بدھ, 4 نومبر 2026
بدھ, 4 نومبر 2026|
تازہ ترین
مضامین

افغان واپسی مہم کا نیا اور سخت مرحلہ: 14 لاکھ 20 ہزار افغانوں کو بے دخلی کا سامنا

News Cuff

طورخم سرحدی گزرگاہ پر گاڑیاں اور مسافر (فائل فوٹو — یہ تصویر واپسی مہم کی نہیں، سرحدی گزرگاہ کی ہے)۔

اسلام آباد: پاکستان میں افغان شہریوں کی واپسی کی مہم اب ایک نئے اور سخت مرحلے میں داخل ہو گئی ہے۔ تازہ اطلاعات کے مطابق ملک میں موجود تقریباً 14 لاکھ 20 ہزار افغان شہریوں کو بے دخلی کا سامنا ہے، اور حکام نے خیبر پختونخوا میں گھر گھر تلاشیوں، چھاپوں اور جائیدادوں کی ضبطی کا سلسلہ تیز کر دیا ہے۔ پنجاب کے محکمہ داخلہ کے مطابق اب تک 28 لاکھ 7 ہزار 250 افغان شہری واپس جا چکے ہیں، جن میں سے ایک لاکھ 43 ہزار 474 کا تعلق صرف پنجاب سے ہے۔ یہ اعداد اس مہم کی وسعت بتا رہے ہیں جو 2023 میں شروع ہوئی تھی اور اب اس کے آخری بڑے مرحلے کی طرف بڑھ رہی ہے۔

خیبر پختونخوا کیوں مرکز میں ہے؟

اس نئے مرحلے کی سب سے زیادہ شدت خیبر پختونخوا میں محسوس ہو رہی ہے، جہاں افغان آبادی سب سے زیادہ ہے اور جہاں سرحد بھی قریب ہے۔ اطلاعات کے مطابق وہاں تلاشی مہم میں تیزی آئی ہے، دستاویزات کی جانچ سخت کر دی گئی ہے، اور طورخم کے راستے واپسی کا سلسلہ جاری ہے۔ پنجاب میں بھی صورت حال کم سنگین نہیں: محکمے کے مطابق صوبے بھر میں رہائشی علاقوں اور بازاروں میں چار لاکھ سے زیادہ سرچ آپریشن کیے جا چکے ہیں، اور اس وقت 39 ہولڈنگ سینٹر کام کر رہے ہیں جن میں 153 افغان شہری موجود ہیں۔ حکام کا موقف صاف ہے کہ بغیر درست ویزے کے قیام غیر قانونی ہے، اور شہریوں سے کہا گیا ہے کہ غیر قانونی قیام یا شناختی فراڈ کی اطلاع ہیلپ لائن 15 پر دیں۔

تعلقات کی خرابی اور سلامتی کا موقف

اسلام آباد کا کہنا ہے کہ طالبان حکومت ان عسکریت پسندوں کو پناہ دے رہی ہے جو سرحد پار سے پاکستان میں حملے کرتے ہیں، اور یہی وہ الزام ہے جس نے دونوں حکومتوں کے تعلقات کو اس مقام تک پہنچایا ہے۔ طالبان ان الزامات کو مسترد کرتے رہے ہیں، مگر سرحدی کشیدگی اور پھر گورنر راج کے بعد سے مہم کی رفتار میں واضح اضافہ ہوا ہے۔ دوسری طرف واپس جانے والے بعض افغان شہریوں نے پولیس کے رویے کی شکایت کی ہے، اور اقوام متحدہ کے ماہرین نے پہلے ہی زبردستی بے دخلی کے خلاف خبردار کر رکھا ہے — خاص طور پر خواتین اور بچوں کے معاملے میں، جنہیں واپسی پر خطرے کا سامنا ہو سکتا ہے۔ یہی وہ نکتہ ہے جہاں سلامتی کا موقف اور انسانی حقوق کا سوال آمنے سامنے آ کھڑے ہوئے ہیں۔

آگے کیا ہو گا؟

اعداد بتاتے ہیں کہ یہ مہم اب اپنے اختتامی مرحلے کی طرف بڑھ رہی ہے، مگر اس کا سیاسی وزن کم نہیں ہو گا۔ ایک طرف پاکستان کے لیے یہ ایک سلامتی کا معاملہ ہے، دوسری طرف کابل کے لیے یہ ایک سفارتی دباؤ ہے، اور دونوں کے درمیان پھنسے ہوئے وہ خاندان ہیں جو برسوں سے یہاں رہ رہے ہیں۔ اسی ہفتے ایک امریکی عدالت نے بھی افغان شہریوں کو پاکستان کے راستے بے دخل کرنے کے منصوبے پر عارضی روک لگا دی ہے، جس سے یہ معاملہ بین الاقوامی توجہ کا مرکز بھی بن گیا ہے۔ آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا ہو گا کہ کیا یہ مرحلہ محض انتظامی کارروائی تک محدود رہتا ہے، یا دونوں ملکوں کے تعلقات میں ایک نئی دراڑ کا باعث بنتا ہے۔

قرآن مجید اردو ترجمے کے ساتھ پڑھیںنماز کے اوقات • رمضان کیلنڈر • قرآنی دعائیں

متعلقہ خبریں

تبصرہ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے