پیٹرول 1.54 روپے اور ڈیزل 2.16 روپے فی لیٹر مہنگا — نئے نرخ آج سے نافذ

تصویر: پٹرول پمپ کی فائل فوٹو — Wikimedia Commons
نئے نرخ: پیٹرول 379.25 روپے، ڈیزل 395.82 روپے فی لیٹر
اعلان: پیر کو پٹرولیم ڈویژن کی نوٹیفکیشن، اوگرا کی سفارش پر
طریقہ کار: روزانہ قیمتوں کا نظام برقرار
اسلام آباد سے پیر کی شام آنے والی خبر موٹر سائیکل سواروں سے لے کر ٹرک ڈرائیوروں تک ہر اس شخص کے لیے ہے جو سڑک پر نکلتا ہے: حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل دونوں کی قیمتیں بڑھا دی ہیں۔ پیٹرول 1.54 روپے مہنگا ہو کر 379.25 روپے فی لیٹر ہو گیا ہے، جبکہ ہائی سپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 2.16 روپے کا اضافہ ہوا ہے اور اب وہ 395.82 روپے فی لیٹر میں ملے گا۔
یہ نرخ آج، منگل 27 اکتوبر سے نافذ ہیں۔ اس سے پہلے پیٹرول 377.71 روپے اور ڈیزل 393.66 روپے فی لیٹر تھا۔ پٹرولیم ڈویژن کی نوٹیفکیشن آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) کی سفارش پر جاری ہوئی، جو روزانہ قیمتوں کے نظام کے تحت ایکس ڈپو نرخوں کا اعلان کرتی ہے۔
عالمی منڈی نے پھر رخ موڑا
اوگرا کے مطابق اس بار نظرثانی کی وجہ عالمی منڈی میں تبدیلی ہے — پلاٹس نرخوں، پریمیم اور دیگر اخراجات میں ردوبدل۔ بزنس ریکارڈر کی رپورٹ کے مطابق ریفائنڈ پیٹرول کی اوسط قیمت 117.52 ڈالر سے بڑھ کر 118.41 ڈالر فی بیرل ہو گئی، جبکہ ڈیزل کا بینچ مارک 110.58 ڈالر تک پہنچا۔ اسی حساب سے پیٹرول کی ایکس ریفائنری قیمت 266.95 سے بڑھ کر 268.49 روپے اور ڈیزل کی درآمدی لاگت 286.11 سے بڑھ کر 288.27 روپے فی لیٹر ہو گئی۔
لیوی میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی۔ پٹرولیم لیوی 80 روپے اور کلائمیٹ سپورٹ لیوی 5 روپے فی لیٹر برقرار ہے، اور ڈیلرز و آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کے مارجن بھی وہی رہے۔
پچھلی کھڑکی سے موازنہ
یہ اضافہ اس سے بالکل مختلف ہے جو گزشتہ تین دن چلا۔ 24 سے 26 اکتوبر کی کھڑکی میں ڈیزل 1.91 روپے بڑھا تھا مگر پیٹرول کی قیمت جوں کی توں رکھی گئی تھی۔ آج دونوں ایندھن ایک ساتھ مہنگے ہوئے ہیں — اور یہی فرق اس خبر کو نئی بناتا ہے۔
عام آدمی پر اثر کیا پڑے گا؟
پیٹرول زیادہ تر نجی گاڑیوں، موٹر سائیکلوں اور رکشوں میں جلتا ہے، اس لیے اس کی قیمت سیدھی گھر کے ماہانہ بجٹ سے ٹکراتی ہے۔ ڈیزل کا معاملہ اور بھی وسیع ہے: بھاری ٹرانسپورٹ، بسیں، مال بردار گاڑیاں، زرعی مشینری اور جنریٹر سب اسی پر چلتے ہیں۔ ڈیزل مہنگا ہو تو کرایہ اور مال برداری کی لاگت بڑھتی ہے، اور وہ بوجھ آخرکار اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں بھی جھلک سکتا ہے۔
دوسری جانب حکومت کی کفایت شعاری کی تدابیر بھی چل رہی ہیں — بازار رات 9 بجے بند کرنے کا حکم اور سرکاری گاڑیوں کے ایندھن میں تین ماہ کے لیے 50 فیصد کٹوتی۔ ساتھ ہی 13 ستمبر کو اعلان کردہ ریلیف اسکیم بھی موجود ہے، جس کے تحت موٹر سائیکل، رکشہ اور 800 سی سی تک کی گاڑیوں کو 100 روپے فی لیٹر رعایت دی جانی ہے۔


