مدینہ کی جانب داغا گیا حوثی میزائل فضا میں تباہ، ترکیہ کی پارلیمنٹ نے مکہ دفاعی معاہدے کی توثیق کر دی

فائل فوٹو: مدینہ منورہ میں مسجد نبوی ﷺ — حوثی میزائل اسی مقدس شہر کی جانب داغا گیا تھا
ریاض: سعودی فضائی دفاع نے جمعرات کو یمن کے حوثیوں کی جانب سے مدینہ منورہ کی طرف داغے گئے ایک بیلسٹک میزائل کو فضا میں تباہ کر دیا۔ سعودی قیادت میں قائم اتحاد کے ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ میزائل کو اپنے ہدف تک پہنچنے سے قبل ہی مار گرایا گیا۔ اسی روز مشرقی صوبے میں ایک ڈرون بھی تباہ کیا گیا، جب کہ منگل کو مکہ مکرمہ کے علاقے میں بھی ایک ڈرون مار گرایا گیا تھا۔
حوثیوں کا انکار، آزاد تصدیق نہیں ہو سکی
حوثی تحریک نے مقدس شہروں کو نشانہ بنانے کے الزام کو مسترد کر دیا ہے۔ حوثی فوجی ترجمان یحییٰ سریع نے کہا کہ ان کی کارروائیاں صرف سعودی تیل تنصیبات اور فوجی اڈوں کے خلاف ہیں۔ میزائل کے اصل ہدف یا اس کے راستے کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی۔ اعلان سے چند منٹ قبل سعودی سول ڈیفنس نے ینبع کے علاقے کے رہائشیوں کو انتباہی پلیٹ فارم کے ذریعے خبردار بھی کیا تھا، تاہم یہ واضح نہیں کہ اس انتباہ کا میزائل سے کوئی تعلق تھا یا نہیں۔
ترکیہ کی پارلیمنٹ نے مکہ معاہدہ منظور کر لیا
اسی روز ترکیہ کی پارلیمنٹ نے سعودی عرب اور پاکستان کے ساتھ طے پانے والے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کی توثیق کر دی۔ معاہدے کے حق میں 279 ووٹ پڑے جب کہ 119 ارکان نے مخالفت کی، اور 592 رکنی ایوان کے 398 ارکان نے ووٹنگ میں حصہ لیا۔ یہ معاہدہ سات اگست کو مکہ مکرمہ میں دستخط ہوا تھا، جس پر ترک صدر رجب طیب اردوان، سعودی ولی عہد محمد بن سلمان اور وزیراعظم شہباز شریف نے دستخط کیے تھے۔
مشترکہ دفاع کی شق، دس سالہ مدت
سولہ نکات پر مشتمل معاہدے میں کہا گیا ہے کہ فریقین ایک دوسرے کی علاقائی سالمیت کو لاحق خطرات ختم کرنے کے لیے تمام ضروری ذرائع استعمال کریں گے، اور اگر کسی رکن ملک پر مسلح حملہ ہوا تو باقی ممالک فوری مدد فراہم کریں گے۔ معاہدے کی ابتدائی مدت دس سال ہے۔ تاہم توثیق کا مطلب یہ نہیں کہ ترکیہ کے فوجی فوراً سعودی عرب بھیجے جائیں گے — اس کے لیے پارلیمنٹ سے الگ منظوری درکار ہوگی۔ ترک وزیر دفاع یاشار گولر پہلے کہہ چکے ہیں کہ ترکیہ حوثیوں کے ساتھ براہ راست تنازع میں جانے کا ارادہ نہیں رکھتا۔



