پیر, 12 اکتوبر 2026
پیر, 12 اکتوبر 2026|
تازہ ترین
ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر ایک اور حملہ، پاکستانی شہری جاں بحق، 11 افراد زخمی، ایئرپورٹ کی بندش میں پیر کی رات تک توسیع• اسلام آباد سے کنٹینرز ہٹانے کا کام شروع، تین ہفتوں سے زائد عرصے سے بند سڑکیں کھلنے لگیں، وفاقی وزیر طارق فضل چوہدری نے کہا معمولات زندگی بحال ہوں گے• خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج پشاور ہائی کورٹ میں چیلنج، درخواست میں اقدام غیر آئینی قرار دے کر کالعدم کرنے اور نوٹیفکیشن معطل کرنے کی استدعا• پاکستان نے افغان طالبان کو خبردار کر دیا، اسحاق ڈار نے کہا افغان سرزمین سے دہشت گردوں کے خلاف کارروائی نہ ہوئی تو کابل کو خود نتائج بھگتنا ہوں گے، ستمبر میں 12 سال میں سب سے زیادہ دہشت گرد حملے ہوئے• پاکستان کا اگلے مالی سال تک بی پلس کریڈٹ ریٹنگ کا ہدف، وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا عالمی منڈیوں میں واپسی ہو گئی، 3 ارب ڈالر کے یورو بانڈز پر دوگنا پیشکشیں ملیں• گورنر راج کے بعد خیبر پختونخوا اپیکس کمیٹی کا پہلا اجلاس، گورنر فیصل کریم کنڈی اور وزیر داخلہ محسن نقوی کی مشترکہ صدارت، دہشت گردی کے خلاف مربوط اور فیصلہ کن کارروائی کا حکم• کوئٹہ کے قریب پاک فوج کا مشاق تربیتی طیارہ تکنیکی خرابی کے باعث گر کر تباہ، انسٹرکٹر پائلٹ میجر حسنین شہزاد ہمایوں اور زیر تربیت پائلٹ کیپٹن عبدالصمد شہید• خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج: آئینی علاج یا وفاق کی حد سے تجاوز؟ آرٹیکل 232 اور 234 کا امتحان، پارلیمنٹ کی منظوری اور آنے والے دنوں کا تفصیلی تجزیہ•

40 احادیث — امام نوویؒ کی چالیس احادیث

«اربعین نووی» امام محی الدین یحییٰ بن شرف نوویؒ (متوفی 676ھ) کا مرتب کردہ منتخب احادیث کا مشہور مجموعہ ہے جس میں دین کے بنیادی اصولوں پر مشتمل 42 احادیث جمع کی گئی ہیں۔ یہاں پہلی 40 احادیث مکمل عربی متن اور اردو ترجمے کے ساتھ پیش ہیں۔ عربی متن مستند ماخذ سے حرف بحرف لیا گیا ہے؛ اردو ترجمہ نیوز کف کا اپنا ہے۔

حدیث نمبر 1

عَنْ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ أَبِي حَفْصٍ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ: ” إنَّمَا الْأَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ، وَإِنَّمَا لِكُلِّ امْرِئٍ مَا نَوَى، فَمَنْ كَانَتْ هِجْرَتُهُ إلَى اللَّهِ وَرَسُولِهِ فَهِجْرَتُهُ إلَى اللَّهِ وَرَسُولِهِ، وَمَنْ كَانَتْ هِجْرَتُهُ لِدُنْيَا يُصِيبُهَا أَوْ امْرَأَةٍ يَنْكِحُهَا فَهِجْرَتُهُ إلَى مَا هَاجَرَ إلَيْهِ”. رَوَاهُ إِمَامَا الْمُحَدِّثِينَ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بنُ إِسْمَاعِيل بن إِبْرَاهِيم بن الْمُغِيرَة بن بَرْدِزبَه الْبُخَارِيُّ الْجُعْفِيُّ [رقم:1]، وَأَبُو الْحُسَيْنِ مُسْلِمٌ بنُ الْحَجَّاج بن مُسْلِم الْقُشَيْرِيُّ النَّيْسَابُورِيُّ [رقم:1907] رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا فِي "صَحِيحَيْهِمَا” اللذَينِ هُمَا أَصَحُّ الْكُتُبِ الْمُصَنَّفَةِ
اعمال کا دار و مدار نیتوں پر ہے، اور ہر انسان کو وہی کچھ ملے گا جس کی اس نے نیت کی ہو۔ پس جس کی ہجرت اللہ اور اس کے رسول کی طرف ہو تو اس کی ہجرت اللہ اور اس کے رسول ہی کی طرف ہے، اور جس کی ہجرت دنیا حاصل کرنے یا کسی عورت سے نکاح کے لیے ہو تو اس کی ہجرت اسی چیز کی طرف ہے جس کی طرف اس نے ہجرت کی۔
حدیث نمبر 2

عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَيْضًا قَالَ: بَيْنَمَا نَحْنُ جُلُوسٌ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه و سلم ذَاتَ يَوْمٍ، إذْ طَلَعَ عَلَيْنَا رَجُلٌ شَدِيدُ بَيَاضِ الثِّيَابِ، شَدِيدُ سَوَادِ الشَّعْرِ، لَا يُرَى عَلَيْهِ أَثَرُ السَّفَرِ، وَلَا يَعْرِفُهُ مِنَّا أَحَدٌ. حَتَّى جَلَسَ إلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه و سلم . فَأَسْنَدَ رُكْبَتَيْهِ إلَى رُكْبَتَيْهِ، وَوَضَعَ كَفَّيْهِ عَلَى فَخِذَيْهِ، وَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ أَخْبِرْنِي عَنْ الْإِسْلَامِ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه و سلم الْإِسْلَامُ أَنْ تَشْهَدَ أَنْ لَا إلَهَ إلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، وَتُقِيمَ الصَّلَاةَ، وَتُؤْتِيَ الزَّكَاةَ، وَتَصُومَ رَمَضَانَ، وَتَحُجَّ الْبَيْتَ إنْ اسْتَطَعْت إلَيْهِ سَبِيلًا. قَالَ: صَدَقْت . فَعَجِبْنَا لَهُ يَسْأَلُهُ وَيُصَدِّقُهُ! قَالَ: فَأَخْبِرْنِي عَنْ الْإِيمَانِ. قَالَ: أَنْ تُؤْمِنَ بِاَللَّهِ وَمَلَائِكَتِهِ وَكُتُبِهِ وَرُسُلِهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ، وَتُؤْمِنَ بِالْقَدَرِ خَيْرِهِ وَشَرِّهِ. قَالَ: صَدَقْت. قَالَ: فَأَخْبِرْنِي عَنْ الْإِحْسَانِ. قَالَ: أَنْ تَعْبُدَ اللَّهَ كَأَنَّك تَرَاهُ، فَإِنْ لَمْ تَكُنْ تَرَاهُ فَإِنَّهُ يَرَاك. قَالَ: فَأَخْبِرْنِي عَنْ السَّاعَةِ. قَالَ: مَا الْمَسْئُولُ عَنْهَا بِأَعْلَمَ مِنْ السَّائِلِ. قَالَ: فَأَخْبِرْنِي عَنْ أَمَارَاتِهَا؟ قَالَ: أَنْ تَلِدَ الْأَمَةُ رَبَّتَهَا، وَأَنْ تَرَى الْحُفَاةَ الْعُرَاةَ الْعَالَةَ رِعَاءَ الشَّاءِ يَتَطَاوَلُونَ فِي الْبُنْيَانِ. ثُمَّ انْطَلَقَ، فَلَبِثْتُ مَلِيًّا، ثُمَّ قَالَ: يَا عُمَرُ أَتَدْرِي مَنْ السَّائِلُ؟. قُلْتُ: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ. قَالَ: فَإِنَّهُ جِبْرِيلُ أَتَاكُمْ يُعَلِّمُكُمْ دِينَكُمْ . [رَوَاهُ مُسْلِمٌ]
حضرت عمرؓ بیان کرتے ہیں کہ ایک دن ہم رسول اللہ ﷺ کے پاس بیٹھے تھے کہ ایک شخص آیا جس کے کپڑے نہایت سفید اور بال نہایت سیاہ تھے، اس پر سفر کا کوئی اثر نہ تھا اور ہم میں سے کوئی اسے پہچانتا نہ تھا۔ وہ نبی ﷺ کے پاس بیٹھ گیا، اپنے گھٹنے آپ کے گھٹنوں سے ملا دیے، ہتھیلیاں اپنی رانوں پر رکھیں اور کہا: اے محمد! مجھے اسلام کے بارے میں بتائیے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: اسلام یہ ہے کہ تم گواہی دو کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں، نماز قائم کرو، زکاۃ دو، رمضان کے روزے رکھو اور استطاعت ہو تو بیت اللہ کا حج کرو۔ اس نے کہا: آپ نے سچ فرمایا۔ ہمیں تعجب ہوا کہ خود پوچھتا ہے اور خود تصدیق بھی کرتا ہے۔ پھر اس نے ایمان، پھر احسان کے بارے میں پوچھا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: احسان یہ ہے کہ تم اللہ کی عبادت اس طرح کرو گویا تم اسے دیکھ رہے ہو، اور اگر تم اسے نہیں دیکھ رہے تو (یہ یقین رکھو کہ) وہ تمہیں دیکھ رہا ہے۔ پھر اس نے قیامت اور اس کی نشانیوں کے بارے میں پوچھا اور چلا گیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: عمر! جانتے ہو یہ سائل کون تھا؟ یہ جبرائیلؑ تھے، تمہیں تمہارا دین سکھانے آئے تھے۔
حدیث نمبر 3

عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: سَمِعْت رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه و سلم يَقُولُ: بُنِيَ الْإِسْلَامُ عَلَى خَمْسٍ: شَهَادَةِ أَنْ لَا إلَهَ إلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، وَإِقَامِ الصَّلَاةِ، وَإِيتَاءِ الزَّكَاةِ، وَحَجِّ الْبَيْتِ، وَصَوْمِ رَمَضَانَ . [رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ] ، [وَمُسْلِمٌ]
اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر رکھی گئی ہے: اس بات کی گواہی دینا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں، نماز قائم کرنا، زکاۃ ادا کرنا، حج کرنا اور رمضان کے روزے رکھنا۔
حدیث نمبر 4

عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: حَدَّثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه و سلم -وَهُوَ الصَّادِقُ الْمَصْدُوقُ-: إنَّ أَحَدَكُمْ يُجْمَعُ خَلْقُهُ فِي بَطْنِ أُمِّهِ أَرْبَعِينَ يَوْمًا نُطْفَةً، ثُمَّ يَكُونُ عَلَقَةً مِثْلَ ذَلِكَ، ثُمَّ يَكُونُ مُضْغَةً مِثْلَ ذَلِكَ، ثُمَّ يُرْسَلُ إلَيْهِ الْمَلَكُ فَيَنْفُخُ فِيهِ الرُّوحَ، وَيُؤْمَرُ بِأَرْبَعِ كَلِمَاتٍ: بِكَتْبِ رِزْقِهِ، وَأَجَلِهِ، وَعَمَلِهِ، وَشَقِيٍّ أَمْ سَعِيدٍ؛ فَوَاَللَّهِ الَّذِي لَا إلَهَ غَيْرُهُ إنَّ أَحَدَكُمْ لَيَعْمَلُ بِعَمَلِ أَهْلِ الْجَنَّةِ حَتَّى مَا يَكُونُ بَيْنَهُ وَبَيْنَهَا إلَّا ذِرَاعٌ فَيَسْبِقُ عَلَيْهِ الْكِتَابُ فَيَعْمَلُ بِعَمَلِ أَهْلِ النَّارِ فَيَدْخُلُهَا. وَإِنَّ أَحَدَكُمْ لَيَعْمَلُ بِعَمَلِ أَهْلِ النَّارِ حَتَّى مَا يَكُونُ بَيْنَهُ وَبَيْنَهَا إلَّا ذِرَاعٌ فَيَسْبِقُ عَلَيْهِ الْكِتَابُ فَيَعْمَلُ بِعَمَلِ أَهْلِ الْجَنَّةِ فَيَدْخُلُهَا . [رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ] ، [وَمُسْلِمٌ]
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم میں سے ہر ایک کی تخلیق ماں کے پیٹ میں چالیس دن نطفہ رہتی ہے، پھر اتنی ہی مدت جما ہوا خون، پھر اتنی ہی مدت گوشت کا لوتھڑا۔ پھر فرشتہ بھیجا جاتا ہے جو اس میں روح پھونکتا ہے اور اسے چار باتیں لکھنے کا حکم ہوتا ہے: اس کا رزق، اس کی عمر، اس کے اعمال اور یہ کہ وہ بدبخت ہوگا یا سعادت مند۔ پھر آپ ﷺ نے فرمایا: تم میں سے کوئی جنتیوں والے اعمال کرتا رہتا ہے یہاں تک کہ اس کے اور جنت کے درمیان صرف ایک ہاتھ کا فاصلہ رہ جاتا ہے، مگر تقدیر سبقت کر جاتی ہے اور وہ جہنمیوں والا عمل کر کے جہنم میں داخل ہو جاتا ہے۔ اور اس کے برعکس بھی ہوتا ہے۔
حدیث نمبر 5

عَنْ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ أُمِّ عَبْدِ اللَّهِ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: قَالَ: رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه و سلم مَنْ أَحْدَثَ فِي أَمْرِنَا هَذَا مَا لَيْسَ مِنْهُ فَهُوَ رَدٌّ [رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ] ،[وَمُسْلِمٌ] وَفِي رِوَايَةٍ لِمُسْلِمٍ: مَنْ عَمِلَ عَمَلًا لَيْسَ عَلَيْهِ أَمْرُنَا فَهُوَ رَدٌّ
جس نے ہمارے اس دین میں کوئی ایسی نئی بات نکالی جو اس میں سے نہیں ہے، تو وہ مردود ہے۔ ایک روایت میں ہے: جس نے کوئی ایسا عمل کیا جس پر ہمارا حکم نہیں، تو وہ مردود ہے۔
حدیث نمبر 6

عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: سَمِعْت رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه و سلم يَقُولُ: إنَّ الْحَلَالَ بَيِّنٌ، وَإِنَّ الْحَرَامَ بَيِّنٌ، وَبَيْنَهُمَا أُمُورٌ مُشْتَبِهَاتٌ لَا يَعْلَمُهُنَّ كَثِيرٌ مِنْ النَّاسِ، فَمَنْ اتَّقَى الشُّبُهَاتِ فَقْد اسْتَبْرَأَ لِدِينِهِ وَعِرْضِهِ، وَمَنْ وَقَعَ فِي الشُّبُهَاتِ وَقَعَ فِي الْحَرَامِ، كَالرَّاعِي يَرْعَى حَوْلَ الْحِمَى يُوشِكُ أَنْ يَرْتَعَ فِيهِ، أَلَا وَإِنَّ لِكُلِّ مَلِكٍ حِمًى، أَلَا وَإِنَّ حِمَى اللَّهِ مَحَارِمُهُ، أَلَا وَإِنَّ فِي الْجَسَدِ مُضْغَةً إذَا صَلَحَتْ صَلَحَ الْجَسَدُ كُلُّهُ، وَإذَا فَسَدَتْ فَسَدَ الْجَسَدُ كُلُّهُ، أَلَا وَهِيَ الْقَلْبُ .
[رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ]، [وَمُسْلِمٌ]
حلال بھی واضح ہے اور حرام بھی واضح ہے، اور ان دونوں کے درمیان مشتبہ چیزیں ہیں جنہیں بہت سے لوگ نہیں جانتے۔ پس جو مشتبہ چیزوں سے بچا، اس نے اپنے دین اور اپنی عزت کو محفوظ کر لیا، اور جو مشتبہ چیزوں میں پڑا وہ حرام میں جا پڑا — اس چرواہے کی طرح جو چراگاہ کے آس پاس چراتا ہے، قریب ہے کہ اس میں داخل ہو جائے۔ خبردار! ہر بادشاہ کی ایک محفوظ چراگاہ ہوتی ہے، اور اللہ کی محفوظ چراگاہ اس کی حرام کردہ چیزیں ہیں۔ خبردار! جسم میں گوشت کا ایک ٹکڑا ہے، جب وہ درست ہو تو سارا جسم درست ہو جاتا ہے اور جب وہ بگڑ جائے تو سارا جسم بگڑ جاتا ہے — خبردار! وہ دل ہے۔
حدیث نمبر 7

