پیٹرول 88 پیسے مہنگا ہو کر 382 روپے 2 پیسے فی لیٹر ہو گیا، ڈیزل میں بھی 53 پیسے اضافہ، نئی قیمت 389 روپے 80 پیسے مقرر

اسلام آباد: ایک دن کی کمی کے بعد ایندھن پھر مہنگا ہو گیا۔ وفاقی حکومت نے بدھ 21 اکتوبر کے لیے petrol price hike کا نوٹیفکیشن جاری کرتے ہوئے پیٹرول 88 پیسے فی لیٹر مہنگا کر دیا ہے، جس کے بعد اس کی قیمت 381 روپے 14 پیسے سے بڑھ کر 382 روپے 2 پیسے فی لیٹر ہو گئی ہے۔ ہائی اسپیڈ ڈیزل بھی 53 پیسے مہنگا ہوا ہے اور اب 389 روپے 27 پیسے کے بجائے 389 روپے 80 پیسے فی لیٹر ملے گا۔ پٹرولیم ڈویژن کے مطابق نئی قیمتیں آج سے نافذ ہیں۔
کل سستا، آج مہنگا — روزانہ نظام کا یہی رنگ ہے
یہ اضافہ اس کمی کے فوراً بعد آیا ہے جو 20 اکتوبر کے لیے کی گئی تھی، جب پیٹرول 5 روپے 16 پیسے اور ڈیزل 7 روپے 69 پیسے سستا ہوا تھا۔ جولائی سے نافذ روزانہ قیمتوں کے نظام میں اب یہ اتار چڑھاؤ معمول بن چکا ہے۔ وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک کہتے ہیں کہ روزانہ قیمتیں پچھلے سات دن کی عالمی منڈی کی اوسط کو دیکھ کر طے کی جاتی ہیں، جو بین الاقوامی طریقہ کار کے مطابق ہے۔ اوگرا نے اپنی ویب سائٹ پر روزانہ قیمتیں جاری کرنا بھی شروع کر دیا ہے تاکہ عالمی تبدیلی جلد اور شفاف انداز میں صارف تک پہنچے۔ جمعہ کو جاری قیمت ہفتہ اور اتوار کو برقرار رہتی ہے۔
اضافہ درآمدی لاگت سے آیا، لیوی نہیں بدلی
نوٹیفکیشن کے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ اس بار اضافہ ٹیکسوں سے نہیں، درآمدی لاگت سے آیا ہے۔ پیٹرول کی درآمدی لاگت 270 روپے 40 پیسے سے بڑھ کر 271 روپے 28 پیسے فی لیٹر ہو گئی، جبکہ ڈیزل کی لاگت 281 روپے 71 پیسے سے 282 روپے 24 پیسے ہو گئی۔ دونوں ایندھنوں پر پٹرولیم لیوی 80 روپے فی لیٹر اور کلائمیٹ سپورٹ لیوی 5 روپے فی لیٹر برقرار ہے۔ ڈیلرز کا مارجن 9 روپے 98 پیسے اور آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کا مارجن 7 روپے 87 پیسے فی لیٹر بھی نہیں بدلا۔
جیب پر اثر کتنا؟
88 پیسے کا اضافہ بظاہر چھوٹا ہے، مگر موٹر سائیکل اور چھوٹی گاڑی والوں کے لیے روز کا حساب یہیں سے بنتا بگڑتا ہے۔ ڈیزل مہنگا ہونے کا دباؤ ٹرانسپورٹ کرایوں اور اشیا کی ترسیل پر پڑتا ہے، اس لیے تاجر بھی روزانہ کے نوٹیفکیشن پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔ مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور آبنائے ہرمز کے گرد غیر یقینی صورتحال نے عالمی تیل کو مستحکم ہونے نہیں دیا، اور جب تک یہی کیفیت ہے، پاکستان میں بھی روز کا یہ اتار چڑھاؤ جاری رہنے کا امکان ہے۔



