بدھ, 14 اکتوبر 2026
بدھ, 14 اکتوبر 2026|
تازہ ترین
قومی اسمبلی کے بعد سینیٹ نے بھی خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کی توثیق کر دی، قرارداد اکثریت سے منظور، اپوزیشن کا واک آؤٹ، گورنر راج کے لیے پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس کل طلب• سرسوں کا ساگ اور مکئی کی روٹی — سردیوں کی اصل سوغات، گھر پر آسان ترکیب• گندم کی قیمت طے نہ ہوئی تو کسان بوائی سے پہلے ہی خسارے میں• سعودی عرب پر حملہ پاکستان پر حملہ سمجھا جائے گا، وزیر مذہبی امور سردار محمد یوسف کا دوٹوک اعلان، مذہبی جماعتوں کے رہنما بھی مملکت کے ساتھ یکجہتی کے لیے ایک صف میں کھڑے ہو گئے• کراچی کے لیے ہواوے کے ساتھ اسمارٹ سٹی پلیٹ فارم کی تجویز، سیلاب کی پیشگی وارننگ کا پائلٹ منصوبہ ایک ضلع سے شروع ہوگا، وزیراعلیٰ سندھ کا ووہان میں مصنوعی ذہانت مرکز کا دورہ• پنجاب میں صنعتی مزدوروں کے لیے موبائل ہیلتھ پروگرام شروع، چھیالیس لاکھ مزدوروں اور ان کے گھرانوں کو دہلیز پر علاج ملے گا، مارچ تک مزید بارہ اضلاع شامل ہوں گے• پاکستان اور یورپی یونین کا قانونی مائیگریشن کے راستے بڑھانے پر اتفاق، غیر قانونی مائیگریشن میں چونسٹھ فیصد کمی، سرحدی تعاون مزید مضبوط بنایا جائے گا• شہنشاہ قوالی استاد نصرت فتح علی خان کی 78ویں سالگرہ، وہ آواز جس نے قوالی کو فیصل آباد سے اٹھا کر پوری دنیا تک پہنچا دیا•
مضامین

گندم کی قیمت طے نہ ہوئی تو کسان بوائی سے پہلے ہی خسارے میں

News Cuff

ہر سال ایک ہی منظر دہرایا جاتا ہے۔ کسان بیج بوتا ہے، مہینوں کھیت میں پسینہ بہاتا ہے، اور جب فصل تیار ہوتی ہے تب اسے پتا چلتا ہے کہ اس کی محنت کی قیمت کیا لگی۔ اس بار حکومت کہتی ہے کہ ترتیب الٹی جائے گی: گندم کی قیمت بوائی سے پہلے طے ہوگی۔ قومی زرعی و غذائی تحفظ کونسل کے پہلے اجلاس میں وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ ذخیرہ اندوزوں سے کوئی رعایت نہیں ہوگی، ملکی ضرورت کے لیے گندم وافر ہے، اور قیمت صوبوں سے مشاورت کے بعد جلد سنائی جائے گی۔

سوال قیمت کا نہیں، وقت کا ہے

کسان کے لیے قیمت کا اعلان فصل کے بعد آئے تو وہ اطلاع نہیں، فیصلہ ہوتا ہے جو کسی اور نے اس کے لیے کر دیا۔ بوائی سے پہلے قیمت معلوم ہو تو وہ حساب لگا سکتا ہے کہ کتنی زمین گندم کو دے، کتنی کھاد ڈالے، اور قرض لینا اس کے حق میں ہے بھی یا نہیں۔ چھوٹے اور درمیانے کسان کے لیے یہی فرق منافع اور نقصان کے درمیان کھڑا ہوتا ہے۔ اجلاس میں اسی طبقے کو خاص طور پر سامنے رکھا گیا، اور کھاد، معیاری بیج، مشینری اور پانی کے بہتر استعمال کو ترجیح گنایا گیا۔ بات درست سمت میں ہے، مگر کسان وعدوں سے زیادہ رسید دیکھتا ہے: کھاد اسے اصل قیمت پر ملی یا نہیں، یہ اعلان سے بڑا سوال رہے گا۔

دوسری طرف روٹی کھانے والا کھڑا ہے

حکومت کے سامنے دوسرا پیمانہ بھی اتنا ہی سخت ہے۔ گندم مہنگی ہو تو آٹا مہنگا ہوتا ہے، اور آٹا مہنگا ہو تو ہر گھر کا بجٹ ہلتا ہے۔ اسی لیے وزیراعظم نے دونوں باتیں ایک ساتھ کہیں: کسان کو اس کی محنت کا مناسب معاوضہ ملے، اور صارف کو گندم سستی دستیاب رہے۔ کاغذ پر یہ توازن آسان لگتا ہے۔ عمل میں یہ وہی پرانا امتحان ہے جس میں ہر حکومت کبھی ایک طرف، کبھی دوسری طرف جھک جاتی ہے۔

ہمارا جائزہ

اس کالم کی رائے میں اصل خبر قیمت کا ہندسہ نہیں ہوگا، اس کے اعلان کی تاریخ ہوگی۔ اگر قیمت بوائی شروع ہونے سے پہلے آ گئی اور صوبے واقعی اس پر متفق نکلے تو یہ کونسل اپنے پہلے اجلاس میں ہی وہ کام کر دکھائے گی جس کے لیے بنی ہے۔ اگر اعلان پھر فصل کے قریب جا کر ہوا تو یہ بھی باقی اجلاسوں کی طرح ایک اور اچھی گفتگو بن کر رہ جائے گا۔ ذخیرہ اندوزی کے خلاف کارروائی، حلال گوشت کی برآمد اور کسان کارڈ جیسی سہولتوں کا ذکر اپنی جگہ، مگر کسان اس وقت کھیت میں کھڑا فیصلہ کر رہا ہے۔ اسے قیمت آج چاہیے، پریس ریلیز کل کی نہیں۔

قرآن مجید اردو ترجمے کے ساتھ پڑھیںنماز کے اوقات • رمضان کیلنڈر • قرآنی دعائیں

متعلقہ خبریں

تبصرہ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے