پیر, 12 اکتوبر 2026
پیر, 12 اکتوبر 2026|
تازہ ترین
ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر ایک اور حملہ، پاکستانی شہری جاں بحق، 11 افراد زخمی، ایئرپورٹ کی بندش میں پیر کی رات تک توسیع• اسلام آباد سے کنٹینرز ہٹانے کا کام شروع، تین ہفتوں سے زائد عرصے سے بند سڑکیں کھلنے لگیں، وفاقی وزیر طارق فضل چوہدری نے کہا معمولات زندگی بحال ہوں گے• خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج پشاور ہائی کورٹ میں چیلنج، درخواست میں اقدام غیر آئینی قرار دے کر کالعدم کرنے اور نوٹیفکیشن معطل کرنے کی استدعا• پاکستان نے افغان طالبان کو خبردار کر دیا، اسحاق ڈار نے کہا افغان سرزمین سے دہشت گردوں کے خلاف کارروائی نہ ہوئی تو کابل کو خود نتائج بھگتنا ہوں گے، ستمبر میں 12 سال میں سب سے زیادہ دہشت گرد حملے ہوئے• پاکستان کا اگلے مالی سال تک بی پلس کریڈٹ ریٹنگ کا ہدف، وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا عالمی منڈیوں میں واپسی ہو گئی، 3 ارب ڈالر کے یورو بانڈز پر دوگنا پیشکشیں ملیں• گورنر راج کے بعد خیبر پختونخوا اپیکس کمیٹی کا پہلا اجلاس، گورنر فیصل کریم کنڈی اور وزیر داخلہ محسن نقوی کی مشترکہ صدارت، دہشت گردی کے خلاف مربوط اور فیصلہ کن کارروائی کا حکم• کوئٹہ کے قریب پاک فوج کا مشاق تربیتی طیارہ تکنیکی خرابی کے باعث گر کر تباہ، انسٹرکٹر پائلٹ میجر حسنین شہزاد ہمایوں اور زیر تربیت پائلٹ کیپٹن عبدالصمد شہید• خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج: آئینی علاج یا وفاق کی حد سے تجاوز؟ آرٹیکل 232 اور 234 کا امتحان، پارلیمنٹ کی منظوری اور آنے والے دنوں کا تفصیلی تجزیہ•
مضامین

خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج: آئینی علاج یا وفاق کی حد سے تجاوز؟ آرٹیکل 232 اور 234 کا امتحان، پارلیمنٹ کی منظوری اور آنے والے دنوں کا تفصیلی تجزیہ

News Cuff

خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کا نفاذ پاکستان کے وفاقی ڈھانچے کا سب سے بڑا امتحان بن گیا ہے۔ صدر آصف علی زرداری نے وزیراعظم شہباز شریف اور وفاقی کابینہ کے مشورے پر آئین کے آرٹیکل 232 اور 234 کے تحت یہ اقدامات منظور کیے۔ وفاق کا موقف واضح ہے: صوبائی حکومت انسداد دہشت گردی کی جنگ سے دانستہ طور پر الگ ہو گئی تھی، امن و امان کی صورتحال اس حد تک بگڑ چکی تھی کہ مداخلت کے سوا کوئی راستہ نہ بچا۔ اسی تناظر میں صوبے میں فوج کی تعیناتی کی منظوری، 11 رکنی مشاورتی کونسل کی تشکیل اور گورنر فیصل کریم کنڈی کو انتظامی اختیارات سونپے گئے۔ دوسری طرف پی ٹی آئی اسے منتخب حکومت کے خاتمے اور صوبائی خودمختاری پر حملہ قرار دیتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ آئین اس تنازع میں کس کے ساتھ کھڑا ہے؟

آئینی امتحان

آرٹیکل 232 وفاق کو ایمرجنسی کی اجازت اس صورت میں دیتا ہے جب کسی صوبے کی سلامتی اندرونی خلل سے اس حد تک خطرے میں ہو کہ صوبائی حکومت اس پر قابو پانے سے قاصر ہو، جبکہ آرٹیکل 234 کے تحت گورنر راج تب لگ سکتا ہے جب صوبائی حکومت آئین کے مطابق چلانا ممکن نہ رہے۔ چونکہ صدر نے صوبائی اسمبلی کی قرارداد کے بغیر اقدام کیا ہے، آئین کا تقاضا ہے کہ دونوں ایوان 10 روز کے اندر یعنی 21 اکتوبر تک منظوری دیں، ورنہ اعلامیہ ازخود ختم ہو جائے گا — اسی لیے 13 اکتوبر کو قومی اسمبلی اور سینیٹ کے اجلاس طلب کیے گئے ہیں۔ اعلامیہ 30 روز کے اندر مشترکہ اجلاس میں بھی پیش ہوگا، اور منظوری کی صورت میں ایمرجنسی کی کوئی مقررہ مدت نہیں رہے گی۔ اس کے برعکس گورنر راج کی حد مقرر ہے: پارلیمنٹ دو دو ماہ کی توسیع دے سکتی ہے، مگر مجموعی سقف چھ ماہ ہے۔ قانونی ماہرین کے مطابق اصل جنگ اس نکتے پر لڑی جائے گی کہ آیا پیش کردہ اسباب «آئینی مشینری کی ناکامی» کے سخت معیار پر پورے اترتے ہیں یا نہیں — اور یہی نکتہ ممکنہ عدالتی چیلنج کا مرکز ہوگا۔

