Wednesday, February 11, 2026
ہومPoliticsسندھ طاس معاہدہ: پاکستان اور بھارت کے درمیان پانی کی منصفانہ تقسیم...

سندھ طاس معاہدہ: پاکستان اور بھارت کے درمیان پانی کی منصفانہ تقسیم کا تاریخی معاہدہ

معاہدے کا پس منظر اور ضرورت

سندھ طاس معاہدہ ایک تاریخی اور دور رس نتائج کا حامل معاہدہ ہے جو پاکستان اور بھارت کے درمیان 1960 میں عالمی بینک کی ثالثی سے طے پایا۔ یہ معاہدہ اس وقت ناگزیر ہو گیا جب 1948 میں بھارت نے مشرقی دریاؤں کا پانی بند کر دیا، جس کے بعد دونوں ممالک کے درمیان شدید کشیدگی پیدا ہوئی۔ چونکہ پاکستان کی معیشت کا بڑا دارومدار زراعت پر ہے اور زراعت کا انحصار دریاؤں سے آنے والے پانی پر ہوتا ہے، اس لیے پاکستان کے لیے پانی کی مستقل اور منصفانہ فراہمی ضروری تھی۔ عالمی برادری کی مداخلت سے 1960 میں یہ معاہدہ طے پا گیا۔

دریاؤں کی تقسیم کی تفصیلات

سندھ طاس معاہدے کے تحت انڈس بیسن سے ہر سال آنے والے کل 168 ملین ایکڑ فٹ پانی کو دونوں ممالک کے درمیان تقسیم کیا گیا۔ اس میں پاکستان کو تین مغربی دریاؤں: سندھ، جہلم اور چناب کا کنٹرول دیا گیا جو 80 فیصد پانی یعنی 133 ملین ایکڑ فٹ بنتا ہے، جبکہ بھارت کو تین مشرقی دریاؤں: راوی، بیاس اور ستلج کا اختیار دیا گیا۔ معاہدے کے تحت بھارت کو مغربی دریاؤں سے صرف 3.6 ملین ایکڑ فٹ پانی ذخیرہ کرنے، محدود پیمانے پر آبپاشی اور بجلی پیدا کرنے کی اجازت دی گئی، مگر بھارت نے وقت کے ساتھ اس شق کو پاکستان کے خلاف آبی جارحیت کے لیے استعمال کرنا شروع کر دیا۔

بھارتی خلاف ورزیاں اور آبی جارحیت

بھارت نے متعدد بار سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے پاکستانی دریاؤں پر ڈیمز اور پن بجلی کے منصوبے تعمیر کیے، جن کی وجہ سے پاکستان آنے والا پانی متاثر ہوا۔ ان خلاف ورزیوں میں بگلیہار، کشن گنگا، رتلے اور متعدد دیگر منصوبے شامل ہیں، جن پر پاکستان نے وقتاً فوقتاً اعتراضات اٹھائے۔ بھارت کی طرف سے ایسے اقدامات اس معاہدے کے روح اور اصولوں کے منافی ہیں اور دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کا باعث بنتے رہے ہیں۔

تعاون میں تعطل اور موجودہ صورتحال

سندھ طاس معاہدے کے تحت دونوں ممالک کے درمیان سالانہ سطح پر انڈس واٹر کمشنرز کا اجلاس منعقد ہونا ضروری ہے، تاکہ پانی کی تقسیم سے متعلق مسائل پر بات چیت ہو سکے۔ تاہم گزشتہ تین برس سے بھارت کی ہٹ دھرمی کے باعث یہ سلسلہ معطل رہا۔ دونوں ملکوں کے کمشنرز کا آخری اجلاس 30 اور 31 مئی 2022 کو نئی دہلی میں ہوا تھا، اور تب سے اب تک کوئی باضابطہ مذاکرات نہیں ہو سکے، جو معاہدے کی خلاف ورزی کے مترادف ہے۔

پاکستان کے لیے اہمیت اور مستقبل کی ضرورت

پاکستان کے لیے سندھ طاس معاہدہ صرف ایک قانونی دستاویز نہیں بلکہ بقا کا ضامن ہے۔ زراعت، خوراک، بجلی اور معیشت سب اس پانی کے نظام سے جڑے ہیں۔ معاہدے کی بقاء کے لیے ضروری ہے کہ عالمی برادری اور عالمی بینک ایک بار پھر متحرک ہو اور بھارت کو اس معاہدے کی روح کے مطابق عملدرآمد کا پابند کرے، تاکہ خطے میں پانی کی وجہ سے کسی بھی قسم کی کشیدگی یا تنازع سے بچا جا سکے۔

یہ بھی پڑھیں:پاکستان اور بھارت کے درمیان سندھ طاس معاہدہ کیا ہے؟

Most Popular