جس نواز شریف کو مارنے اور گرانے کی کوشش کی گئی آج مرکز میں اس کے بھائی اور پنجاب میں بیٹی کی حکومت ہے:مریم نواز شریف
نواز شریف: سیاست میں استقامت کی مثال
سابق وزیر اعظم نواز شریف کی سیاست ہمیشہ سے ہی نشیب و فراز کا شکار رہی ہے۔ انہیں مختلف ادوار میں سیاسی انتقام کا سامنا کرنا پڑا، یہاں تک کہ ان کے خلاف مقدمات قائم کیے گئے، انہیں جلاوطنی اختیار کرنا پڑی، اور ان کی جماعت کو کمزور کرنے کی کوششیں کی گئیں۔ تاہم، آج کی حقیقت یہ ہے کہ وہی نواز شریف، جسے سیاسی منظرنامے سے مٹانے کی کوشش کی گئی تھی، اس کے بھائی شہباز شریف مرکز میں وزیر اعظم ہیں اور بیٹی مریم نواز پنجاب میں حکومت کر رہی ہیں۔
سیاست میں مشکلات اور نواز شریف کی واپسی
نواز شریف کو تین مرتبہ وزارت عظمیٰ کے عہدے سے ہٹایا گیا۔ 1999 میں فوجی بغاوت کے نتیجے میں انہیں جلاوطنی اختیار کرنی پڑی، جبکہ 2017 میں پاناما کیس کے فیصلے کے بعد نااہلی کا سامنا کرنا پڑا۔ یہ وہ وقت تھا جب ان کے مخالفین نے یہ تاثر دیا کہ ان کا سیاسی کیریئر ختم ہو چکا ہے۔ تاہم، انہوں نے ہر بار مشکلات کا سامنا کیا اور پارٹی کے لیے ایک مضبوط قیادت فراہم کی۔
مریم نواز کا سیاسی عروج
نواز شریف کی بیٹی مریم نواز نے سیاسی میدان میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔ وہ اپنے والد کے بیانیے کو عوام تک پہنچانے میں پیش پیش رہیں اور ن لیگ کے کارکنوں کو متحرک رکھا۔ ان کی قیادت میں پارٹی نے کئی مشکل حالات کا سامنا کیا، اور آج وہ پنجاب کی وزیر اعلیٰ کے طور پر خدمات انجام دے رہی ہیں۔
شہباز شریف کا کردار اور قیادت
شہباز شریف نے نواز شریف کے مشکل وقت میں نہ صرف جماعت کو متحد رکھا بلکہ ایک قابل منتظم کے طور پر بھی اپنی پہچان بنائی۔ وہ متعدد بار پنجاب کے وزیر اعلیٰ رہ چکے ہیں اور ترقیاتی منصوبوں کے حوالے سے جانے جاتے ہیں۔ آج وہ ملک کے وزیر اعظم کے عہدے پر فائز ہیں، جس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ شریف خاندان کو سیاست سے نکالنے کی تمام کوششیں ناکام رہیں۔
نواز شریف کی سیاست میں استقامت
نواز شریف کی سیاست کا سب سے اہم پہلو ان کی استقامت ہے۔ وہ ہر بار مشکلات سے نکل کر دوبارہ سیاست میں سرگرم ہوتے ہیں۔ ان کے خلاف سازشیں کی گئیں، انہیں عدالتوں اور جیلوں کا سامنا کرنا پڑا، لیکن ان کے ووٹرز اور کارکنان نے ہمیشہ ان کا ساتھ دیا۔ یہی وجہ ہے کہ آج بھی ان کا خاندان ملکی سیاست میں ایک اہم مقام رکھتا ہے۔
یہ حقیقت ہے کہ نواز شریف کو ہرانے کی متعدد کوششیں ہوئیں، مگر وہ نہ صرف سیاست میں موجود ہیں بلکہ ان کے خاندان نے دوبارہ اقتدار بھی حاصل کر لیا ہے۔ ان کی سیاست کی یہ کہانی پاکستانی سیاست کی تاریخ میں ایک بڑی مثال کے طور پر ہمیشہ یاد رکھی جائے گی۔
یہ بھی پڑھیں:مریم نواز کا عمران خان پر طنز، اڈیالہ جیل سے صرف خط آ رہے ہیں

