جمعرات, 5 نومبر 2026
جمعرات, 5 نومبر 2026|
تازہ ترین
صحت

پولیو مہم کے پہلے تین دن میں 1 کروڑ 96 لاکھ سے زائد بچوں کو قطرے پلائے گئے

News Cuff

فائل فوٹو: پنجاب کے تحصیل فتح جنگ میں پولیو مہم کے دوران ایک کارکن بچے کو قطرے پلا رہی ہے (سی ڈی سی، پبلک ڈومین) — یہ اس ہفتے کی تصویر نہیں۔

پاکستان میں پولیو کے خاتمے کی کوششوں کو اس ہفتے بڑی کامیابی ملی ہے — قومی ایمرجنسی آپریشنز سینٹر (این ای او سی) کے مطابق ملک بھر میں جاری ذیلی قومی انسدادِ پولیو مہم کے پہلے تین دن میں ایک کروڑ 96 لاکھ سے زائد بچوں کو پولیو کے قطرے پلائے جا چکے ہیں۔

مہم کب تک جاری رہے گی؟
یہ سات روزہ مہم پیر 2 نومبر کو شروع ہوئی تھی اور 8 نومبر تک جاری رہے گی۔ اس دوران 97 منتخب اضلاع میں پانچ سال سے کم عمر کے تقریباً دو کروڑ 40 لاکھ بچوں کو قطرے پلانے کا ہدف ہے۔ دو لاکھ سے زائد فرنٹ لائن کارکن گھر گھر جا کر بچوں کو ویکسین دے رہے ہیں۔ یہ 2026 کی پانچویں بڑی مہم اور تیسری ذیلی قومی مہم ہے — ستمبر کی مہم میں دو کروڑ 93 لاکھ سے زائد بچوں کو قطرے پلائے گئے تھے۔

صوبوں میں ہدف
پنجاب کے 13 اضلاع میں 92 لاکھ 78 ہزار، سندھ کے 20 اضلاع میں 68 لاکھ 83 ہزار، خیبرپختونخوا کے 27 اضلاع میں 48 لاکھ 8 ہزار اور بلوچستان کے 31 اضلاع میں 22 لاکھ 17 ہزار بچوں کو قطرے پلانے کا ہدف مقرر ہے۔ وفاقی وزیرِ صحت سید مصطفیٰ کمال نے این ای او سی اسلام آباد میں بچوں کو قطرے پلا کر مہم کا افتتاح کیا تھا۔

اب بھی آٹھ کیسز کیوں؟
اس سال اب تک ملک میں پولیو کے آٹھ کیسز سامنے آ چکے ہیں — چھ خیبرپختونخوا اور دو سندھ میں۔ تازہ ترین کیس ضلع خیبر کی تحصیل باڑہ کی 13 ماہ کی بچی کا ہے۔ گزشتہ سال 31 کیسز رپورٹ ہوئے تھے۔ پاکستان اور افغانستان دنیا کے آخری دو ملک ہیں جہاں جنگلی پولیو وائرس کا سلسلہ اب تک نہیں ٹوٹا۔ حکومت کا ہدف جون 2027 تک پاکستان کو پولیو سے پاک کرنا ہے۔

خطرات بھی ساتھ ساتھ
مہم کے پہلے ہی روز ٹانک میں چار پولیو کارکنوں کو اغوا کر لیا گیا تھا — پولیس ذرائع کے مطابق دو کارکنوں کو جنوبی وزیرستان سے بعد میں رہا کر دیا گیا۔ وزیرِ اعظم کی فوکل پرسن عائشہ رضا فاروق نے والدین سے اپیل کی ہے کہ ہر بچے کو قطرے ضرور پلائیں، کیونکہ پولیو کا خاتمہ قومی ذمہ داری ہے۔

قرآن مجید اردو ترجمے کے ساتھ پڑھیںنماز کے اوقات • رمضان کیلنڈر • قرآنی دعائیں

متعلقہ خبریں

تبصرہ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے