پیر, 19 اکتوبر 2026
پیر, 19 اکتوبر 2026|
تازہ ترین
گھر پر ریسٹورنٹ جیسا چکن تکہ بنانے کا آسان طریقہ، دہی اور مصالحوں کی میرینیشن ہی اصل راز ہے•
جاز کیش نے امریکا میں منی 20/20 کا سلور ایوارڈ جیت لیا، صحت پلس پلیٹ فارم کو انشورنس ٹیکنالوجی میں عالمی اعزاز ملا
• کورین سائنس فکشن تھرلر فلم ’ہوپ‘ 23 اکتوبر کو پاکستان کے سینماؤں میں ریلیز ہوگی، ہم فلمز پیش کرے گی•
این سی اے لاہور میں پنک ٹوبر آگاہی سیشن، چھاتی کے کینسر کی بروقت تشخیص اور صحت مند طرز زندگی پر زور
• آلو قیمہ گھر پر بنائیں: دھابے جیسا مصالحہ، نرم آلو اور وہی پرانا گھریلو ذائقہ جو روٹی کے ساتھ جچتا ہے• ڈی جی آئی ایس پی آر کا دوٹوک پیغام، سعودی عرب کے دفاع کے لیے جو مدد درکار ہے وہ دی جا رہی ہے اور دی جاتی رہے گی• عمرہ زائرین کے لیے بڑی سہولت، مسجد الحرام اور مسجد نبوی میں ہجوم کی صورتحال اب موبائل پر لائیو دیکھی جا سکے گی• جھنگ تھل جیپ ریلی کا اختتام، سلطان خالد حمید خان نے صحرائی کیٹیگری جیت لی، پیرا گلائیڈر قاضی ظفر کی قربانی نے میلے کو سوگوار کر دیا•
سیاست

خضدار کے علاقے نال میں ماربل کان سے 18 افراد اغوا، فائرنگ سے ایک مزدور زخمی، مغویوں کی تلاش کے لیے کارروائی جاری

News Cuff

کوئٹہ: خضدار کے علاقے نال میں اتوار کو درجنوں مسلح افراد نے ایک ماربل کان پر دھاوا بول کر 18 افراد کو اغوا کر لیا۔ پولیس کے مطابق حملہ آور گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں پر سوار ہو کر کان اور فیکٹری کے احاطے میں داخل ہوئے، مزدوروں کو بندوق کی نوک پر یرغمال بنایا اور انہیں اپنے ساتھ لے گئے۔ مغویوں میں کان مالک کا بیٹا بھی شامل ہے، جبکہ فرار کی کوشش کرنے والے ایک مزدور کو فائرنگ کر کے زخمی کر دیا گیا۔

کان کس کی ہے، مغوی کون ہیں؟

نال تھانے کے ایس ایچ او غلام مصطفیٰ کے مطابق یہ مقام خضدار شہر سے تقریباً 40 کلومیٹر دور ہے اور کان سردار عالم خان بزنجو کی ہے، جو سابق صوبائی وزیر اور نیشنل پارٹی سے وابستہ قبائلی سردار اسلم بزنجو کے بیٹے ہیں۔ اغوا ہونے والے مزدور وڈھ اور نال کے مقامی رہائشی بتائے جاتے ہیں۔ جاتے ہوئے حملہ آور کان سے ایک لوڈر اور دو گاڑیاں بھی لے گئے۔

تلاش جاری، ذمہ داری کسی نے قبول نہیں کی

حکام کا کہنا ہے کہ سکیورٹی فورسز نے علاقے میں مغویوں کی تلاش کے لیے کارروائی شروع کر دی ہے اور پولیس ان کے ٹھکانے کا سراغ لگانے کی کوشش کر رہی ہے۔ تاحال کسی گروہ نے اس اغوا کی ذمہ داری قبول نہیں کی اور نہ ہی حملے کی وجہ سامنے آئی ہے۔ یہ واقعہ بلوچستان میں دو دن کے اندر دوسرا بڑا اغوا ہے؛ اس سے پہلے مستونگ کے قریب کلات پولیس ٹریننگ سینٹر کے 20 زیر تربیت اہلکاروں کو بھی بس سے اغوا کیا گیا تھا، جس کے بعد صوبے میں مزدوروں اور سرکاری اہلکاروں کی سکیورٹی پر سوالات پھر سے اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔

قرآن مجید اردو ترجمے کے ساتھ پڑھیںنماز کے اوقات • رمضان کیلنڈر • قرآنی دعائیں

متعلقہ خبریں

تبصرہ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے