پاکستان سمیت 19 مسلم ملکوں نے کولمبیا کے مقبوضہ بیت المقدس میں سفارت خانہ کھولنے کی شدید مذمت کر دی، فیصلہ واپس لینے کا مطالبہ

کولمبیا نے بدھ کو مقبوضہ بیت المقدس میں اپنا سفارت خانہ کھول کر تل ابیب سے منتقلی کا وہ قدم اٹھایا جس پر مسلم دنیا کا ردعمل جمعے کو ایک مشترکہ آواز میں سامنے آیا۔ پاکستان سمیت 19 ملکوں کے وزرائے خارجہ نے اس اقدام کو بین الاقوامی قانون کے منافی قرار دیتے ہوئے اسے دو ریاستی حل کی کوششوں کے لیے دھچکا کہا ہے۔
مشترکہ اعلامیے میں کیا کہا گیا؟
اعلامیے میں واضح کیا گیا کہ مقبوضہ بیت المقدس کی قانونی یا تاریخی حیثیت بدلنے یا اسے اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کی ہر کوشش کالعدم ہے اور اس کا کوئی قانونی اثر نہیں۔ وزرائے خارجہ نے سلامتی کونسل کی قراردادوں 476 اور 478 کا حوالہ دیا، جن میں شہر کی حیثیت بدلنے کی کوششیں مسترد کرتے ہوئے ملکوں سے کہا گیا تھا کہ وہ اپنے سفارتی مشن وہاں سے واپس بلائیں۔ اعلامیے کے مطابق بیت المقدس 1967 سے مقبوضہ فلسطینی علاقے کا حصہ ہے۔
کولمبیا سے فیصلہ واپس لینے کا مطالبہ
مشترکہ بیان میں کولمبیا کی حکومت سے کہا گیا ہے کہ وہ اپنے فیصلے پر نظرثانی کرے، اسے واپس لے اور بین الاقوامی قانون کے تحت اپنی ذمہ داریاں پوری کرے۔ ممالک نے ایک بار پھر اس عزم کا اظہار کیا کہ فلسطینی عوام کو مشرقی بیت المقدس کو دارالحکومت بنا کر ایک آزاد اور خودمختار ریاست کا حق حاصل ہے۔ کولمبیا سفارت خانہ کھولنے والا دسواں ملک بن گیا ہے؛ اس کے نئے صدر نے سابق حکومت کی اسرائیل سے دوری کی پالیسی بھی بدل دی ہے۔



