کمشنر رخشان ڈویژن اسد اللہ کاکڑ کو نوشکی۔خاران شاہراہ سے اغوا کر لیا گیا، ایک ساتھی کو بعد میں چھوڑ دیا گیا

بلوچستان میں انتظامیہ کے ایک اور سینئر افسر کو اغوا کر لیا گیا ہے۔ حکام کے مطابق جمعرات کو نامعلوم مسلح افراد نے رخشان ڈویژن کے کمشنر اسد اللہ کاکڑ کو نوشکی۔خاران شاہراہ پر برشونکی کے علاقے میں روک کر اپنے ساتھ لے لیا۔ کمشنر کوئٹہ سے خاران جا رہے تھے اور نجی گاڑی میں سفر کر رہے تھے۔
راستے میں روک کر ساتھ لے گئے
خاران پولیس کے مطابق حملہ آوروں نے شاہراہ پر گاڑی کا راستہ روکا اور کمشنر کو ساتھیوں سمیت اپنے قبضے میں لے لیا۔ بعد میں ان کے ایک ساتھی کو چھوڑ دیا گیا، جس نے خاران پہنچ کر حکام کو واقعے کی اطلاع دی۔ بعض اطلاعات میں چھوڑے جانے والے ساتھی کو ڈرائیور اور بعض میں کیشیئر بتایا گیا ہے۔ کمشنر کی بازیابی کے بارے میں تاحال کوئی اطلاع نہیں ملی اور نہ ہی صوبائی حکومت کی جانب سے کوئی باضابطہ بیان سامنے آیا ہے۔
اسی علاقے میں پچھلے مہینے بھی ایسا ہی واقعہ پیش آیا تھا، جب ڈپٹی کمشنر خاران منیر احمد سومرو کو اسی شاہراہ کے آس پاس سے اغوا کیا گیا تھا۔ رخشان رقبے کے لحاظ سے بلوچستان کا سب سے بڑا ڈویژن ہے، جس میں خاران، نوشکی، چاغی اور واشک کے اضلاع شامل ہیں، اور یہاں کے کئی علاقے دور دراز اور دشوار گزار ہیں۔
کسی گروپ نے ذمہ داری قبول نہیں کی
تاحال کسی تنظیم نے اس اغوا کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔ سیکیورٹی خدشات کی وجہ سے کمشنر بظاہر بغیر سیکیورٹی اسکواڈ کے اور نجی گاڑی میں سفر کر رہے تھے تاکہ ان کی نقل و حرکت نمایاں نہ ہو، مگر اس احتیاط کے باوجود مسلح افراد نے انہیں راستے میں روک لیا۔



