علامہ اقبالؒ — منتخب کلام
شاعرِ مشرق، مفکرِ پاکستان علامہ محمد اقبالؒ (1877ء–1938ء) کے کلام نے برصغیر کے مسلمانوں کو خودی، عمل اور اُمید کا پیغام دیا۔ یہاں ان کی چند مشہور ترین نظموں اور غزلوں کا منتخب کلام پیش ہے۔ شعر و شاعری کے اس سلسلے میں دیگر بڑے شعرا کا کلام بھی بتدریج شامل کیا جائے گا — ان شاء اللہ۔
کلام: علامہ محمد اقبالؒ · متن کا ماخذ: اردو وکی ماخذ (Wikisource)
بچے کی دعا
لب پہ آتی ہے دعا بن کے تمنا میریزندگی شمع کی صورت ہو خدایا میری
دور دنیا کا مرے دم سے اندھیرا ہو جائےہر جگہ میرے چمکنے سے اجالا ہو جائے
ہو مرے دم سے یونہی میرے وطن کی زینتجس طرح پھول سے ہوتی ہے چمن کی زینت
زندگی ہو مری پروانے کی صورت یا ربعلم کی شمع سے ہو مجھ کو محبت یا رب
ہو مرا کام غریبوں کی حمایت کرنادرد مندوں سے ضعیفوں سے محبت کرنا
مرے اللہ! برائی سے بچانا مجھ کونیک جو راہ ہو اس رہ پہ چلانا مجھ کو
ترانۂ ہندی — سارے جہاں سے اچھا
سارے جہاں سے اچھا ہندوستاں ہماراہم بلبلیں ہیں اس کی، یہ گلستاں ہمارا
غربت میں ہوں اگر ہم، رہتا ہے دل وطن میںسمجھو وہیں ہمیں بھی دل ہو جہاں ہمارا
پربت وہ سب سے اونچا، ہمسایہ آسماں کاوہ سنتری ہمارا، وہ پاسباں ہمارا
گودی میں کھیلتی ہیں اس کی ہزاروں ندیاںگلشن ہے جن کے دم سے رشکِ جناں ہمارا
اے آبِ رودِ گنگا! وہ دن ہیں یاد تجھ کو؟اترا ترے کنارے جب کارواں ہمارا
مذہب نہیں سکھاتا آپس میں بیر رکھناہندی ہیں ہم، وطن ہے ہندوستاں ہمارا
یونان و مصر و روما سب مٹ گئے جہاں سےاب تک مگر ہے باقی نام و نشاں ہمارا
کچھ بات ہے کہ ہستی مٹتی نہیں ہماریصدیوں رہا ہے دشمن دورِ زماں ہمارا
اقبال! کوئی محرم اپنا نہيں جہاں میںمعلوم کیا کسی کو دردِ نہاں ہمارا!
خودی کو کر بلند اتنا — غزل (بالِ جبریل)
خِردمندوں سے کیا پُوچھوں کہ میری ابتدا کیا ہےکہ مَیں اس فکر میں رہتا ہوں، میری انتہا کیا ہے
خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلےخدا بندے سے خود پُوچھے، بتا تیری رضا کیا ہے
مقامِ گُفتگو کیا ہے اگر مَیں کیمیاگر ہوںیہی سوزِ نفَس ہے، اَور میری کیمیا کیا ہے!
نظر آئیں مجھے تقدیر کی گہرائیاں اُس میںنہ پُوچھ اے ہم نشیں مجھ سے وہ چشمِ سُرمہ سا کیا ہے
اگر ہوتا وہ مجذوبِ فرنگی اس زمانے میںتو اقبالؔ اس کو سمجھاتا مقامِ کبریا کیا ہے
نوائے صُبحگاہی نے جگر خُوں کر دیا میراخدایا جس خطا کی یہ سزا ہے، وہ خطا کیا ہے!
شکوہ — اقتباس
اقتباس — نظم کا ابتدائی حصہ
کیوں زیاں کار بنوں، سُود فراموش رہوںفکرِ فردا نہ کروں، محوِ غمِ دوش رھوںنالے بُلبُل کے سُنوں اور ہمہ تن گوش رہوںہم نوا میں بھی کوئی گُل ہوں کہ خاموش رہوںجُرأت آموز میری تابِ سخن ہے مجھ کوشکوہ اللہ سے، خاکمِ بدہن ہے مجھ کو
ہے بجا شیوۂ تسلیم میں مشہور ہیں ہمقصّۂ درد سُناتے ہیں کہ مجبور ہیں ہمساز خاموش میں، فریاد سے معمور ہیں ہمنالہ آتا ہے اگر لب پہ تو معذور ہیں ہماے خدا! شکوۂ اربابِ وفا بھی سُن لےخوگرِ حمد سے تھوڑا سا گِله بھی سُن لے
تھی توموجود ازل سے ہی تری ذاتِ قدیمپُھول تھا زیب چمن پر نہ پریشان تھی شمیمشرطِ اِنصاف ہے اَے صاحبِ الطافِ عمیمبوئے گُل پھیلتی کِس طرح جو نہ ہوتی نسیمہم کو جمعیّتِ خاطر یہ پریشانی تھیورنہ اُمّت تیرے محبوبؐ کی دیوانی تھی؟
«شکوہ» (1911ء) اقبال کی طویل اور مشہور نظم ہے؛ یہاں اس کا ابتدائی حصہ بطور اقتباس پیش کیا گیا ہے۔