عَنْ أَبِي رُقَيَّةَ تَمِيمِ بْنِ أَوْسٍ الدَّارِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ: "الدِّينُ النَّصِيحَةُ.” قُلْنَا: لِمَنْ؟ قَالَ: "لِلَّهِ، وَلِكِتَابِهِ، وَلِرَسُولِهِ، وَلِأَئِمَّةِ الْمُسْلِمِينَ وَعَامَّتِهِمْ.” [رَوَاهُ مُسْلِمٌ]
دین سراپا خیر خواہی ہے۔ ہم نے عرض کیا: کس کے لیے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: اللہ کے لیے، اس کی کتاب کے لیے، اس کے رسول کے لیے، مسلمانوں کے اماموں (حکمرانوں) کے لیے اور ان کے عام لوگوں کے لیے۔
حدیث نمبر 8

عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه و سلم قَالَ: أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَشْهَدُوا أَنْ لَا إلَهَ إلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، وَيُقِيمُوا الصَّلَاةَ، وَيُؤْتُوا الزَّكَاةَ؛ فَإِذَا فَعَلُوا ذَلِكَ عَصَمُوا مِنِّي دِمَاءَهُمْ وَأَمْوَالَهُمْ إلَّا بِحَقِّ الْإِسْلَامِ، وَحِسَابُهُمْ عَلَى اللَّهِ تَعَالَى .
[رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ] ،[وَمُسْلِمٌ]
مجھے حکم دیا گیا ہے کہ لوگوں سے اس وقت تک قتال کروں جب تک وہ گواہی نہ دیں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں، نماز قائم کریں اور زکاۃ ادا کریں۔ جب وہ یہ کر لیں تو انہوں نے مجھ سے اپنے خون اور مال محفوظ کر لیے، مگر اسلام کے حق کے تحت، اور ان کا حساب اللہ کے ذمے ہے۔
حدیث نمبر 9

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ صَخْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: سَمِعْت رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه و سلم يَقُولُ: مَا نَهَيْتُكُمْ عَنْهُ فَاجْتَنِبُوهُ، وَمَا أَمَرْتُكُمْ بِهِ فَأْتُوا مِنْهُ مَا اسْتَطَعْتُمْ، فَإِنَّمَا أَهْلَكَ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِكُمْ كَثْرَةُ مَسَائِلِهِمْ وَاخْتِلَافُهُمْ عَلَى أَنْبِيَائِهِمْ .
[رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ] ،[وَمُسْلِمٌ]
جس چیز سے میں تمہیں منع کروں اس سے باز رہو، اور جس چیز کا میں تمہیں حکم دوں اسے اپنی طاقت کے مطابق بجا لاؤ۔ تم سے پہلے لوگ اسی لیے ہلاک ہوئے کہ وہ بہت سوالات کرتے تھے اور اپنے انبیاء سے اختلاف کرتے تھے۔
حدیث نمبر 10

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه و سلم "إنَّ اللَّهَ طَيِّبٌ لَا يَقْبَلُ إلَّا طَيِّبًا، وَإِنَّ اللَّهَ أَمَرَ الْمُؤْمِنِينَ بِمَا أَمَرَ بِهِ الْمُرْسَلِينَ فَقَالَ تَعَالَى: "يَا أَيُّهَا الرُّسُلُ كُلُوا مِنْ الطَّيِّبَاتِ وَاعْمَلُوا صَالِحًا”، وَقَالَ تَعَالَى: "يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُلُوا مِنْ طَيِّبَاتِ مَا رَزَقْنَاكُمْ” ثُمَّ ذَكَرَ الرَّجُلَ يُطِيلُ السَّفَرَ أَشْعَثَ أَغْبَرَ يَمُدُّ يَدَيْهِ إلَى السَّمَاءِ: يَا رَبِّ! يَا رَبِّ! وَمَطْعَمُهُ حَرَامٌ، وَمَشْرَبُهُ حَرَامٌ، وَمَلْبَسُهُ حَرَامٌ، وَغُذِّيَ بِالْحَرَامِ، فَأَنَّى يُسْتَجَابُ لَهُ؟”. [رَوَاهُ مُسْلِمٌ]
بے شک اللہ تعالیٰ پاک ہے اور صرف پاک چیز ہی قبول فرماتا ہے۔ اور اللہ نے مومنوں کو بھی اسی چیز کا حکم دیا ہے جس کا رسولوں کو حکم دیا۔ پھر آپ ﷺ نے ایک شخص کا ذکر کیا جو لمبا سفر کرتا ہے، اس کے بال پراگندہ اور جسم غبار آلود ہوتا ہے، وہ آسمان کی طرف ہاتھ پھیلا کر کہتا ہے: اے میرے رب! اے میرے رب! حالانکہ اس کا کھانا حرام کا ہے، پینا حرام کا ہے، لباس حرام کا ہے اور اس کی پرورش حرام سے ہوئی ہے — تو اس کی دعا کیسے قبول ہو؟
حدیث نمبر 11

عَنْ أَبِي مُحَمَّدٍ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ سِبْطِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه و سلم وَرَيْحَانَتِهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: حَفِظْت مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه و سلم دَعْ مَا يُرِيبُك إلَى مَا لَا يُرِيبُك . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ [رقم:2520]، [وَالنَّسَائِيّ] وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ: حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ
جو چیز تمہیں شک میں ڈالے اسے چھوڑ دو اور وہ اختیار کرو جو تمہیں شک میں نہ ڈالے۔
حدیث نمبر 12

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه و سلم مِنْ حُسْنِ إسْلَامِ الْمَرْءِ تَرْكُهُ مَا لَا يَعْنِيهِ . حَدِيثٌ حَسَنٌ، رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ [رقم: 2318] ، ابن ماجه [رقم:]
آدمی کے اسلام کی خوبی یہ ہے کہ وہ بے مقصد اور بے فائدہ باتیں چھوڑ دے۔
حدیث نمبر 13

عَنْ أَبِي حَمْزَةَ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ خَادِمِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه و سلم عَنْ النَّبِيِّ صلى الله عليه و سلم قَالَ: لَا يُؤْمِنُ أَحَدُكُمْ حَتَّى يُحِبَّ لِأَخِيهِ مَا يُحِبُّ لِنَفْسِهِ . رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ [رقم:13]، وَمُسْلِمٌ [رقم:45].
[رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ] ، [وَمُسْلِمٌ]
تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک (کامل) مومن نہیں ہو سکتا جب تک اپنے بھائی کے لیے بھی وہی پسند نہ کرے جو اپنے لیے پسند کرتا ہے۔
حدیث نمبر 14

عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه و سلم لَا يَحِلُّ دَمُ امْرِئٍ مُسْلِمٍ [ يشهد أن لا إله إلا الله، وأني رسول الله] إلَّا بِإِحْدَى ثَلَاثٍ: الثَّيِّبُ الزَّانِي، وَالنَّفْسُ بِالنَّفْسِ، وَالتَّارِكُ لِدِينِهِ الْمُفَارِقُ لِلْجَمَاعَةِ .
[رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ] ، [وَمُسْلِمٌ]
کسی مسلمان کا خون حلال نہیں — جو گواہی دیتا ہو کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں اللہ کا رسول ہوں — مگر تین صورتوں میں: شادی شدہ زانی، جان کے بدلے جان (قاتل)، اور دین کو چھوڑ کر جماعت سے الگ ہونے والا (مرتد)۔
حدیث نمبر 15

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه و سلم قَالَ: مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاَللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلْيَقُلْ خَيْرًا أَوْ لِيَصْمُتْ، وَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاَللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلْيُكْرِمْ جَارَهُ، وَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاَللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلْيُكْرِمْ ضَيْفَهُ .
[رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ] ، [وَمُسْلِمٌ]
جو شخص اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہے وہ اچھی بات کہے یا خاموش رہے۔ اور جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہے وہ اپنے پڑوسی کی تکریم کرے (اسے ایذا نہ دے)۔ اور جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہے وہ اپنے مہمان کی تکریم کرے۔
حدیث نمبر 16

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ رَجُلًا قَالَ لِلنَّبِيِّ صلى الله عليه و سلم أَوْصِنِي. قَالَ: لَا تَغْضَبْ، فَرَدَّدَ مِرَارًا، قَالَ: لَا تَغْضَبْ” .
[رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ]
ایک شخص نے نبی ﷺ سے عرض کیا: مجھے نصیحت کیجیے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: غصہ نہ کیا کرو۔ اس نے کئی بار یہی سوال دہرایا، آپ ﷺ نے ہر بار فرمایا: غصہ نہ کیا کرو۔
حدیث نمبر 17

عَنْ أَبِي يَعْلَى شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه و سلم قَالَ: إنَّ اللَّهَ كَتَبَ الْإِحْسَانَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ، فَإِذَا قَتَلْتُمْ فَأَحْسِنُوا الْقِتْلَةَ، وَإِذَا ذَبَحْتُمْ فَأَحْسِنُوا الذِّبْحَةَ، وَلْيُحِدَّ أَحَدُكُمْ شَفْرَتَهُ، وَلْيُرِحْ ذَبِيحَتَهُ . [رَوَاهُ مُسْلِمٌ]
بے شک اللہ نے ہر چیز کے ساتھ احسان (بہترین سلوک) فرض کر دیا ہے۔ پس جب تم قتل کرو (قصاص وغیرہ میں) تو اچھے طریقے سے کرو، اور جب ذبح کرو تو اچھے طریقے سے ذبح کرو؛ تم میں سے ہر ایک اپنی چھری تیز کر لے اور اپنے ذبیحے کو آرام پہنچائے۔
حدیث نمبر 18

عَنْ أَبِي ذَرٍّ جُنْدَبِ بْنِ جُنَادَةَ، وَأَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه و سلم قَالَ: اتَّقِ اللَّهَ حَيْثُمَا كُنْت، وَأَتْبِعْ السَّيِّئَةَ الْحَسَنَةَ تَمْحُهَا، وَخَالِقْ النَّاسَ بِخُلُقٍ حَسَنٍ . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ [رقم:1987] وَقَالَ: حَدِيثٌ حَسَنٌ، وَفِي بَعْضِ النُّسَخِ: حَسَنٌ صَحِيحٌ
جہاں کہیں بھی ہو اللہ سے ڈرو، برائی کے بعد نیکی کر لو، وہ اسے مٹا دے گی، اور لوگوں سے اچھے اخلاق کے ساتھ پیش آؤ۔
حدیث نمبر 19

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: "كُنْت خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه و سلم يَوْمًا، فَقَالَ: يَا غُلَامِ! إنِّي أُعَلِّمُك كَلِمَاتٍ: احْفَظْ اللَّهَ يَحْفَظْك، احْفَظْ اللَّهَ تَجِدْهُ تُجَاهَك، إذَا سَأَلْت فَاسْأَلْ اللَّهَ، وَإِذَا اسْتَعَنْت فَاسْتَعِنْ بِاَللَّهِ، وَاعْلَمْ أَنَّ الْأُمَّةَ لَوْ اجْتَمَعَتْ عَلَى أَنْ يَنْفَعُوك بِشَيْءٍ لَمْ يَنْفَعُوك إلَّا بِشَيْءٍ قَدْ كَتَبَهُ اللَّهُ لَك، وَإِنْ اجْتَمَعُوا عَلَى أَنْ يَضُرُّوك بِشَيْءٍ لَمْ يَضُرُّوك إلَّا بِشَيْءٍ قَدْ كَتَبَهُ اللَّهُ عَلَيْك؛ رُفِعَتْ الْأَقْلَامُ، وَجَفَّتْ الصُّحُفُ” . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ [رقم:2516] وَقَالَ: حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ. وَفِي رِوَايَةِ غَيْرِ التِّرْمِذِيِّ: "احْفَظْ اللَّهَ تَجِدْهُ أمامك، تَعَرَّفْ إلَى اللَّهِ فِي الرَّخَاءِ يَعْرِفُك فِي الشِّدَّةِ، وَاعْلَمْ أَنَّ مَا أَخْطَأَك لَمْ يَكُنْ لِيُصِيبَك، وَمَا أَصَابَك لَمْ يَكُنْ لِيُخْطِئَك، وَاعْلَمْ أَنَّ النَّصْرَ مَعَ الصَّبْرِ، وَأَنَّ الْفَرَجَ مَعَ الْكَرْبِ، وَأَنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا
حضرت ابن عباسؓ کہتے ہیں: ایک دن میں رسول اللہ ﷺ کے پیچھے (سواری پر) تھا، آپ ﷺ نے فرمایا: اے لڑکے! میں تمہیں چند باتیں سکھاتا ہوں: اللہ (کے احکام) کی حفاظت کرو، اللہ تمہاری حفاظت فرمائے گا۔ اللہ کی حفاظت کرو، اسے اپنے سامنے پاؤ گے۔ جب مانگو تو اللہ ہی سے مانگو، اور جب مدد چاہو تو اللہ ہی سے مدد چاہو۔ اور جان لو کہ اگر ساری امت جمع ہو کر تمہیں کوئی فائدہ پہنچانا چاہے تو وہ تمہیں صرف اتنا ہی فائدہ پہنچا سکے گی جتنا اللہ نے تمہارے لیے لکھ دیا ہے، اور اگر وہ تمہیں نقصان پہنچانے پر جمع ہو جائے تو صرف اتنا ہی نقصان پہنچا سکے گی جتنا اللہ نے لکھ دیا ہے۔ قلم اٹھا لیے گئے ہیں اور صحیفے خشک ہو چکے ہیں۔
حدیث نمبر 20

عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ عُقْبَةَ بْنِ عَمْرٍو الْأَنْصَارِيِّ الْبَدْرِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه و سلم إنَّ مِمَّا أَدْرَكَ النَّاسُ مِنْ كَلَامِ النُّبُوَّةِ الْأُولَى: إذَا لَمْ تَسْتَحِ فَاصْنَعْ مَا شِئْت .
[رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ]
پہلے انبیاء کی تعلیمات میں سے جو بات لوگوں کو ملی ہے وہ یہ ہے: جب تم میں حیا نہ رہے تو جو چاہو کرو۔
حدیث نمبر 21

عَنْ أَبِي عَمْرٍو وَقِيلَ: أَبِي عَمْرَةَ سُفْيَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قُلْت: يَا رَسُولَ اللَّهِ! قُلْ لِي فِي الْإِسْلَامِ قَوْلًا لَا أَسْأَلُ عَنْهُ أَحَدًا غَيْرَك؛ قَالَ: قُلْ: آمَنْت بِاَللَّهِ ثُمَّ اسْتَقِمْ . [رَوَاهُ مُسْلِمٌ]
حضرت سفیان بن عبداللہؓ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! مجھے اسلام کے بارے میں ایسی بات بتا دیجیے کہ آپ کے بعد کسی سے نہ پوچھوں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: کہو: میں اللہ پر ایمان لایا، پھر اس پر ثابت قدم رہو۔
حدیث نمبر 22

عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا: أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه و سلم فَقَالَ: أَرَأَيْت إذَا صَلَّيْت الْمَكْتُوبَاتِ، وَصُمْت رَمَضَانَ، وَأَحْلَلْت الْحَلَالَ، وَحَرَّمْت الْحَرَامَ، وَلَمْ أَزِدْ عَلَى ذَلِكَ شَيْئًا؛ أَأَدْخُلُ الْجَنَّةَ؟ قَالَ: نَعَمْ . [رَوَاهُ مُسْلِمٌ]
ایک شخص نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا: اگر میں فرض نمازیں پڑھوں، رمضان کے روزے رکھوں، حلال کو حلال اور حرام کو حرام سمجھوں اور اس سے زیادہ کچھ نہ کروں، تو کیا میں جنت میں داخل ہو جاؤں گا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ہاں۔
حدیث نمبر 23

عَنْ أَبِي مَالِكٍ الْحَارِثِ بْنِ عَاصِمٍ الْأَشْعَرِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه و سلم الطَّهُورُ شَطْرُ الْإِيمَانِ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ تَمْلَأُ الْمِيزَانَ، وَسُبْحَانَ اللَّهِ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ تَمْلَآنِ -أَوْ: تَمْلَأُ- مَا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ، وَالصَّلَاةُ نُورٌ، وَالصَّدَقَةُ بُرْهَانٌ، وَالصَّبْرُ ضِيَاءٌ، وَالْقُرْآنُ حُجَّةٌ لَك أَوْ عَلَيْك، كُلُّ النَّاسِ يَغْدُو، فَبَائِعٌ نَفْسَهُ فَمُعْتِقُهَا أَوْ مُوبِقُهَا . [رَوَاهُ مُسْلِمٌ]
پاکیزگی ایمان کا نصف حصہ ہے۔ «الحمد للہ» میزان کو بھر دیتا ہے۔ «سبحان اللہ» اور «الحمد للہ» دونوں آسمان و زمین کے درمیان خلا کو بھر دیتے ہیں۔ نماز نور ہے، صدقہ دلیل ہے، صبر روشنی ہے، اور قرآن تمہارے حق میں حجت ہے یا تمہارے خلاف۔ ہر انسان صبح کرتا ہے تو اپنی جان کا سودا کرتا ہے: کوئی اسے آزاد کر لیتا ہے اور کوئی اسے ہلاک کر دیتا ہے۔
حدیث نمبر 24

عَنْ أَبِي ذَرٍّ الْغِفَارِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَنْ النَّبِيِّ صلى الله عليه و سلم فِيمَا يَرْوِيهِ عَنْ رَبِّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى، أَنَّهُ قَالَ: يَا عِبَادِي: إنِّي حَرَّمْت الظُّلْمَ عَلَى نَفْسِي، وَجَعَلْته بَيْنَكُمْ مُحَرَّمًا؛ فَلَا تَظَالَمُوا. يَا عِبَادِي! كُلُّكُمْ ضَالٌّ إلَّا مَنْ هَدَيْته، فَاسْتَهْدُونِي أَهْدِكُمْ. يَا عِبَادِي! كُلُّكُمْ جَائِعٌ إلَّا مَنْ أَطْعَمْته، فَاسْتَطْعِمُونِي أُطْعِمْكُمْ. يَا عِبَادِي! كُلُّكُمْ عَارٍ إلَّا مَنْ كَسَوْته، فَاسْتَكْسُونِي أَكْسُكُمْ. يَا عِبَادِي! إنَّكُمْ تُخْطِئُونَ بِاللَّيْلِ وَالنَّهَارِ، وَأَنَا أَغْفِرُ الذُّنُوبَ جَمِيعًا؛ فَاسْتَغْفِرُونِي أَغْفِرْ لَكُمْ. يَا عِبَادِي! إنَّكُمْ لَنْ تَبْلُغُوا ضُرِّي فَتَضُرُّونِي، وَلَنْ تَبْلُغُوا نَفْعِي فَتَنْفَعُونِي. يَا عِبَادِي! لَوْ أَنَّ أَوَّلَكُمْ وَآخِرَكُمْ وَإِنْسَكُمْ وَجِنَّكُمْ كَانُوا عَلَى أَتْقَى قَلْبِ رَجُلٍ وَاحِدٍ مِنْكُمْ، مَا زَادَ ذَلِكَ فِي مُلْكِي شَيْئًا. يَا عِبَادِي! لَوْ أَنَّ أَوَّلَكُمْ وَآخِرَكُمْ وَإِنْسَكُمْ وَجِنَّكُمْ كَانُوا عَلَى أَفْجَرِ قَلْبِ رَجُلٍ وَاحِدٍ مِنْكُمْ، مَا نَقَصَ ذَلِكَ مِنْ مُلْكِي شَيْئًا. يَا عِبَادِي! لَوْ أَنَّ أَوَّلَكُمْ وَآخِرَكُمْ وَإِنْسَكُمْ وَجِنَّكُمْ قَامُوا فِي صَعِيدٍ وَاحِدٍ، فَسَأَلُونِي، فَأَعْطَيْت كُلَّ وَاحِدٍ مَسْأَلَته، مَا نَقَصَ ذَلِكَ مِمَّا عِنْدِي إلَّا كَمَا يَنْقُصُ الْمِخْيَطُ إذَا أُدْخِلَ الْبَحْرَ. يَا عِبَادِي! إنَّمَا هِيَ أَعْمَالُكُمْ أُحْصِيهَا لَكُمْ، ثُمَّ أُوَفِّيكُمْ إيَّاهَا؛ فَمَنْ وَجَدَ خَيْرًا فَلْيَحْمَدْ اللَّهَ، وَمَنْ وَجَدَ غَيْرَ ذَلِكَ فَلَا يَلُومَن إلَّا نَفْسَهُ . [رَوَاهُ مُسْلِمٌ]
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: اے میرے بندو! میں نے ظلم کو اپنے اوپر حرام کر لیا ہے اور اسے تمہارے درمیان بھی حرام ٹھہرا دیا ہے، پس ایک دوسرے پر ظلم نہ کرو۔ اے میرے بندو! تم سب گمراہ ہو سوائے اس کے جسے میں ہدایت دوں، پس مجھ سے ہدایت مانگو، میں تمہیں ہدایت دوں گا۔ اے میرے بندو! تم سب بھوکے ہو سوائے اس کے جسے میں کھلاؤں، پس مجھ سے کھانا مانگو، میں تمہیں کھلاؤں گا۔ اے میرے بندو! تم رات دن خطائیں کرتے ہو اور میں تمام گناہ بخشتا ہوں، پس مجھ سے بخشش مانگو، میں تمہیں بخش دوں گا۔ اے میرے بندو! یہ تمہارے اعمال ہیں جنہیں میں تمہارے لیے شمار کر کے رکھتا ہوں، پھر تمہیں ان کا پورا بدلہ دوں گا؛ پس جو بھلائی پائے وہ اللہ کی حمد کرے، اور جو اس کے سوا پائے وہ صرف اپنے آپ کو ملامت کرے۔
حدیث نمبر 25

عَنْ أَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَيْضًا، أَنَّ نَاسًا مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه و سلم قَالُوا لِلنَّبِيِّ صلى الله عليه و سلم يَا رَسُولَ اللَّهِ ذَهَبَ أَهْلُ الدُّثُورِ بِالْأُجُورِ؛ يُصَلُّونَ كَمَا نُصَلِّي، وَيَصُومُونَ كَمَا نَصُومُ، وَيَتَصَدَّقُونَ بِفُضُولِ أَمْوَالِهِمْ. قَالَ: أَوَلَيْسَ قَدْ جَعَلَ اللَّهُ لَكُمْ مَا تَصَّدَّقُونَ؟ إنَّ بِكُلِّ تَسْبِيحَةٍ صَدَقَةً، وَكُلِّ تَكْبِيرَةٍ صَدَقَةً، وَكُلِّ تَحْمِيدَةٍ صَدَقَةً، وَكُلِّ تَهْلِيلَةٍ صَدَقَةً، وَأَمْرٌ بِمَعْرُوفٍ صَدَقَةٌ، وَنَهْيٌ عَنْ مُنْكَرٍ صَدَقَةٌ، وَفِي بُضْعِ أَحَدِكُمْ صَدَقَةٌ. قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيَأْتِي أَحَدُنَا شَهْوَتَهُ وَيَكُونُ لَهُ فِيهَا أَجْرٌ؟ قَالَ: أَرَأَيْتُمْ لَوْ وَضَعَهَا فِي حَرَامٍ أَكَانَ عَلَيْهِ وِزْرٌ؟ فَكَذَلِكَ إذَا وَضَعَهَا فِي الْحَلَالِ، كَانَ لَهُ أَجْرٌ . [رَوَاهُ مُسْلِمٌ]
کچھ صحابہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! مالدار لوگ اجر لے گئے؛ وہ نماز پڑھتے ہیں جیسے ہم پڑھتے ہیں، روزے رکھتے ہیں جیسے ہم رکھتے ہیں، اور اپنے زائد مال سے صدقہ بھی کرتے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: کیا اللہ نے تمہارے لیے بھی صدقے کے ذرائع نہیں بنائے؟ ہر تسبیح صدقہ ہے، ہر تکبیر صدقہ ہے، ہر تحمید صدقہ ہے، ہر تہلیل صدقہ ہے، نیکی کا حکم صدقہ ہے، برائی سے روکنا صدقہ ہے، اور بیوی کے پاس (حلال طریقے سے) جانا بھی صدقہ ہے۔ صحابہ نے عرض کیا: کیا اپنی خواہش پوری کرنے پر بھی اجر ملے گا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: بتاؤ، اگر وہ اسے حرام جگہ استعمال کرتا تو گناہ ہوتا یا نہیں؟ اسی طرح جب اسے حلال جگہ استعمال کرے تو اجر ہے۔
حدیث نمبر 26

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه و سلم كُلُّ سُلَامَى مِنْ النَّاسِ عَلَيْهِ صَدَقَةٌ، كُلَّ يَوْمٍ تَطْلُعُ فِيهِ الشَّمْسُ تَعْدِلُ بَيْنَ اثْنَيْنِ صَدَقَةٌ، وَتُعِينُ الرَّجُلَ فِي دَابَّتِهِ فَتَحْمِلُهُ عَلَيْهَا أَوْ تَرْفَعُ لَهُ عَلَيْهَا مَتَاعَهُ صَدَقَةٌ، وَالْكَلِمَةُ الطَّيِّبَةُ صَدَقَةٌ، وَبِكُلِّ خُطْوَةٍ تَمْشِيهَا إلَى الصَّلَاةِ صَدَقَةٌ، وَتُمِيطُ الْأَذَى عَنْ الطَّرِيقِ صَدَقَةٌ .
[رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ] ، [وَمُسْلِمٌ]
ہر انسان کے جوڑ جوڑ پر ہر دن صدقہ لازم ہے جس دن سورج طلوع ہوتا ہے: دو آدمیوں کے درمیان انصاف کرنا صدقہ ہے، کسی کی سواری پر مدد کرنا یا اس کا سامان اٹھوا دینا صدقہ ہے، اچھی بات صدقہ ہے، نماز کی طرف اٹھنے والا ہر قدم صدقہ ہے، اور راستے سے تکلیف دہ چیز ہٹا دینا صدقہ ہے۔
حدیث نمبر 27

عَنْ النَّوَّاسِ بْنِ سَمْعَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَنْ النَّبِيِّ صلى الله عليه و سلم قَالَ: "الْبِرُّ حُسْنُ الْخُلُقِ، وَالْإِثْمُ مَا حَاكَ فِي صَدْرِك، وَكَرِهْت أَنْ يَطَّلِعَ عَلَيْهِ النَّاسُ” رَوَاهُ مُسْلِمٌ [رَوَاهُ مُسْلِمٌ]. وَعَنْ وَابِصَةَ بْنِ مَعْبَدٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: أَتَيْت رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه و سلم فَقَالَ: "جِئْتَ تَسْأَلُ عَنْ الْبِرِّ؟ قُلْت: نَعَمْ. فقَالَ: استفت قلبك، الْبِرُّ مَا اطْمَأَنَّتْ إلَيْهِ النَّفْسُ، وَاطْمَأَنَّ إلَيْهِ الْقَلْبُ، وَالْإِثْمُ مَا حَاكَ فِي النَّفْسِ وَتَرَدَّدَ فِي الصَّدْرِ، وَإِنْ أَفْتَاك النَّاسُ وَأَفْتَوْك” . حَدِيثٌ حَسَنٌ، رَوَيْنَاهُ في مُسْنَدَي الْإِمَامَيْنِ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ [رقم:4/227]، وَالدَّارِمِيّ [2/246] بِإِسْنَادٍ حَسَنٍ
نیکی اچھے اخلاق کا نام ہے، اور گناہ وہ ہے جو تمہارے دل میں کھٹکے اور تم نہ چاہو کہ لوگوں کو اس کا علم ہو۔ (وابصہ بن معبدؓ سے روایت میں مزید فرمایا: اپنے دل سے فتویٰ لو — نیکی وہ ہے جس پر نفس اور دل مطمئن ہو، اور گناہ وہ ہے جو دل میں کھٹکے اور سینے میں متردد رہے، اگرچہ لوگ تمہیں اس کے جواز کا فتویٰ دیں۔)
حدیث نمبر 28

عَنْ أَبِي نَجِيحٍ الْعِرْبَاضِ بْنِ سَارِيَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: وَعَظَنَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه و سلم مَوْعِظَةً وَجِلَتْ مِنْهَا الْقُلُوبُ، وَذَرَفَتْ مِنْهَا الْعُيُونُ، فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ! كَأَنَّهَا مَوْعِظَةُ مُوَدِّعٍ فَأَوْصِنَا، قَالَ: أُوصِيكُمْ بِتَقْوَى اللَّهِ، وَالسَّمْعِ وَالطَّاعَةِ وَإِنْ تَأَمَّرَ عَلَيْكُمْ عَبْدٌ، فَإِنَّهُ مَنْ يَعِشْ مِنْكُمْ فَسَيَرَى اخْتِلَافًا كَثِيرًا، فَعَلَيْكُمْ بِسُنَّتِي وَسُنَّةِ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ الْمَهْدِيينَ، عَضُّوا عَلَيْهَا بِالنَّوَاجِذِ، وَإِيَّاكُمْ وَمُحْدَثَاتِ الْأُمُورِ؛ فَإِنَّ كُلَّ بِدْعَةٍ ضَلَالَةٌ . [رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ]، وَاَلتِّرْمِذِيُّ [رقم:266] وَقَالَ: حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ
رسول اللہ ﷺ نے ہمیں ایسی نصیحت فرمائی کہ اس سے دل لرز گئے اور آنکھیں بہہ پڑیں۔ ہم نے عرض کیا: یا رسول اللہ! یہ تو کسی رخصت کرنے والے کی نصیحت لگتی ہے، ہمیں وصیت کیجیے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: میں تمہیں اللہ کے تقویٰ کی وصیت کرتا ہوں، اور (امیر کی بات) سننے اور اطاعت کی، اگرچہ تم پر کوئی غلام ہی امیر بن جائے۔ تم میں سے جو زندہ رہے گا وہ بہت اختلاف دیکھے گا، پس میری سنت اور ہدایت یافتہ خلفائے راشدین کی سنت کو لازم پکڑنا، اسے دانتوں سے مضبوطی سے تھامے رکھنا، اور نئی ایجادات سے بچنا، کیونکہ ہر بدعت گمراہی ہے۔
حدیث نمبر 29

عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قُلْت يَا رَسُولَ اللَّهِ! أَخْبِرْنِي بِعَمَلٍ يُدْخِلُنِي الْجَنَّةَ وَيُبَاعِدْنِي مِنْ النَّارِ، قَالَ: "لَقَدْ سَأَلْت عَنْ عَظِيمٍ، وَإِنَّهُ لَيَسِيرٌ عَلَى مَنْ يَسَّرَهُ اللَّهُ عَلَيْهِ: تَعْبُدُ اللَّهَ لَا تُشْرِكْ بِهِ شَيْئًا، وَتُقِيمُ الصَّلَاةَ، وَتُؤْتِي الزَّكَاةَ، وَتَصُومُ رَمَضَانَ، وَتَحُجُّ الْبَيْتَ، ثُمَّ قَالَ: أَلَا أَدُلُّك عَلَى أَبْوَابِ الْخَيْرِ؟ الصَّوْمُ جُنَّةٌ، وَالصَّدَقَةُ تُطْفِئُ الْخَطِيئَةَ كَمَا يُطْفِئُ الْمَاءُ النَّارَ، وَصَلَاةُ الرَّجُلِ فِي جَوْفِ اللَّيْلِ، ثُمَّ تَلَا: ” تَتَجَافَى جُنُوبُهُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ ” حَتَّى بَلَغَ "يَعْمَلُونَ”،[ 32 سورة السجدة / الأيتان : 16 و 17 ] ثُمَّ قَالَ: أَلَا أُخْبِرُك بِرَأْسِ الْأَمْرِ وَعَمُودِهِ وَذُرْوَةِ سَنَامِهِ؟ قُلْت: بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ. قَالَ: رَأْسُ الْأَمْرِ الْإِسْلَامُ، وَعَمُودُهُ الصَّلَاةُ، وَذُرْوَةُ سَنَامِهِ الْجِهَادُ، ثُمَّ قَالَ: أَلَا أُخْبِرُك بِمَلَاكِ ذَلِكَ كُلِّهِ؟ فقُلْت: بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ ! فَأَخَذَ بِلِسَانِهِ وَقَالَ: كُفَّ عَلَيْك هَذَا. قُلْت: يَا نَبِيَّ اللَّهِ وَإِنَّا لَمُؤَاخَذُونَ بِمَا نَتَكَلَّمُ بِهِ؟ فَقَالَ: ثَكِلَتْك أُمُّك وَهَلْ يَكُبُّ النَّاسَ عَلَى وُجُوهِهِمْ -أَوْ قَالَ عَلَى مَنَاخِرِهِمْ- إلَّا حَصَائِدُ أَلْسِنَتِهِمْ؟!” . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ [رقم:2616] وَقَالَ: حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ
حضرت معاذؓ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! مجھے ایسا عمل بتائیے جو مجھے جنت میں داخل کر دے اور جہنم سے دور رکھے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: تم نے بڑی بات پوچھی ہے، مگر یہ اس کے لیے آسان ہے جس کے لیے اللہ آسان کر دے: اللہ کی عبادت کرو، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ، نماز قائم کرو، زکاۃ دو، رمضان کے روزے رکھو اور حج کرو۔ پھر فرمایا: کیا میں تمہیں خیر کے دروازے نہ بتاؤں؟ روزہ ڈھال ہے، صدقہ گناہ کو ایسے بجھاتا ہے جیسے پانی آگ کو، اور آدھی رات کو آدمی کی نماز۔ پھر فرمایا: اصل چیز اسلام ہے، اس کا ستون نماز ہے اور اس کی چوٹی جہاد ہے۔ پھر اپنی زبان پکڑ کر فرمایا: یہ سب کچھ حاصل کرنے کی کنجی اسے روکنا ہے۔ لوگوں کو ان کے چہروں کے بل جہنم میں گرانے والی چیز ان کی زبانوں کی کاٹی ہوئی فصل ہی ہے۔
حدیث نمبر 30

عَنْ أَبِي ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيِّ جُرْثُومِ بن نَاشِر رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه و سلم قَال: "إنَّ اللَّهَ تَعَالَى فَرَضَ فَرَائِضَ فَلَا تُضَيِّعُوهَا، وَحَدَّ حُدُودًا فَلَا تَعْتَدُوهَا، وَحَرَّمَ أَشْيَاءَ فَلَا تَنْتَهِكُوهَا، وَسَكَتَ عَنْ أَشْيَاءَ رَحْمَةً لَكُمْ غَيْرَ نِسْيَانٍ فَلَا تَبْحَثُوا عَنْهَا”. حَدِيثٌ حَسَنٌ، رَوَاهُ الدَّارَقُطْنِيّ ْ”في سننه” [4/184]، وَغَيْرُهُ
بے شک اللہ تعالیٰ نے کچھ فرائض مقرر کیے ہیں، انہیں ضائع نہ کرو؛ کچھ حدیں مقرر کیں، ان سے تجاوز نہ کرو؛ کچھ چیزیں حرام کیں، ان کی بے حرمتی نہ کرو؛ اور کچھ چیزوں کے بارے میں — تم پر رحمت کے طور پر، بھول کر نہیں — خاموشی اختیار کی، پس ان کے بارے میں بحث و تلاش نہ کرو۔
حدیث نمبر 31

عَنْ أَبِي الْعَبَّاسِ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه و سلم فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ! دُلَّنِي عَلَى عَمَلٍ إذَا عَمِلْتُهُ أَحَبَّنِي اللهُ وَأَحَبَّنِي النَّاسُ؛ فَقَالَ: ازْهَدْ فِي الدُّنْيَا يُحِبَّك اللهُ، وَازْهَدْ فِيمَا عِنْدَ النَّاسِ يُحِبَّك النَّاسُ . حديث حسن، رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ [رقم:4102]، وَغَيْرُهُ بِأَسَانِيدَ حَسَنَةٍ
ایک شخص نے نبی ﷺ سے عرض کیا: مجھے ایسا عمل بتائیے جسے کرنے سے اللہ بھی مجھ سے محبت کرے اور لوگ بھی۔ آپ ﷺ نے فرمایا: دنیا میں زہد اختیار کرو، اللہ تم سے محبت کرے گا؛ اور جو کچھ لوگوں کے پاس ہے اس میں زہد (بے رغبتی) اختیار کرو، لوگ تم سے محبت کریں گے۔
حدیث نمبر 32

عَنْ أَبِي سَعِيدٍ سَعْدِ بْنِ مَالِكِ بْنِ سِنَانٍ الْخُدْرِيّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه و سلم قَالَ: ” لَا ضَرَرَ وَلَا ضِرَارَ” . حَدِيثٌ حَسَنٌ، رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ [راجع رقم:2341]، وَالدَّارَقُطْنِيّ [رقم:4/228]، وَغَيْرُهُمَا مُسْنَدًا. وَرَوَاهُ مَالِكٌ [2/746] فِي "الْمُوَطَّإِ” عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى عَنْ أَبِيهِ عَنْ النَّبِيِّ صلى الله عليه و سلم مُرْسَلًا، فَأَسْقَطَ أَبَا سَعِيدٍ، وَلَهُ طُرُقٌ يُقَوِّي بَعْضُهَا بَعْضًا
نہ (بلاوجہ) نقصان پہنچاؤ اور نہ نقصان کے بدلے نقصان پہنچاؤ۔
حدیث نمبر 33

عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه و سلم قَالَ: "لَوْ يُعْطَى النَّاسُ بِدَعْوَاهُمْ لَادَّعَى رِجَالٌ أَمْوَالَ قَوْمٍ وَدِمَاءَهُمْ، لَكِنَّ الْبَيِّنَةَ عَلَى الْمُدَّعِي، وَالْيَمِينَ عَلَى مَنْ أَنْكَرَ” . حَدِيثٌ حَسَنٌ، رَوَاهُ الْبَيْهَقِيّ [في”السنن” 10/252]، وَغَيْرُهُ هَكَذَا، وَبَعْضُهُ فِي "الصَّحِيحَيْنِ
اگر لوگوں کو صرف ان کے دعوے پر (حق) دے دیا جاتا تو بہت سے لوگ دوسروں کے مال و خون کا دعویٰ کر بیٹھتے۔ لیکن گواہی و دلیل پیش کرنا مدعی کے ذمے ہے، اور انکار کرنے والے کے ذمے قسم ہے۔
حدیث نمبر 34

عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ سَمِعْت رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه و سلم يَقُولُ: مَنْ رَأَى مِنْكُمْ مُنْكَرًا فَلْيُغَيِّرْهُ بِيَدِهِ، فَإِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَبِلِسَانِهِ، فَإِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَبِقَلْبِهِ، وَذَلِكَ أَضْعَفُ الْإِيمَانِ . [رَوَاهُ مُسْلِمٌ]
تم میں سے جو کوئی برائی دیکھے تو اسے اپنے ہاتھ سے بدل دے؛ اگر اس کی طاقت نہ ہو تو زبان سے؛ اور اگر اس کی بھی طاقت نہ ہو تو دل سے (برا جانے)، اور یہ ایمان کا سب سے کمزور درجہ ہے۔
حدیث نمبر 35

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه و سلم لَا تَحَاسَدُوا، وَلَا تَنَاجَشُوا، وَلَا تَبَاغَضُوا، وَلَا تَدَابَرُوا، وَلَا يَبِعْ بَعْضُكُمْ عَلَى بَيْعِ بَعْضٍ، وَكُونُوا عِبَادَ اللَّهِ إخْوَانًا، الْمُسْلِمُ أَخُو الْمُسْلِمِ، لَا يَظْلِمُهُ، وَلَا يَخْذُلُهُ، وَلَا يَكْذِبُهُ، وَلَا يَحْقِرُهُ، التَّقْوَى هَاهُنَا، وَيُشِيرُ إلَى صَدْرِهِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، بِحَسْبِ امْرِئٍ مِنْ الشَّرِّ أَنْ يَحْقِرَ أَخَاهُ الْمُسْلِمَ، كُلُّ الْمُسْلِمِ عَلَى الْمُسْلِمِ حَرَامٌ: دَمُهُ وَمَالُهُ وَعِرْضُهُ . [رَوَاهُ مُسْلِمٌ]
آپس میں حسد نہ کرو، (دھوکے سے) بولی نہ بڑھاؤ، بغض نہ رکھو، ایک دوسرے سے منہ نہ موڑو، اور کوئی کسی کی سودے بازی پر سودا نہ کرے۔ اللہ کے بندو! بھائی بھائی بن جاؤ۔ مسلمان مسلمان کا بھائی ہے: نہ اس پر ظلم کرتا ہے، نہ اسے بے یار و مددگار چھوڑتا ہے، نہ اس سے جھوٹ بولتا ہے اور نہ اسے حقیر سمجھتا ہے۔ تقویٰ یہاں ہے — آپ ﷺ نے تین مرتبہ اپنے سینے کی طرف اشارہ فرمایا۔ آدمی کے برا ہونے کے لیے یہی کافی ہے کہ وہ اپنے مسلمان بھائی کو حقیر سمجھے۔ ہر مسلمان پر دوسرے مسلمان کا خون، مال اور عزت حرام ہے۔
حدیث نمبر 36

