یورپی یونین نے حالیہ کشیدہ حالات کے تناظر میں پاکستان اور بھارت دونوں پر زور دیا ہے کہ وہ اشتعال انگیزی سے گریز کرتے ہوئے تحمل کا مظاہرہ کریں اور مسائل کو مذاکرات کے ذریعے حل کریں۔
یورپی رابطہ اور تحمل کی اپیل
یورپی یونین کی خارجہ امور کی سربراہ کاجا کلاس نے پاکستان اور بھارت کے وزرائے خارجہ سے علیحدہ علیحدہ رابطہ کیا اور موجودہ کشیدگی پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے دونوں ممالک پر زور دیا کہ وہ تحمل سے کام لیں اور کسی بھی قسم کی جارحیت سے گریز کرتے ہوئے سفارتی ذرائع سے کشیدگی کم کریں۔
پاکستان کا بھارتی اقدامات پر سخت ردعمل
وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کاجا کلاس سے گفتگو میں بھارت کے بے بنیاد الزامات اور پروپیگنڈے کو دوٹوک انداز میں مسترد کیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ بھارت کی جانب سے پاکستان پر عائد کیے گئے الزامات نہ صرف بے بنیاد ہیں بلکہ ان کا مقصد خطے میں اشتعال پیدا کرنا ہے۔
سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی پر تحفظات
وزیر خارجہ نے بھارت کی طرف سے سندھ طاس معاہدے کو روکنے کے فیصلے پر بھی شدید تحفظات کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کا یہ اقدام بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی ہے جو دونوں ممالک کے درمیان ایک دیرینہ معاہدے کی خلاف ورزی پر مبنی ہے۔
پاکستان کی آزاد اور شفاف تحقیقات کی تجویز
اسحاق ڈار نے گفتگو میں ایک بار پھر پاکستان کی جانب سے آزاد اور شفاف تحقیقات کی پیشکش کو دہرایا تاکہ حالیہ واقعات کی غیر جانبدارانہ تحقیقات ممکن بنائی جا سکیں۔
یورپی یونین کی ثالثی کی خواہش
یورپی یونین کی خارجہ امور کی سربراہ نے کہا کہ انہوں نے دونوں ممالک کے وزرائے خارجہ سے کہا ہے کہ وہ کشیدگی میں کمی لانے کے لیے مثبت اور تعمیری بات چیت کو فروغ دیں۔ ان کا کہنا تھا کہ خطے میں امن اور استحکام سب کے مفاد میں ہے اور کوئی بھی فریق جنگ کا متحمل نہیں ہو سکتا۔