وفاقیت بمقابلہ مینڈیٹ

اٹھارہویں ترمیم کے بعد صوبائی خودمختاری کو آئین کی بنیادی ساخت کا حصہ سمجھا جاتا ہے، یہی وجہ ہے کہ ماضی میں گورنر راج ہمیشہ سیاسی زلزلہ ثابت ہوا ہے۔ پاکستان میں 1949 سے اب تک صوبے کم از کم آٹھ بار گورنر راج دیکھ چکے ہیں؛ خیبر پختونخوا (اس وقت شمال مغربی سرحدی صوبہ) کا حصہ 1975 اور 1994 میں آیا۔ وزیراعلیٰ اور کابینہ کی احتیاطی حراست نے تنازع کو مزید گہرا کر دیا ہے، کیونکہ اب سوال صرف وفاقی اختیارات کا نہیں، ایک منتخب صوبائی قیادت کی آزادی کا بھی ہے۔ نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کا یہ کہنا کہ «یہ سیاسی اقدام نہیں» اسی تاثر کو زائل کرنے کی کوشش ہے، مگر حکومت کے اپنے رہنما اختیار ولی کا یہ بیان کہ گورنر راج «ضرورت پڑنے پر انتخابات تک» جاری رہ سکتا ہے، اپوزیشن کے اس مؤقف کو تقویت دیتا ہے کہ معاملہ سیکیورٹی سے آگے کا ہے۔

سلامتی کا موقف — ایک جائزہ

وفاق کے سلامتی والے دلائل کو کلیتاً نظر انداز نہیں کیا جا سکتا: صوبے میں عسکریت پسندی کے واقعات میں اضافہ ایک دستاویزی حقیقت ہے اور سرحدی اضلاع کی صورتحال تشویشناک ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ حکومت کی تبدیلی سے عملی صلاحیت میں کیا فرق پڑے گا؟ پولیس اور سکیورٹی ادارے پہلے ہی وفاقی معاونت سے کام کر رہے تھے، اور مقامی قبولیت رکھنے والی سیاسی قیادت کو مسند سے ہٹانا دہشت گردی کے خلاف مقامی تعاون کو کمزور بھی کر سکتا ہے۔ اگر اصل مسئلہ صوبائی حکومت کی «عدم دلچسپی» تھا تو چھ ماہ کی مہلت میں وہ کون سی مخصوص اصلاحات ہوں گی جن سے کامیابی ناپی جائے گی؟ اس سوال کا جواب ابھی کسی کے پاس نہیں۔

آگے کیا ہوگا؟

آنے والے دن تین محاذوں پر فیصلہ کن ہوں گے۔ پہلا، پارلیمنٹ: حکومت کو سادہ اکثریت سے منظوری درکار ہے اور عددی اعتبار سے یہ اس کے بس میں نظر آتا ہے۔ دوسرا، عدالت: پی ٹی آئی نے عدالتی چیلنج کا اعلان کر دیا ہے اور عبوری ریلیف کا سوال اس جنگ کا رخ طے کرے گا۔ تیسرا، سڑک: پارٹی کہتی ہے کہ لانگ مارچ ختم نہیں ہوا۔ پاکستانی سیاست کا تجربہ بتاتا ہے کہ غیر معمولی آئینی اقدامات ہمیشہ اتنے ہی غیر معمولی ردعمل پیدا کرتے ہیں — اصل امتحان یہ نہیں کہ وفاق نے اختیار استعمال کر لیا، اصل امتحان یہ ہے کہ اس اختیار کے بعد صوبے میں امن، سیاست اور اعتماد، تینوں میں سے کس کی واپسی ہوتی ہے۔

قرآن مجید اردو ترجمے کے ساتھ پڑھیںنماز کے اوقات • رمضان کیلنڈر • قرآنی دعائیں

متعلقہ خبریں

تبصرہ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے