ایل پی جی کی قیمت 600 روپے فی کلو تک جا پہنچی، سرکاری نرخ 279 روپے مگر بازار میں کہیں عمل درآمد نہیں

کراچی: سردی ابھی پوری طرح آئی بھی نہیں اور باورچی خانے کا بجٹ پہلے ہی بگڑنے لگا ہے۔ ملک بھر میں ایل پی جی 500 سے 600 روپے فی کلو تک بک رہی ہے، جبکہ اوگرا نے اکتوبر کے لیے سرکاری نرخ 279 روپے 34 پیسے فی کلو مقرر کر رکھا ہے۔ یعنی جو سلنڈر کاغذوں میں سستا ہے، دکان پر وہی دوگنی سے بھی زیادہ قیمت پر مل رہا ہے۔
گھریلو سلنڈر کے حساب سے فرق اور بھی واضح ہو جاتا ہے۔ 11.8 کلو کے سلنڈر کی سرکاری قیمت 3 ہزار 296 روپے بنتی ہے، مگر بازار میں یہی سلنڈر 5 ہزار 900 سے 7 ہزار 80 روپے تک فروخت ہو رہا ہے۔ اوگرا نے ستمبر کے 258 روپے 65 پیسے کے مقابلے میں اکتوبر میں فی کلو 20 روپے 69 پیسے کا اضافہ کیا تھا، لیکن بازار اس اضافے سے کہیں آگے نکل گیا ہے۔
قیمت کیوں بھڑکی؟
ایل پی جی ڈسٹری بیوٹرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین عرفان کھوکھر کے مطابق ایران کے ساتھ تجارتی راستوں کی بندش سے سپلائی متاثر ہوئی ہے اور شمالی علاقوں میں سردی کی طلب بڑھتے ہی قیمتیں مزید اوپر گئی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ملک کے بیشتر حصوں سے 500 سے 600 روپے فی کلو فروخت کی اطلاعات آ رہی ہیں اور صورتحال یہی رہی تو نرخ مزید بڑھ سکتے ہیں۔
کھوکھر نے اوگرا کو بھی آڑے ہاتھوں لیا۔ ان کے بقول ملکی ریفائنریاں اور گیس فیلڈز ہی زیادہ تر طلب پوری کرتی ہیں، اس کے باوجود سرکاری نرخ پر عمل درآمد نہ ہونا نگرانی کی کمزوری ہے۔ انہوں نے کالا بازاری کی تحقیقات اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ لاہور میں پنجاب انفورسمنٹ اینڈ ریگولیٹری اتھارٹی بھی سرکاری نرخ منوانے میں اب تک ناکام بتائی جاتی ہے۔
سب سے زیادہ دباؤ ان گھروں پر ہے جہاں پائپ لائن گیس یا تو ہے ہی نہیں یا لوڈشیڈنگ کی وجہ سے بھروسے کے قابل نہیں رہی۔ ایسے گھرانوں کے لیے ایل پی جی عیاشی نہیں، روز کی ضرورت ہے — اور اسی ضرورت کی قیمت اب ہر مہینے بڑھتی جا رہی ہے۔



