پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں منافع خوری، کے ایس ای 100 انڈیکس 784 پوائنٹس گر کر ایک لاکھ 66 ہزار 409 پر بند

File photo of a stock exchange bull (Wikimedia Commons).
کراچی: پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں چار روز تک جاری رہنے والی تیزی جمعے کو منافع خوری کی نذر ہو گئی، اور بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس 784 پوائنٹس کی کمی سے ایک لاکھ 66 ہزار 409 پر بند ہوا۔
دن کا آغاز اور اختتام
کاروبار کے دوران انڈیکس زیادہ تر وقت منفی زون میں رہا۔ ٹاپ لائن سیکیورٹیز کے مطابق انڈیکس 784.19 پوائنٹس یعنی 0.47 فیصد گر کر 166,409.25 پر بند ہوا، جبکہ گزشتہ روز کا اختتام 167,193.44 پر ہوا تھا۔ عارف حبیب لمیٹڈ کے مطابق دن کی بلند ترین سطح 167,339 اور کم ترین سطح 166,535 رہی، اور انڈیکس دن کی کم ترین سطح کے قریب بند ہوا۔ یو بی ایل، لکی سیمنٹ اور ایچ بی ایل وہ بڑے حصص تھے جنہوں نے انڈیکس کو سب سے زیادہ نیچے کھینچا۔
ہفتہ پھر بھی مثبت، مہینہ منفی
دلچسپ بات یہ ہے کہ جمعے کی مندی کے باوجود ہفتہ مجموعی طور پر مثبت رہا۔ میٹس گلوبل کے ہفتہ وار جائزے کے مطابق 30 اکتوبر کو ختم ہونے والے ہفتے میں کے ایس ای 100 انڈیکس 4,034 پوائنٹس یعنی 2.48 فیصد بڑھ کر 166,409.25 پر بند ہوا، جبکہ 23 اکتوبر کو یہ 162,374.88 پر تھا۔ اس سے پہلے چار سیشنز میں انڈیکس تقریباً 4,800 پوائنٹس بحال ہو چکا تھا، جس کے بعد سرمایہ کاروں نے منافع سمیٹنا شروع کر دیا۔
اکتوبر کا مہینہ البتہ منفی رہا۔ ٹاپ لائن کے ماہانہ جائزے کے مطابق انڈیکس اکتوبر میں 2.09 فیصد گرا، جس کی وجوہات میں جغرافیائی سیاسی غیر یقینی صورتحال، غیر ملکی سرمایہ کاروں کی فروخت، بڑے حصص میں منافع خوری اور عالمی منڈیوں میں اتار چڑھاؤ شامل ہیں۔ تیل کی قیمتوں میں اضافے اور آبنائے ہرمز سے متعلق خدشات نے بھی سرمایہ کاروں کو محتاط رکھا۔
کاروباری حجم اور شرعی انڈیکس
ریڈی مارکیٹ میں 825.467 ملین حصص کا کاروبار ہوا، جو گزشتہ سیشن کے 816.834 ملین سے زیادہ ہے۔ شرعی حصص کا کے ایم آئی 30 انڈیکس بھی دباؤ سے نہ بچ سکا اور 986.41 پوائنٹس یعنی 0.41 فیصد گر کر 237,971.74 پر بند ہوا۔



