گندم کی قیمت طے نہ ہوئی تو کسان بوائی سے پہلے ہی خسارے میں

ہر سال ایک ہی منظر دہرایا جاتا ہے۔ کسان بیج بوتا ہے، مہینوں کھیت میں پسینہ بہاتا ہے، اور جب فصل تیار ہوتی ہے تب اسے پتا چلتا ہے کہ اس کی محنت کی قیمت کیا لگی۔ اس بار حکومت کہتی ہے کہ ترتیب الٹی جائے گی: گندم کی قیمت بوائی سے پہلے طے ہوگی۔ قومی زرعی و غذائی تحفظ کونسل کے پہلے اجلاس میں وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ ذخیرہ اندوزوں سے کوئی رعایت نہیں ہوگی، ملکی ضرورت کے لیے گندم وافر ہے، اور قیمت صوبوں سے مشاورت کے بعد جلد سنائی جائے گی۔
سوال قیمت کا نہیں، وقت کا ہے
کسان کے لیے قیمت کا اعلان فصل کے بعد آئے تو وہ اطلاع نہیں، فیصلہ ہوتا ہے جو کسی اور نے اس کے لیے کر دیا۔ بوائی سے پہلے قیمت معلوم ہو تو وہ حساب لگا سکتا ہے کہ کتنی زمین گندم کو دے، کتنی کھاد ڈالے، اور قرض لینا اس کے حق میں ہے بھی یا نہیں۔ چھوٹے اور درمیانے کسان کے لیے یہی فرق منافع اور نقصان کے درمیان کھڑا ہوتا ہے۔ اجلاس میں اسی طبقے کو خاص طور پر سامنے رکھا گیا، اور کھاد، معیاری بیج، مشینری اور پانی کے بہتر استعمال کو ترجیح گنایا گیا۔ بات درست سمت میں ہے، مگر کسان وعدوں سے زیادہ رسید دیکھتا ہے: کھاد اسے اصل قیمت پر ملی یا نہیں، یہ اعلان سے بڑا سوال رہے گا۔
دوسری طرف روٹی کھانے والا کھڑا ہے
حکومت کے سامنے دوسرا پیمانہ بھی اتنا ہی سخت ہے۔ گندم مہنگی ہو تو آٹا مہنگا ہوتا ہے، اور آٹا مہنگا ہو تو ہر گھر کا بجٹ ہلتا ہے۔ اسی لیے وزیراعظم نے دونوں باتیں ایک ساتھ کہیں: کسان کو اس کی محنت کا مناسب معاوضہ ملے، اور صارف کو گندم سستی دستیاب رہے۔ کاغذ پر یہ توازن آسان لگتا ہے۔ عمل میں یہ وہی پرانا امتحان ہے جس میں ہر حکومت کبھی ایک طرف، کبھی دوسری طرف جھک جاتی ہے۔
ہمارا جائزہ
اس کالم کی رائے میں اصل خبر قیمت کا ہندسہ نہیں ہوگا، اس کے اعلان کی تاریخ ہوگی۔ اگر قیمت بوائی شروع ہونے سے پہلے آ گئی اور صوبے واقعی اس پر متفق نکلے تو یہ کونسل اپنے پہلے اجلاس میں ہی وہ کام کر دکھائے گی جس کے لیے بنی ہے۔ اگر اعلان پھر فصل کے قریب جا کر ہوا تو یہ بھی باقی اجلاسوں کی طرح ایک اور اچھی گفتگو بن کر رہ جائے گا۔ ذخیرہ اندوزی کے خلاف کارروائی، حلال گوشت کی برآمد اور کسان کارڈ جیسی سہولتوں کا ذکر اپنی جگہ، مگر کسان اس وقت کھیت میں کھڑا فیصلہ کر رہا ہے۔ اسے قیمت آج چاہیے، پریس ریلیز کل کی نہیں۔



