قومی اکاؤنٹس کمیٹی نے مالی سال 2026 کی شرح نمو 3.65 فیصد مقرر کر دی، آخری سہ ماہی میں رفتار 2 فیصد تک گر گئی

اسلام آباد: شرح نمو میں ردوبدل کوئی غیر معمولی بات نہیں، مگر اس بار کہانی اعداد کے اندر چھپی ہے۔ قومی اکاؤنٹس کمیٹی نے پیر کو پاکستان بیورو آف شماریات میں ہونے والے اپنے 118ویں اجلاس میں مالی سال 2025-26 کی شرح نمو 3.70 فیصد کے پچھلے تخمینے سے گھٹا کر 3.65 فیصد مقرر کر دی۔ یہ چار برس کی تیز ترین سالانہ رفتار ہے، لیکن سال کی آخری سہ ماہی نے ساری چمک ماند کر دی۔
آخری سہ ماہی میں رفتار کیوں گری
اپریل سے جون کی سہ ماہی میں معیشت صرف 2 فیصد کی رفتار سے بڑھی، جبکہ پچھلے سال اسی مدت میں یہ شرح 6.07 فیصد تھی۔ یہ چھ سہ ماہیوں کی کم ترین سطح ہے۔ اس سہ ماہی میں صنعتی سرگرمی 4.70 فیصد سکڑ گئی، اور بجلی، گیس و پانی کے شعبے میں 33.2 فیصد کی بھاری کمی آئی۔ اس گراوٹ کی ایک بڑی وجہ شمسی توانائی کے اعداد شامل کرنے کے طریقہ کار میں تبدیلی کے بعد پچھلے سال بننے والا غیر معمولی بلند موازنہ ہے، جب یہی شعبہ تقریباً 123 فیصد بڑھا تھا۔ پورے سال میں بھی یہ شعبہ 10.24 فیصد سکڑا رہا۔
کون سا شعبہ آگے، کون سا پیچھے
نظرثانی میں زراعت کی شرح 2.89 سے بڑھا کر 3.50 فیصد کر دی گئی، جبکہ صنعت 3.51 سے گھٹ کر 3.34 اور خدمات 4.09 سے گھٹ کر 3.81 فیصد رہ گئیں۔ بڑی صنعتوں کی رفتار 6.11 سے کم ہو کر 5.01 فیصد رہی، تاہم گاڑیوں کی صنعت 57.77 فیصد، تعمیرات 6.30 فیصد اور کان کنی 1.52 فیصد بڑھی۔ دوسری طرف ادویات سازی 8.87 فیصد اور لوہے و فولاد کی مصنوعات 7.84 فیصد سکڑ گئیں۔
معیشت کا حجم اور اندازے
کمیٹی کے مطابق معیشت کا حجم 126.4 کھرب روپے یعنی 450.4 ارب ڈالر تک پہنچ گیا اور فی کس آمدنی 5 لاکھ 31 ہزار 897 روپے یعنی 1,896 ڈالر رہی۔ مالی سال 2024-25 کی شرح نمو بھی 3.18 سے گھٹا کر 3.11 فیصد کر دی گئی۔ نئی شرح آئی ایم ایف کے 3.6، عالمی بینک اور ایشیائی ترقیاتی بینک کے 3.7 فیصد اندازوں کے قریب ہے، البتہ اسٹیٹ بینک کی 3.75 سے 4.75 فیصد کی پیش گوئی سے پیچھے رہ گئی۔ سوال اب یہ ہے کہ آخری سہ ماہی کی سست روی عارضی ثابت ہوتی ہے یا نئے مالی سال میں بھی ساتھ چلتی ہے۔



