لبنان کے سفیر نے امریکا ایران امن کوششوں میں پاکستان کے کردار کو سراہا، اسلام آباد کی سفارت کاری پر پھر بات ہونے لگی

اسلام آباد: کبھی کبھی سفارت کاری میں بڑی بات ایک چھوٹے سے جملے میں کہہ دی جاتی ہے۔ وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال سے ملاقات کے بعد لبنان کے سفیر عبدالعزیز عیسیٰ نے کہا کہ وہ امریکا اور ایران کے درمیان امن مذاکرات میں سہولت کاری کے پاکستان کے فعال کردار کی گہری قدر کرتے ہیں۔ یہ جملہ اپنے آپ میں ایک خبر بھی ہے اور ایک اشارہ بھی: اسلام آباد کی خاموش کوششیں اب دوسرے ملکوں کے سفیر کھلے لفظوں میں تسلیم کرنے لگے ہیں۔
ملاقات میں کیا طے پایا
یہ ملاقات صرف امن تک محدود نہیں رہی۔ دونوں ملکوں نے تجارت، تعلیم، سیاحت اور کھیلوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا۔ احسن اقبال نے دواؤں، ٹیکسٹائل، چاول، سیمنٹ، تعمیراتی سامان اور ہلکی انجینئرنگ مصنوعات میں پاکستان کی برآمدی گنجائش سامنے رکھی، لبنان میں پاکستانی تجارتی نمائشیں لگانے اور کاروباری وفود کے تبادلے کی تجویز دی، اور پاکستانی و لبنانی جامعات کے درمیان سمسٹر طویل طلبہ تبادلے کی بات کی، جن کے کریڈٹ دونوں طرف تسلیم ہوں۔ سفیر نے لبنان کی صورتحال میں بہتری سے بھی آگاہ کیا۔
یہ تعریف معنی کیوں رکھتی ہے
اصل نکتہ پس منظر ہے۔ امریکا ایران کشیدگی نے پورے خطے کو خطرے میں ڈال رکھا تھا اور اس کے اثرات عالمی معیشت اور مہنگائی کی صورت پاکستان جیسے ملکوں تک پہنچ رہے تھے۔ احسن اقبال نارووال میں کہہ چکے ہیں کہ مذاکرات اسلام آباد میں جاری ہیں، دونوں ملکوں کے وفود یہاں موجود ہیں، اور وزیراعظم شہباز شریف نے اس کوشش پر آرمی چیف عاصم منیر کو مبارکباد بھی دی۔ ان کے بقول بجائے منفی ردعمل کے بھارت کو بھی اس کردار کو تسلیم کرنا چاہیے، کیونکہ خطے کا امن سب کے مفاد میں ہے۔ ایسے میں لبنان جیسے ملک، جو خود خطے کی کشیدگی کی لپیٹ میں رہا ہے، کے سفیر کی تعریف محض رسمی جملہ نہیں لگتی۔ یہ اس تاثر کو مضبوط کرتی ہے کہ پاکستان اس بار تنازع کا فریق نہیں، ثالث کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، اور یہی تبدیلی اصل کامیابی ہے۔



