پنجاب اسمبلی کمیٹی نے لاہور جم خانہ کلب کی انتظامیہ کو طلب کر لیا، 112 ایکڑ سرکاری زمین کی لیز کا معاملہ پھر کھل گیا

لاہور: شہر کے دل میں واقع 112 ایکڑ سرکاری زمین کا پرانا سوال ایک بار پھر اسمبلی میں گونج رہا ہے۔ Lahore Gymkhana lease کیس میں پنجاب اسمبلی کی خصوصی کمیٹی نمبر 6 نے کلب کی پوری انتظامی کمیٹی کو 21 اکتوبر کو طلب کر لیا ہے، اور صوبائی افسران سے بھی مکمل ریکارڈ مانگا گیا ہے۔
پانچ ہزار روپے سالانہ اور 218 ارب کی زمین
اعداد ہی اس کہانی کو غیر معمولی بناتے ہیں۔ کلب کے پاس دی مال، جیل روڈ اور ظفر علی روڈ کے قریب تقریباً 1,091 کنال زمین ہے، جس کا کرایہ 1996 کی لیز کے تحت سالانہ صرف 5 ہزار روپے ہے، یعنی مہینے کے تقریباً 417 روپے، اور یہ لیز 2050 تک چلے گی۔ بورڈ آف ریونیو کی قیمت کے حساب سے اس زمین کی مالیت 218 ارب روپے تک بنتی ہے۔ اس کے علاوہ باغ جناح میں چھ ایکڑ کرکٹ گراؤنڈ بھی کلب کے پاس سالانہ 900 روپے پر ہے، جس کی لیز 2069 تک ہے۔
حل کیا تجویز ہو رہا ہے؟
قرارداد نمبر 288 میں تجویز ہے کہ 100 ایکڑ زمین کو عوامی پارک اور شہری جنگل میں بدل دیا جائے، کلب کے پاس صرف 17 ایکڑ رہنے دی جائے، باغ جناح کا گراؤنڈ عوامی کھیل کے لیے کھولا جائے اور واجبات وصول کیے جائیں، اور اس میں شہر کی سموگ کا حوالہ بھی دیا گیا ہے۔ محکمہ قانون کمیٹی کو بتا چکا ہے کہ حکومت چھ ماہ کے نوٹس پر لیز ختم کر سکتی ہے اور عمارتوں کا کوئی معاوضہ بھی نہیں دینا ہوگا، تاہم ابھی تک کوئی نوٹس جاری نہیں ہوا۔ یہ کمیٹی ستمبر 2024 میں بنی تھی اور طویل عرصے سے اس کی کارروائی سست روی کا شکار رہی ہے۔ ایک طرف شہر کا فلیگ شپ ٹرانسپلانٹ ہسپتال زمین نہ ملنے پر بارکی جیسے کنارے پر بنا، اور دوسری طرف شہر کے وسط میں 112 ایکڑ گالف کورس اور ممبرز کلب کے پاس ہیں، یہی تضاد اس بحث کو زندہ رکھے ہوئے ہے۔



