منگل, 13 اکتوبر 2026
منگل, 13 اکتوبر 2026|
تازہ ترین
راولپنڈی میں آخری ٹی ٹوئنٹی آج شام، پاکستان کا کلین سویپ کا ہدف، سری لنکا وائٹ واش سے بچنے کے لیے میدان میں اترے گا• ملتان کے قریب رحمان بابا ایکسپریس پٹری سے اتر گئی، 5 مسافر جاں بحق، 30 زخمی، زخمی نشتر اسپتال منتقل، وزیراعظم نے نوٹس لے لیا• ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر ایک اور حملہ، پاکستانی شہری جاں بحق، 11 افراد زخمی، ایئرپورٹ کی بندش میں پیر کی رات تک توسیع• اسلام آباد سے کنٹینرز ہٹانے کا کام شروع، تین ہفتوں سے زائد عرصے سے بند سڑکیں کھلنے لگیں، وفاقی وزیر طارق فضل چوہدری نے کہا معمولات زندگی بحال ہوں گے• خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج پشاور ہائی کورٹ میں چیلنج، درخواست میں اقدام غیر آئینی قرار دے کر کالعدم کرنے اور نوٹیفکیشن معطل کرنے کی استدعا• پاکستان نے افغان طالبان کو خبردار کر دیا، اسحاق ڈار نے کہا افغان سرزمین سے دہشت گردوں کے خلاف کارروائی نہ ہوئی تو کابل کو خود نتائج بھگتنا ہوں گے، ستمبر میں 12 سال میں سب سے زیادہ دہشت گرد حملے ہوئے• پاکستان کا اگلے مالی سال تک بی پلس کریڈٹ ریٹنگ کا ہدف، وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا عالمی منڈیوں میں واپسی ہو گئی، 3 ارب ڈالر کے یورو بانڈز پر دوگنا پیشکشیں ملیں• گورنر راج کے بعد خیبر پختونخوا اپیکس کمیٹی کا پہلا اجلاس، گورنر فیصل کریم کنڈی اور وزیر داخلہ محسن نقوی کی مشترکہ صدارت، دہشت گردی کے خلاف مربوط اور فیصلہ کن کارروائی کا حکم•
سیاست

بھارت کی ایک بار پھر آبی دہشتگردی، پاکستان کی طرف آتا پانی روکنا شروع کر دیا

News Cuff

بھارت نے بگلیہار ڈیم سے پاکستان کا پانی روک دیا

بھارت نے ایک بار پھر پاکستان کے خلاف آبی دہشتگردی کا مظاہرہ کیا ہے۔ اتوار کے روز بھارتی حکام نے بگلیہار ڈیم کے ذریعے دریائے چناب کا وہ پانی روکنا شروع کر دیا جو پاکستان کی طرف بہتا ہے، جس کے باعث پاکستان میں پانی کے بہاؤ میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔

چناب میں پانی کی مقدار خطرناک حد تک کم

محکمہ انہار کے مطابق، دریائے چناب میں ہیڈ مرالہ کے مقام پر پانی کی آمد پہلے 87 ہزار کیوسک تھی، جو اب گھٹ کر صرف 10 ہزار 800 کیوسک رہ گئی ہے۔ ماہرین کے مطابق، بگلیہار ڈیم مقبوضہ جموں کے علاقے رامبن میں واقع ہے اور اس میں تین لاکھ ایکڑ فٹ پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش موجود ہے۔

کشن گنگا میں بھی پانی روکے جانے کا خدشہ

بھارتی میڈیا نے انکشاف کیا ہے کہ بگلیہار کے بعد بھارت اب کشن گنگا ڈیم میں بھی پانی روکنے کا منصوبہ بنا رہا ہے۔ یہ ڈیم شمالی مقبوضہ کشمیر میں واقع ہے اور اس میں 15 ہزار ایکڑ فٹ پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت ہے۔ اگر ایسا ہوا تو دریائے جہلم میں پانی کی شدید کمی پیدا ہو سکتی ہے، جو پاکستان کے لیے زراعت اور پانی کی فراہمی کے حوالے سے ایک بڑا خطرہ ہوگا۔

بھارت پہلے بھی اچانک سیلابی ریلے چھوڑ چکا ہے

یاد رہے کہ 26 اپریل کو بھارت بغیر اطلاع دیے دریائے جہلم میں بڑا سیلابی ریلا چھوڑ چکا ہے جس سے چکوٹھی کے مقام پر دریا اچانک 15 فٹ تک بلند ہو گیا تھا۔ یہ اقدام بھی بین الاقوامی قوانین اور اخلاقی اصولوں کے منافی تھا۔

پہلگام واقعہ کے بعد آبی جارحیت میں اضافہ

22 اپریل کو مقبوضہ کشمیر کے ضلع پہلگام میں فائرنگ کے واقعے میں 26 افراد ہلاک اور ایک درجن سے زائد زخمی ہوئے تھے۔ اس واقعے کے بعد بھارت نے بغیر کسی تحقیقات کے پاکستان پر الزامات لگائے اور اپنی روایتی ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کا اعلان کر دیا۔

پاکستان کا سخت ردعمل

پاکستان نے بھارتی اقدامات کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ سندھ طاس معاہدہ ایک بین الاقوامی معاہدہ ہے جسے یکطرفہ طور پر ختم یا معطل نہیں کیا جا سکتا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارت کی یہ آبی جارحیت خطے میں پہلے سے موجود کشیدگی کو مزید بڑھا سکتی ہے۔

دو طرفہ معاہدوں کی پامالی عالمی برادری کے لیے لمحہ فکریہ

سندھ طاس معاہدہ 1960 میں عالمی بینک کی ثالثی سے طے پایا تھا اور اس کی خلاف ورزی بھارت کی نیت کو ظاہر کرتی ہے۔ پاکستان کی جانب سے بھارت پر زور دیا گیا ہے کہ وہ پانی کو ہتھیار کے طور پر استعمال نہ کرے اور خطے میں امن قائم رکھنے کے لیے معاہدوں کی پاسداری کرے۔

یہ بھی پڑھیں:دریائے جہلم میں اضافی پانی چھوڑنے کے حوالے سے بھارتی پروپیگنڈا بے نقاب

قرآن مجید اردو ترجمے کے ساتھ پڑھیںنماز کے اوقات • رمضان کیلنڈر • قرآنی دعائیں

متعلقہ خبریں

تبصرہ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے