لاہور ہائیکورٹ کا اسمارٹ چشموں کی سمری کابینہ کو بھیجنے کا حکم، 16 سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا پر پابندی کی درخواست پر قانون افسران طلب

لاہور ہائیکورٹ نے وفاقی حکومت کو ہدایت کی ہے کہ کیمرے اور مائیک والے اسمارٹ چشموں کی درآمد اور فروخت سے متعلق تیار سمری وفاقی کابینہ کے سامنے رکھے۔ چیف جسٹس عالیہ نیلم نے جمعرات کو شہری حسنین العابدین کی درخواست کی سماعت کی۔ عدالت کو بتایا گیا کہ وزارت تجارت میٹا چشموں کی درآمد پر پابندی کے لیے ضابطے تیار کر رہی ہے اور سمری تیار ہے، جب کہ سرکاری وکیل نے تسلیم کیا کہ اس سے پہلے اس بارے میں کوئی پالیسی موجود ہی نہیں تھی۔
پرائیویسی پر عدالت کی تشویش
سماعت کے دوران چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ آنے والے دنوں میں کسی کی پرائیویسی باقی نہیں رہے گی اور پوچھا کہ بازاروں میں بکتے ان چشموں پر حکومت نے اب تک کیا قدم اٹھایا۔ کیس کی اگلی سماعت 12 نومبر کو ہوگی۔
بچوں کے سوشل میڈیا کا کیس بھی اسی دن
اسی روز ایک اور درخواست بھی سنی گئی جس میں 16 سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی مانگی گئی ہے۔ درخواست گزار عالیہ سلیم کا موقف ہے کہ پاکستان میں بچے بغیر کسی روک ٹوک کے سوشل میڈیا استعمال کر رہے ہیں اور اس کے نقصان دہ اثرات سامنے آ رہے ہیں، جب کہ آسٹریلیا، برازیل اور اٹلی جیسے ممالک پابندیاں لگا چکے ہیں۔ اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل پنجاب سپریم کورٹ میں مصروفیت کے باعث پیش نہ ہو سکے، جس پر عدالت نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے دونوں کو 12 نومبر کو طلب کر لیا۔



