چیز کا بھی احاطہ نہیں کر سکتے مگر جس قدر وہ چاہے، اس کی کرسیء (سلطنت و قدرت) تمام آسمانوں اور زمین کو محیط ہے، اور اس پر ان دونوں (یعنی زمین و آسمان) کی حفاظت ہرگز دشوار نہیں، وہی سب سے بلند رتبہ بڑی عظمت والا ہے
سورۃ البقرہ، آیت 255 — اردو ترجمہ: عرفان القرآن
آمن الرسول — سورۃ البقرہ 2:285-286
ءَامَنَ ٱلرَّسُولُ بِمَاۤ أُنزِلَ إِلَیۡهِ مِن رَّبِّهِۦ وَٱلۡمُؤۡمِنُونَۚ كُلٌّ ءَامَنَ بِٱللَّهِ وَمَلَـٰۤىِٕكَتِهِۦ وَكُتُبِهِۦ وَرُسُلِهِۦ لَا نُفَرِّقُ بَیۡنَ أَحَدࣲ مِّن رُّسُلِهِۦۚ وَقَالُوا۟ سَمِعۡنَا وَأَطَعۡنَاۖ غُفۡرَانَكَ رَبَّنَا وَإِلَیۡكَ ٱلۡمَصِیرُ لَا یُكَلِّفُ ٱللَّهُ نَفۡسًا إِلَّا وُسۡعَهَاۚ لَهَا مَا كَسَبَتۡ وَعَلَیۡهَا مَا ٱكۡتَسَبَتۡۗ رَبَّنَا لَا تُؤَاخِذۡنَاۤ إِن نَّسِینَاۤ أَوۡ أَخۡطَأۡنَاۚ رَبَّنَا وَلَا تَحۡمِلۡ عَلَیۡنَاۤ إِصۡرࣰا كَمَا حَمَلۡتَهُۥ عَلَى ٱلَّذِینَ مِن قَبۡلِنَاۚ رَبَّنَا وَلَا تُحَمِّلۡنَا مَا لَا طَاقَةَ لَنَا بِهِۦۖ وَٱعۡفُ عَنَّا وَٱغۡفِرۡ لَنَا وَٱرۡحَمۡنَاۤۚ أَنتَ مَوۡلَىٰنَا فَٱنصُرۡنَا عَلَى ٱلۡقَوۡمِ ٱلۡكَـٰفِرِینَ
(وہ) رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس پر ایمان لائے (یعنی اس کی تصدیق کی) جو کچھ ان پر ان کے رب کی طرف سے نازل کیا گیا اور اہلِ ایمان نے بھی، سب ہی (دل سے) اللہ پر اور اس کے فرشتوں پر اور اس کی کتابوں پر اور اس کے رسولوں پر ایمان لائے، (نیز کہتے ہیں:) ہم اس کے پیغمبروں میں سے کسی کے درمیان بھی (ایمان لانے میں) فرق نہیں کرتے، اور (اللہ کے حضور) عرض کرتے ہیں: ہم نے (تیرا حکم) سنا اور اطاعت (قبول) کی، اے ہمارے رب! ہم تیری بخشش کے طلب گار ہیں اور (ہم سب کو) تیری ہی طرف لوٹنا ہے اللہ کسی جان کو اس کی طاقت سے بڑھ کر تکلیف نہیں دیتا، اس نے جو نیکی کمائی اس کے لئے اس کا اجر ہے اور اس نے جو گناہ کمایا اس پر اس کا عذاب ہے، اے ہمارے رب! اگر ہم بھول جائیں یا خطا کر بیٹھیں تو ہماری گرفت نہ فرما، اے ہمارے پروردگار! اور ہم پر اتنا (بھی) بوجھ نہ ڈال جیسا تو نے ہم سے پہلے لوگوں پر ڈالا تھا، اے ہمارے پروردگار! اور ہم پر اتنا بوجھ (بھی) نہ ڈال جسے اٹھانے کی ہم میں طاقت نہیں، اور ہمارے (گناہوں) سے درگزر فرما، اور ہمیں بخش دے، اور ہم پر رحم فرما، تو ہی ہمارا کارساز ہے پس ہمیں کافروں کی قوم پر غلبہ عطا فرما
سورۃ البقرہ، آیات 285 تا 286 — اردو ترجمہ: عرفان القرآن
سورۃ الاخلاص — 112
بِسۡمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحۡمَـٰنِ ٱلرَّحِیمِ قُلۡ هُوَ ٱللَّهُ أَحَدٌ ٱللَّهُ ٱلصَّمَدُ لَمۡ یَلِدۡ وَلَمۡ یُولَدۡ وَلَمۡ یَكُن لَّهُۥ كُفُوًا أَحَدُۢ
(اے نبئ مکرّم!) آپ فرما دیجئے: وہ اللہ ہے جو یکتا ہے اللہ سب سے بے نیاز، سب کی پناہ اور سب پر فائق ہے نہ اس سے کوئی پیدا ہوا ہے اور نہ ہی وہ پیدا کیا گیا ہے اور نہ ہی اس کا کوئی ہمسر ہے
سورۃ الاخلاص، مکمل — اردو ترجمہ: عرفان القرآن
سورۃ الفلق — 113
بِسۡمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحۡمَـٰنِ ٱلرَّحِیمِ قُلۡ أَعُوذُ بِرَبِّ ٱلۡفَلَقِ مِن شَرِّ مَا خَلَقَ وَمِن شَرِّ غَاسِقٍ إِذَا وَقَبَ وَمِن شَرِّ ٱلنَّفَّـٰثَـٰتِ فِی ٱلۡعُقَدِ وَمِن شَرِّ حَاسِدٍ إِذَا حَسَدَ
آپ عرض کیجئے کہ میں (ایک) دھماکے سے انتہائی تیزی کے ساتھ (کائنات کو) وجود میں لانے والے رب کی پناہ مانگتا ہوں ہر اس چیز کے شر (اور نقصان) سے جو اس نے پیدا فرمائی ہے اور (بالخصوص) اندھیری رات کے شر سے جب (اس کی) ظلمت چھا جائے اور گرہوں میں پھونک مارنے والی جادوگرنیوں (اور جادوگروں) کے شر سے اور ہر حسد کرنے والے کے شر سے جب وہ حسد کرے
سورۃ الفلق، مکمل — اردو ترجمہ: عرفان القرآن
سورۃ الناس — 114
بِسۡمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحۡمَـٰنِ ٱلرَّحِیمِ قُلۡ أَعُوذُ بِرَبِّ ٱلنَّاسِ مَلِكِ ٱلنَّاسِ إِلَـٰهِ ٱلنَّاسِ مِن شَرِّ ٱلۡوَسۡوَاسِ ٱلۡخَنَّاسِ ٱلَّذِی یُوَسۡوِسُ فِی صُدُورِ ٱلنَّاسِ مِنَ ٱلۡجِنَّةِ وَٱلنَّاسِ
آپ عرض کیجئے کہ میں (سب) انسانوں کے رب کی پناہ مانگتا ہوں جو (سب) لوگوں کا بادشاہ ہے جو (ساری) نسلِ انسانی کا معبود ہے وسوسہ انداز (شیطان) کے شر سے جو (اللہ کے ذکر کے اثر سے) پیچھے ہٹ کر چھپ جانے والا ہے جو لوگوں کے دلوں میں وسوسہ ڈالتا ہے خواہ وہ (وسوسہ انداز شیطان) جنات میں سے ہو یا انسانوں میں سے
سورۃ الناس، مکمل — اردو ترجمہ: عرفان القرآن
تسبیح کاؤنٹر
0
مکمل ادوار: 0 · مجموعی ذکر: 0
مزید دیکھیں: مسنون دعائیں · قرآنی دعائیں · اسلامی سیکشن
