ریاض کی طرف داغا گیا حوثی بیلسٹک میزائل تباہ، سعودی اتحاد کا فضائی دفاع سے روکنے کا دعویٰ

File photo: Alpert Nathan / Israel Government Press Office, via Wikimedia Commons (CC BY-SA)
ریاض: سعودی عرب کی قیادت میں قائم اتحاد کا کہنا ہے کہ ہفتے کی صبح ریاض کی طرف حوثیوں کی جانب سے داغا گیا ایک بیلسٹک میزائل فضائی دفاع نے انٹرسپٹ کر کے تباہ کر دیا۔ اتحاد کے ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ "فضائی دفاع نے حوثی دہشت گرد ملیشیا کی جانب سے ریاض کی طرف داغے گئے بیلسٹک میزائل کو روک کر تباہ کر دیا۔”
اے ایف پی کے صحافی نے بھی دھماکے سنے
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق ریاض میں موجود ان کے صحافی نے ہفتے کی صبح دو دھماکوں کی آوازیں سنیں۔ میزائل کے اصل نشانے کی تصدیق آزاد ذرائع سے نہیں ہو سکی، اور اسے روکنے کا دعویٰ بھی اب تک صرف اتحاد کی جانب سے آیا ہے — آزادانہ تصدیق ابھی باقی ہے۔
تین علاقوں میں وارننگ، پھر خطرہ ٹلنے کا اعلان
سعودی شہری دفاع نے نیشنل ارلی وارننگ پلیٹ فارم کے ذریعے ریاض، نجران اور وادی الدواسر میں الرٹ جاری کیا — شہریوں سے کہا گیا کہ وہ گھروں کے اندر رہیں، کھڑکیوں سے دور رہیں، نہ جمع ہوں اور نہ ہی ریکارڈنگ کریں۔ بعد ازاں ان تینوں علاقوں میں خطرہ ٹلنے کا اعلان کر دیا گیا۔ سعودی وزارت داخلہ نے خبردار کیا ہے کہ انٹرسپٹ کی ویڈیو بنانا یا پھیلانا قانونی طور پر قابل سزا ہو سکتا ہے۔ ترجمان کے ایک پہلے بیان کے مطابق مشرقی صوبے میں ایک علیحدہ ڈرون بھی مار گرایا گیا۔
اس ہفتے کا پرتشدد تناظر
حوثی حملوں کا سلسلہ اس ہفتے تیز رہا ہے۔ بدھ کو دمام کے کنگ فہد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر حملے میں 2 افراد جاں بحق (ایک سعودی شہری اور ایک بھارتی باشندہ) اور 8 زخمی ہوئے تھے، جبکہ شیبہ آرامکو سہولت پر ڈرون کے ملبے سے 2 باشندے (فلپائنی اور نیپالی) ہلاک ہوئے۔ حوثیوں نے ریاض میں وزارت دفاع کے ہیڈکوارٹرز، ینبع کی آرامکو سہولت اور ابھا ایئرپورٹ کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے — ان دعووں کی آزاد تصدیق نہیں ہوئی۔ یورپی یونین نے یمن کے لیے 25 ملین ڈالر کی اضافی انسانی امداد کا اعلان کیا، جبکہ برینٹ خام تیل 116 ڈالر سے اوپر چھ ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا ہے۔



