جمعہ, 6 نومبر 2026
جمعہ, 6 نومبر 2026|
تازہ ترین
سیاست

سلامتی کونسل نے جنگ کے دوران سفارتکاری جاری رکھنے کی پاکستان کی تجویز منظور کر لی

News Cuff

فائل فوٹو: نیویارک میں اقوام متحدہ کے ہیڈکوارٹر میں سلامتی کونسل کا اجلاس ہال — یہ بیان 5 نومبر کے اجلاس میں منظور ہوا تھا.

نیویارک: اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے پاکستان کی پیش کردہ تجویز پر جمعرات کو ایک صدارتی بیان اتفاق رائے سے منظور کر لیا ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ جنگ شروع ہونے کے بعد بھی سفارتکاری ختم نہیں ہونی چاہیے۔ بیان کا عنوان "جنگ کے دوران سفارتکاری کا کردار” ہے، اور اس میں رکن ممالک سے کہا گیا ہے کہ وہ مسلح تصادم کے باوجود بات چیت کے دروازے کھلے رکھیں، جنگ بندی کی کوششیں جاری رکھیں اور تنازع کو بڑھنے سے روکیں۔

جنگ بندی اور شہریوں کا تحفظ
بیان میں کہا گیا ہے کہ جنگ کے دوران سفارتکاری عام شہریوں کے تحفظ، تشدد کو قابو میں رکھنے، تنازع کو پھیلنے سے روکنے اور انسانی امداد کی بلارکاوٹ فراہمی میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ رکن ممالک سے کہا گیا ہے کہ وہ ثالثی، حسنِ خدمات اور جنگجو فریقوں کے درمیان براہ راست یا بالواسطہ رابطے استعمال کریں، تاکہ غلط فہمیوں سے بچا جا سکے اور مذاکرات کی راہ ہموار ہو۔ بیان میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ دشمنی کا خاتمہ خود کوئی منزل نہیں — جنگ بندی کے بعد بھی سفارتکاری جاری رہنی چاہیے تاکہ دیرپا سیاسی حل نکل سکے۔

سید حیدر شاہ: سفارتکاری جنگ شروع ہونے پر ختم نہیں ہوتی
اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب سفیر سید حیدر شاہ نے منظوری کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ اس صدارتی بیان کا پیغام سادہ مگر طاقتور ہے: "سفارتکاری جنگ شروع ہونے پر ختم نہیں ہوتی، بلکہ اس وقت اور بھی ضروری ہو جاتی ہے۔” ان کا کہنا تھا کہ اچھے دفتر، کھلے رابطوں اور مسلسل مکالمے کے ذریعے سفارتکاری تصادم سے کشیدگی میں کمی اور پرامن حل تک کا پل بن سکتی ہے۔

یہ بیان سلامتی کونسل کی قرارداد 2788 کی بنیاد پر جاری کیا گیا ہے، جو جولائی 2025 میں پاکستان کی صدارت کے دوران متفقہ طور پر منظور ہوئی تھی اور جس میں تنازعات کے پرامن حل پر زور دیا گیا تھا۔ نیا بیان اسی فریم ورک کو اس مرحلے تک لے جاتا ہے جب لڑائی شروع ہو چکی ہو اور فریقوں کے درمیان رابطہ ٹوٹنے کا خطرہ سب سے زیادہ ہو۔

بیان میں انفرادی رکن ممالک کی سفارتی کوششوں کو سراہا گیا ہے اور علاقائی تنظیموں کی ثالثی کی صلاحیت بڑھانے پر زور دیا گیا ہے۔ سیکرٹری جنرل سے بھی کہا گیا ہے کہ وہ اپنی حسنِ خدمات، خصوصی ایلچیوں اور ثالثوں کے ذریعے مکالمے کو فروغ دیتے رہیں اور کونسل کو اپنی کوششوں سے آگاہ رکھیں۔ تمام سفارتی کوششیں اقوام متحدہ کے چارٹر، بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں کے مطابق ہونی چاہئیں، اور عالمی عدالت انصاف کا کردار بھی تسلیم کیا گیا ہے۔ نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے منظوری پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ "جب لڑائی شدت اختیار کرے تو سفارتکاری کو پیچھے نہیں ہٹنا چاہیے۔” صدارتی بیان کونسل کے 15 ارکان کے اتفاق رائے سے منظور ہوتا ہے اور یہ کونسل کا مشترکہ موقف ظاہر کرتا ہے، اگرچہ قرارداد کے برعکس یہ قانونی طور پر پابند نہیں ہوتا۔ اجلاس کی صدارت لیٹویا کی سفیر سنیتا پاولوتا ڈیسلینڈس نے کی، جو نومبر میں کونسل کی صدر ہیں۔ پاکستان 2025-26 کے لیے سلامتی کونسل کا غیر مستقل رکن ہے۔

قرآن مجید اردو ترجمے کے ساتھ پڑھیںنماز کے اوقات • رمضان کیلنڈر • قرآنی دعائیں

متعلقہ خبریں

تبصرہ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے