حکومت کی اپوزیشن کو دہشت گردی پر مذاکرات کی پیشکش، رانا ثناء اللہ نے کہا وزیراعظم تمام فریقوں کو بلانے کے لیے تیار ہیں

اسلام آباد: وفاقی حکومت نے اپوزیشن کو ایک بار پھر میز پر آنے کی دعوت دے دی ہے۔ وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثناء اللہ نے منگل کو سینیٹ میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اگر تمام جماعتیں دہشت گردی کے مسئلے پر بیٹھنے پر آمادہ ہو جائیں تو وزیراعظم شہباز شریف اب بھی انہیں بلانے اور آگے کا راستہ تلاش کرنے کے لیے تیار ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ باقی مطالبات ایک طرف رکھ کر اس ایک مسئلے پر پوری قوم کو ایک ہونا پڑے گا۔
حکومت نے مثال کس آپریشن کی دی؟
رانا ثناء اللہ نے یاد دلایا کہ آپریشن ضرب عضب بھی اسی اتفاق رائے سے شروع ہوا تھا جس کی آج پھر ضرورت ہے۔ ان کے بقول ملک دہشت گردی کا سامنا کر رہا ہے اور سوال یہ ہے کہ آپریشنز کی پشت پر پورا ملک کیسے کھڑا ہو۔ انہوں نے ایک روز قبل شہید ہونے والے فوجی افسر کا ذکر کرتے ہوئے افسوس ظاہر کیا اور کہا کہ اپوزیشن کی جانب سے فوجی قیادت کے خلاف مہم اور حد سے گزری ہوئی باتیں قومی خدمت نہیں کہلا سکتیں۔
اپوزیشن رہنماؤں پر تنقید کس بات پر ہوئی؟
مشیر وزیراعظم نے قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف محمود خان اچکزئی کو خاص طور پر نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ اچکزئی سپیکر کے دستخط سے ہی اپوزیشن لیڈر بنے، مگر اب نہ سپیکر کو مانتے ہیں، نہ ان کے چیمبر میں وزیراعظم سے ملنے کو تیار ہیں۔ سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر راجہ ناصر عباس کے بارے میں بھی انہوں نے بتایا کہ ملاقات اور سپیکر کے دفتر آنے، دونوں تجاویز ٹھکرا دی گئیں۔
خیبر پختونخوا اور بلوچستان کا موازنہ کیوں کیا گیا؟
رانا ثناء اللہ کا کہنا تھا کہ بلوچستان کی حکومت مسلح افواج اور وفاق کے ساتھ مکمل تعاون کر رہی ہے، جبکہ خیبر پختونخوا کی سابق حکومت ایپکس کمیٹی کے اجلاسوں سے ہی غائب رہی — گیارہ ماہ میں صرف ایک اجلاس میں وزیراعلیٰ شریک ہوئے۔ ان کے بقول معزول وزیراعلیٰ سہیل آفریدی بار بار کہتے رہے کہ صوبے میں آپریشن نہیں ہونے دیں گے۔ یہ خطاب اس پس منظر میں آیا ہے کہ وفاق 11 اکتوبر کو خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج نافذ کر چکا ہے اور پارلیمنٹ گزشتہ ہفتے اپوزیشن کے احتجاج کے باوجود ان فیصلوں کی توثیق کر چکی ہے۔