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَنْ النَّبِيِّ صلى الله عليه و سلم قَالَ: مَنْ نَفَّسَ عَنْ مُؤْمِنٍ كُرْبَةً مِنْ كُرَبِ الدُّنْيَا نَفَّسَ اللَّهُ عَنْهُ كُرْبَةً مِنْ كُرَبِ يَوْمِ الْقِيَامَةِ، وَمَنْ يَسَّرَ عَلَى مُعْسِرٍ، يَسَّرَ اللَّهُ عَلَيْهِ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ، وَمَنْ سَتَرَ مُسْلِما سَتَرَهُ اللهُ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ ، وَاَللَّهُ فِي عَوْنِ الْعَبْدِ مَا كَانَ الْعَبْدُ فِي عَوْنِ أَخِيهِ، وَمَنْ سَلَكَ طَرِيقًا يَلْتَمِسُ فِيهِ عِلْمًا سَهَّلَ اللَّهُ لَهُ بِهِ طَرِيقًا إلَى الْجَنَّةِ، وَمَا اجْتَمَعَ قَوْمٌ فِي بَيْتٍ مِنْ بُيُوتِ اللَّهِ يَتْلُونَ كِتَابَ اللَّهِ، وَيَتَدَارَسُونَهُ فِيمَا بَيْنَهُمْ؛ إلَّا نَزَلَتْ عَلَيْهِمْ السَّكِينَةُ، وَغَشِيَتْهُمْ الرَّحْمَةُ، وَ حَفَّتهُمُ المَلاَئِكَة، وَذَكَرَهُمْ اللَّهُ فِيمَنْ عِنْدَهُ، وَمَنْ أَبَطْأَ بِهِ عَمَلُهُ لَمْ يُسْرِعْ بِهِ نَسَبُهُ . [رَوَاهُ مُسْلِمٌ] بهذا اللفظ
جو شخص کسی مومن کی دنیاوی تکلیفوں میں سے کوئی تکلیف دور کرے گا، اللہ اس کی قیامت کی تکلیفوں میں سے ایک تکلیف دور فرمائے گا۔ جو تنگدست پر آسانی کرے گا، اللہ اس پر دنیا و آخرت میں آسانی فرمائے گا۔ جو کسی مسلمان کی پردہ پوشی کرے گا، اللہ دنیا و آخرت میں اس کی پردہ پوشی فرمائے گا۔ اللہ اس وقت تک بندے کی مدد میں رہتا ہے جب تک بندہ اپنے بھائی کی مدد میں رہتا ہے۔ جو علم کی تلاش میں کسی راستے پر چلے گا، اللہ اس کے بدلے اس کے لیے جنت کا راستہ آسان فرما دے گا۔ اور جو قوم اللہ کے گھروں میں سے کسی گھر میں جمع ہو کر اللہ کی کتاب کی تلاوت کرتی اور آپس میں اس کا درس کرتی ہے، ان پر سکینت نازل ہوتی ہے، رحمت انہیں ڈھانپ لیتی ہے، فرشتے انہیں گھیر لیتے ہیں اور اللہ اپنے پاس والوں میں ان کا ذکر فرماتا ہے۔ اور جس کے عمل نے اسے پیچھے کر دیا، اس کا نسب اسے آگے نہیں بڑھا سکے گا۔
حدیث نمبر 37

عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه و سلم فِيمَا يَرْوِيهِ عَنْ رَبِّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى، قَالَ: "إنَّ اللَّهَ كَتَبَ الْحَسَنَاتِ وَالسَّيِّئَاتِ، ثُمَّ بَيَّنَ ذَلِكَ، فَمَنْ هَمَّ بِحَسَنَةٍ فَلَمْ يَعْمَلْهَا كَتَبَهَا اللَّهُ عِنْدَهُ حَسَنَةً كَامِلَةً، وَإِنْ هَمَّ بِهَا فَعَمِلَهَا كَتَبَهَا اللَّهُ عِنْدَهُ عَشْرَ حَسَنَاتٍ إلَى سَبْعِمِائَةِ ضِعْفٍ إلَى أَضْعَافٍ كَثِيرَةٍ، وَإِنْ هَمَّ بِسَيِّئَةٍ فَلَمْ يَعْمَلْهَا كَتَبَهَا اللَّهُ عِنْدَهُ حَسَنَةً كَامِلَةً، وَإِنْ هَمَّ بِهَا فَعَمِلَهَا كَتَبَهَا اللَّهُ سَيِّئَةً وَاحِدَةً”.
[رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ] ، [وَمُسْلِمٌ]، في "صحيحيهما” بهذه الحروف
بے شک اللہ نے نیکیاں اور برائیاں لکھ دی ہیں، پھر ان کی وضاحت فرما دی: جس نے نیکی کا ارادہ کیا مگر اسے نہ کر سکا، اللہ اسے اپنے ہاں پوری نیکی لکھ دیتا ہے؛ اور اگر ارادہ کر کے اسے کر بھی لیا تو اللہ اسے دس نیکیوں سے سات سو گنا تک، بلکہ اس سے بھی کئی گنا بڑھا کر لکھتا ہے۔ اور جس نے برائی کا ارادہ کیا مگر اسے نہ کیا، اللہ اسے اپنے ہاں پوری نیکی لکھ دیتا ہے؛ اور اگر اسے کر گزرا تو اللہ صرف ایک ہی برائی لکھتا ہے۔
حدیث نمبر 38

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُول اللَّهِ صلى الله عليه و سلم إنَّ اللَّهَ تَعَالَى قَالَ: مَنْ عَادَى لِي وَلِيًّا فَقْد آذَنْتهُ بِالْحَرْبِ، وَمَا تَقَرَّبَ إلَيَّ عَبْدِي بِشَيْءٍ أَحَبَّ إلَيَّ مِمَّا افْتَرَضْتُهُ عَلَيْهِ، وَلَا يَزَالُ عَبْدِي يَتَقَرَّبُ إلَيَّ بِالنَّوَافِلِ حَتَّى أُحِبَّهُ، فَإِذَا أَحْبَبْتُهُ كُنْت سَمْعَهُ الَّذِي يَسْمَعُ بِهِ، وَبَصَرَهُ الَّذِي يُبْصِرُ بِهِ، وَيَدَهُ الَّتِي يَبْطِشُ بِهَا، وَرِجْلَهُ الَّتِي يَمْشِي بِهَا، وَلَئِنْ سَأَلَنِي لَأُعْطِيَنَّهُ، وَلَئِنْ اسْتَعَاذَنِي لَأُعِيذَنَّهُ . [رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ]
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: جس نے میرے کسی ولی سے دشمنی کی، میں اس سے جنگ کا اعلان کرتا ہوں۔ میرا بندہ جن چیزوں سے میرا قرب حاصل کرتا ہے ان میں مجھے سب سے محبوب وہ ہیں جو میں نے اس پر فرض کی ہیں۔ اور میرا بندہ نوافل کے ذریعے مسلسل میرا قرب پاتا رہتا ہے یہاں تک کہ میں اس سے محبت کرنے لگتا ہوں۔ پھر جب میں اس سے محبت کرتا ہوں تو میں اس کا کان بن جاتا ہوں جس سے وہ سنتا ہے، اس کی آنکھ بن جاتا ہوں جس سے وہ دیکھتا ہے، اس کا ہاتھ بن جاتا ہوں جس سے وہ پکڑتا ہے اور اس کا پاؤں بن جاتا ہوں جس سے وہ چلتا ہے۔ اگر وہ مجھ سے مانگے تو میں اسے ضرور دیتا ہوں، اور اگر میری پناہ چاہے تو میں اسے ضرور پناہ دیتا ہوں۔
حدیث نمبر 39

عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه و سلم قَالَ: "إنَّ اللَّهَ تَجَاوَزَ لِي عَنْ أُمَّتِي الْخَطَأَ وَالنِّسْيَانَ وَمَا اسْتُكْرِهُوا عَلَيْهِ” . حَدِيثٌ حَسَنٌ، رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ [رقم:2045]، وَالْبَيْهَقِيّ ["السنن]
بے شک اللہ تعالیٰ نے میری امت سے غلطی، بھول چوک اور اس عمل کو معاف فرما دیا ہے جس پر انہیں مجبور کیا جائے۔
حدیث نمبر 40

عَنْ ابْن عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: أَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه و سلم بِمَنْكِبِي، وَقَالَ: كُنْ فِي الدُّنْيَا كَأَنَّك غَرِيبٌ أَوْ عَابِرُ سَبِيلٍ . وَكَانَ ابْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا يَقُولُ: إذَا أَمْسَيْتَ فَلَا تَنْتَظِرْ الصَّبَاحَ، وَإِذَا أَصْبَحْتَ فَلَا تَنْتَظِرْ الْمَسَاءَ، وَخُذْ مِنْ صِحَّتِك لِمَرَضِك، وَمِنْ حَيَاتِك لِمَوْتِك. [رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ]
دنیا میں اس طرح رہو گویا تم اجنبی ہو یا راستے کے مسافر ہو۔ حضرت ابن عمرؓ کہا کرتے تھے: جب شام ہو جائے تو صبح کا انتظار نہ کرو، اور جب صبح ہو جائے تو شام کا انتظار نہ کرو؛ اپنی تندرستی سے بیماری کے لیے اور اپنی زندگی سے موت کے لیے سامان کر لو۔