بلوچستان میں گشت پر مامور دو پولیس اہلکار شہید، مستونگ میں مسلح افراد قلات تربیتی مرکز کے 20 زیرِ تربیت اہلکاروں کو اغوا کر کے لے گئے

ڈیرہ مراد جمالی / کوئٹہ: بلوچستان میں ہفتے کا دن پولیس کے لیے بھاری رہا۔ ایک طرف نصیر آباد میں گشت پر مامور دو اہلکار نامعلوم حملہ آوروں کی فائرنگ سے شہید ہو گئے، تو دوسری طرف مستونگ میں مسلح افراد کوئٹہ کراچی شاہراہ پر ایک مسافر وین کو روک کر 20 زیرِ تربیت پولیس اہلکاروں کو اپنے ساتھ لے گئے۔ دونوں واقعات کے بعد تلاش کی کارروائیاں جاری ہیں اور تاحال کسی گروہ نے ذمہ داری قبول نہیں کی۔
بیدار پُل کے قریب فائرنگ، سرکاری اسلحہ بھی لے گئے
پولیس کے مطابق شہید اہلکار موٹر سائیکلوں پر پٹ فیڈر کے علاقے میں معمول کا گشت کر رہے تھے کہ بیدار پُل کے قریب گھات لگائے حملہ آوروں نے ان پر فائرنگ کر دی۔ شہید اہلکاروں کی شناخت کانسٹیبل احمد لاشاری اور کانسٹیبل ملک بگٹی کے ناموں سے ہوئی ہے۔ سینئر پولیس افسر غلام سرور کے مطابق دونوں اہلکار متعدد گولیاں لگنے سے موقع پر ہی دم توڑ گئے اور حملہ آور ان کا سرکاری اسلحہ بھی ساتھ لے کر فرار ہو گئے۔ واقعے کے بعد پولیس اور ایف سی کی بھاری نفری جائے وقوعہ پر پہنچی اور لاشیں ضلعی اسپتال منتقل کی گئیں۔ ادھر شہدا کے اہلِ خانہ اور مقامی لوگوں نے کوئٹہ سکھر شاہراہ بند کر کے احتجاج کیا اور ملزمان کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا۔
چھٹی پر گھر جانے والے 20 اہلکار وین سے اتار کر لے گئے
اغوا کا واقعہ مستونگ ضلع میں پیش آیا۔ بلوچستان حکومت کے ایک سینئر اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ قلات پولیس تربیتی مرکز کے 20 زیرِ تربیت اہلکار ہفتہ وار چھٹی پر گھروں کو جا رہے تھے کہ کوئٹہ کراچی شاہراہ پر مسلح افراد نے ان کی وین روک لی اور انہیں اپنے ساتھ لے گئے۔ رپورٹوں کے مطابق یہ اہلکار لیویز فورس کے سابق اہلکار ہیں جو انضمام کے بعد پولیس میں شامل ہوئے اور رخشان ریجن میں تعینات تھے، جبکہ وین کے ڈرائیور اور چند دیگر مسافروں کو چھوڑ دیا گیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ مغوی اہلکاروں کی بازیابی کے لیے سرچ آپریشن جاری ہے۔



