خیبر میں پولیو کا نواں کیس سامنے آ گیا، وزیراعظم کا ایک ہفتے میں مربوط منصوبہ تیار کرنے کا حکم

فائل فوٹو: پنجاب کے تحصیل فتح جنگ میں 2015 کی پولیو مہم کے دوران ایک کارکن دو سالہ بچے کی انگلی پر ویکسین کا نشان چیک کر رہا ہے (سی ڈی سی، پبلک ڈومین) — یہ اس ہفتے کی تصویر نہیں۔
اسلام آباد: پاکستان میں رواں سال پولیو کا نواں کیس سامنے آ گیا ہے — خیبر پختونخوا کے ضلع خیبر کی تحصیل باڑہ کی یونین کونسل مستک کے سات ماہ کے بچے میں جنگلی پولیو وائرس کی تصدیق ہوئی ہے۔ قومی ایمرجنسی آپریشنز سینٹر (این ای او سی) کے مطابق یہ ضلع خیبر کا اس سال تیسرا اور صوبے کا ساتواں کیس ہے، جبکہ سندھ میں دو کیسز رپورٹ ہو چکے ہیں۔
افغانستان سے جڑا وائرس
حکام کے مطابق ضلع خیبر کے تینوں کیسز میں پائے جانے والے وائرس کی جینیاتی جانچ سے ثابت ہوا ہے کہ اس کا تعلق افغانستان میں گردش کرنے والے وائرس سے ہے، جہاں رواں سال 50 کیسز سامنے آ چکے ہیں۔ عالمی ادارہ صحت پاکستان اور افغانستان کو پولیو کے خاتمے کے لیے ایک ہی وبائی بلاک قرار دیتا ہے — سرحد پار آمد و رفت کی وجہ سے وائرس ایک ملک سے دوسرے ملک منتقل ہوتا رہتا ہے۔ پشاور بلاک کے سیوریج نمونوں میں بھی وائرس کی موجودگی پائی گئی ہے، جو اس بات کی علامت ہے کہ وائرس اب بھی گردش کر رہا ہے۔
وزیراعظم کا اجلاس، ایک ہفتے کی مہلت
وزیراعظم محمد شہباز شریف نے جمعرات کو انسدادِ پولیو پر جائزہ اجلاس کی صدارت کی اور وزارتِ صحت کو ہدایت کی کہ چاروں صوبوں سے مشاورت کے بعد ایک ہفتے کے اندر مربوط لائحہ عمل تیار کیا جائے۔ اجلاس میں فیصلہ ہوا کہ وفاقی وزیرِ صحت، سیکرٹری اور انسدادِ پولیو ٹیم کے اراکین چاروں صوبوں کا دورہ کر کے وزرائے اعلیٰ اور چیف سیکرٹریز سے ملیں گے۔ وزیراعظم نے کہا کہ پولیو سے پاک پاکستان ایک بڑا چیلنج ہے، مگر عزم اس چیلنج سے کہیں زیادہ مضبوط ہے۔
مہم جاری، خطرات بھی
ملک بھر میں 2 سے 8 نومبر تک جاری سات روزہ مہم میں 97 اضلاع کے تقریباً دو کروڑ 40 لاکھ بچوں کو قطرے پلانے کا ہدف ہے — پہلے تین دن میں ایک کروڑ 96 لاکھ سے زائد بچوں کو ویکسین دی جا چکی ہے۔ وفاقی وزیرِ صحت سید مصطفیٰ کمال نے والدین سے اپیل کی ہے کہ ہر بچے کو قطرے ضرور پلائیں، چاہے اسے پہلے بھی ویکسین لگ چکی ہو۔ مہم کو سیکیورٹی خطرات بھی درپیش ہیں — منگل کو مہمند میں پولیو ٹیم کی حفاظت پر مامور دو پولیس اہلکار شہید کر دیے گئے، جبکہ مہم کے پہلے روز ٹانک میں چار کارکنوں کو اغوا کر لیا گیا تھا۔ گزشتہ سال ملک میں 31 اور 2024 میں 74 کیسز رپورٹ ہوئے تھے؛ حکومت کا ہدف جون 2027 تک پاکستان کو پولیو سے پاک کرنا ہے۔



