جمعرات, 22 اکتوبر 2026
جمعرات, 22 اکتوبر 2026|
تازہ ترین
پی آئی ٹی بی نے آئی ٹی ہارڈویئر جدت اور تحقیق کے لیے تین سرکاری جامعات کے ساتھ مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کر دیے• سلطان آف جوہر کپ: ملائیشیا نے پاکستان کو 3-2 سے شکست دے دی، پاکستانی ٹیم میچ آٹھ کھلاڑیوں کے ساتھ مکمل کرنے پر مجبور• پیٹرول 2 روپے 71 پیسے سستا ہو کر 379 روپے 31 پیسے فی لیٹر ہو گیا، ڈیزل 31 پیسے مہنگا، نئی قیمتیں آج سے نافذ• پاکستان، قطر، ترکیہ اور انڈونیشیا نے دوحہ میں ’بدر‘ دفاعی تعاون کے معاہدے پر دستخط کر دیے، مشترکہ دفاعی پیداوار پر اتفاق• لاہور ہائیکورٹ نے لاپتا ٹی ایل پی رہنماؤں سعد رضوی اور انس رضوی کے بارے میں وزارت داخلہ سے 27 اکتوبر تک رپورٹ طلب کر لی• راجن پور میں انڈس ہائی وے پر مسافر بس ڈیوائیڈر سے ٹکرا کر الٹ گئی، کم از کم 9 مسافر جاں بحق، درجنوں زخمی• سپریم کورٹ کا اسپتالوں میں آپریشن تھیٹرز کے باقاعدہ معائنے اور ہر اسپتال میں شکایات ڈیسک قائم کرنے کا حکم• ملتان میں 15 سالہ یتیم وسیم عباس کے قتل پر فنکار بھی بول اٹھے، مشی خان، یمنیٰ زیدی اور فیضہ خان کا فوری انصاف کا مطالبہ•
سیاست

پاکستان، قطر، ترکیہ اور انڈونیشیا نے دوحہ میں ’بدر‘ دفاعی تعاون کے معاہدے پر دستخط کر دیے، مشترکہ دفاعی پیداوار پر اتفاق

News Cuff

دوحہ: پاکستان نے دفاعی صنعت میں خود انحصاری کی جانب ایک اور بڑا قدم اٹھا لیا۔ بدھ کو قطر کے دارالحکومت دوحہ میں پاکستان، قطر، ترکیہ اور انڈونیشیا نے ’بدر‘ کے نام سے کثیرالملکی دفاعی تعاون کے معاہدے پر دستخط کیے، جس کا مقصد چاروں ممالک کی دفاعی پیداوار کی صلاحیتوں کو یکجا کر کے بیرونی سپلائرز پر انحصار کم کرنا ہے۔ معاہدہ چاروں ممالک کی وزارتِ دفاع کے علاوہ پاکستان کے دفاعی پیداوار کے ادارے اور ترکیہ کی دفاعی صنعتوں کی صدارت کے درمیان طے پایا۔

کس نے دستخط کیے، تقریب میں کون کون شریک تھا

پاکستان کی جانب سے وزیرِ دفاع خواجہ محمد آصف نے دستخط کیے۔ تقریب میں ترکیہ کے وزیرِ دفاع یاسر گولر، قطر کے نائب وزیراعظم و وزیر مملکت برائے دفاعی امور شیخ سعود بن عبدالرحمن آل ثانی اور انڈونیشیا کے نائب وزیرِ دفاع یوسف جوہری موجود تھے۔ وزیرِ دفاعی پیداوار رضا حیات ہراج اور ترکیہ کی دفاعی صنعتوں کے سربراہ خالوق گورگون بھی اس موقع پر شریک تھے۔ دستخط کی تقریب کی تصاویر ترکیہ کی وزارتِ دفاع کی جانب سے جاری کی گئیں۔

معاہدے میں کیا ہے: پیداوار، ٹیکنالوجی اور تربیت

مشترکہ اعلامیے کے مطابق معاہدے کا محور دفاعی تیاری اور مشترکہ پیداوار، ٹیکنالوجی کی منتقلی اور ترقی، تحقیق و ترقی (آر اینڈ ڈی) اور تکنیکی تربیت ہے۔ خالوق گورگون نے کہا کہ ٹیکنالوجی کی شراکت، مشترکہ ترقی اور ملکی پیداواری صلاحیت کو مضبوط بنانا ہی پائیدار دفاعی صنعت کی بنیاد ہے، اور ’بدر‘ معاہدہ چاروں ممالک کی ایک دوسرے کو مکمل کرنے والی صلاحیتوں کو عملی منصوبوں میں بدلے گا۔ اعلامیے میں یہ بھی کہا گیا کہ یہ معاہدہ دستخط کنندہ ممالک کے لیے اہم معاشی اہمیت رکھتا ہے کیونکہ تیار ہونے والا دفاعی سازوسامان اتحادی اور دوست ممالک کی ضروریات بھی پوری کر سکے گا، اور متفقہ شرائط پر مزید دوست ممالک بھی اس میں شامل ہو سکیں گے۔ خواجہ آصف نے کہا کہ یہ یادداشت قابلِ اعتماد شراکت داروں کے ساتھ کام کرنے اور علاقائی امن و استحکام میں حصہ ڈالنے کے مشترکہ عزم کی عکاس ہے۔

مکہ معاہدے کے بعد دوسرا بڑا دفاعی فریم ورک

یہ پیش رفت اسی سلسلے کی کڑی ہے جس میں رواں سال اگست میں پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ طے پایا تھا، جس کے تحت کسی ایک ملک پر حملہ سب پر حملہ تصور ہو گا۔ خطے میں تیزی سے بدلتی سلامتی کی صورت حال کے درمیان دو ماہ کے اندر دوسرے بڑے دفاعی فریم ورک پر دستخط اسلام آباد کی خلیجی اور مسلم ممالک کے ساتھ تزویراتی قربت کو مزید گہرا کر رہے ہیں۔

قرآن مجید اردو ترجمے کے ساتھ پڑھیںنماز کے اوقات • رمضان کیلنڈر • قرآنی دعائیں

متعلقہ خبریں

تبصرہ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے