پاکستان میں ویکسین کی مقامی تیاری کے لیے ایشیائی ترقیاتی بینک سے تکنیکی تعاون پر بات چیت، ڈریپ اور قومی ادارہ صحت بھی ایجنڈے میں شامل

اسلام آباد: وفاقی وزیر صحت سید مصطفیٰ کمال اور ایشیائی ترقیاتی بینک (اے ڈی بی) کے وفد کے درمیان پاکستان کے نظام صحت کو مضبوط بنانے کے لیے تکنیکی تعاون پر تفصیلی بات چیت ہوئی ہے، جس میں ویکسین کی مقامی تیاری سرفہرست رہی۔ ملاقات میں ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (ڈریپ)، قومی ادارہ صحت، بچوں کو 13 بیماریوں سے بچاؤ کی ویکسین، یونیورسل میڈیکل ریکارڈ، آبادی کے چیلنجز اور اسلام آباد ہیلتھ کیئر ریگولیٹری اتھارٹی جیسے موضوعات زیر بحث آئے۔
دونوں جانب نے اس بات پر اتفاق کیا کہ پاکستان کو ویکسین کے لیے درامدات پر انحصار کم کرنا ہوگا۔ ملک میں ہر سال لاکھوں بچوں کو حفاظتی ٹیکے لگتے ہیں اور قومی حفاظتی ٹیکوں کے پروگرام کے تحت 13 اقسام کی ویکسین مفت فراہم کی جاتی ہیں، مگر ان کی تیاری کا بڑا حصہ بیرون ملک سے آتا ہے۔ مقامی سطح پر پیداوار شروع ہونے سے نہ صرف رسد کا تسلسل یقینی ہوگا بلکہ ادویات کے معیار اور ریگولیٹری نظام کو بھی جدید بنانے میں مدد ملے گی۔
اسی سلسلے کی ایک اور ملاقات میں وزیر صحت نے اے جے ویکسینز کے عالمی سیلز ڈائریکٹر ینس الریک آلس کی قیادت میں آنے والے وفد سے بھی گفتگو کی۔ اس ملاقات میں بھی ویکسین کی مقامی مینوفیکچرنگ میں ممکنہ تعاون، ملک کی تقریباً 26 کروڑ آبادی کی ضروریات اور حفاظتی ٹیکوں کے پروگرام کی ضروریات پر تبادلہ خیال ہوا۔ وزارت کا کہنا ہے کہ بین الاقوامی شراکت داریوں کے ذریعے مقامی دوا ساز صنعت کی صلاحیت بڑھانا اور ویکسین کی فراہمی کو پائیدار بنانا حکومت کی ترجیح ہے۔
حکام کے مطابق تکنیکی تعاون سے اداروں کی استعداد بڑھانے، فارماسیوٹیکل معیار بہتر کرنے اور ریگولیٹری فریم ورک کو مؤثر بنانے میں مدد ملے گی، تاکہ مستقبل کی صحت ایمرجنسیوں سے نمٹنے کی تیاری بھی بہتر ہو سکے۔



