ڈیپ سیک کا چیلنج،اوپن اے آئی نے نیا ماڈل مفت جاری کردیا
اوپن اے آئی کا نیا اے آئی ماڈل
اوپن اے آئی نے ایک جدید مصنوعی ذہانت (اے آئی) ماڈل متعارف کرایا ہے جو صارفین کے لیے مفت دستیاب ہوگا، البتہ اس کے استعمال پر چند پابندیاں عائد ہوں گی۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ پراڈکٹس لانچ کرنے کے عمل میں تیزی لائی جا رہی ہے تاکہ مارکیٹ میں بہتر مقابلہ کیا جا سکے۔
ڈیپ سیک کا ابھرتا ہوا چیلنج
چین کی کمپنی ڈیپ سیک کے نئے اے آئی ماڈل کی زبردست کامیابی کے بعد اوپن اے آئی نے بھی اپنی حکمت عملی میں تبدیلی کی ہے۔ ڈیپ سیک کا آر 1 ماڈل غیرمعمولی کارکردگی کی وجہ سے دنیا بھر میں توجہ حاصل کر چکا ہے۔
ڈیپ سیک کی غیرمعمولی پیش رفت
آر 1 ماڈل نے امریکی ایپ اسٹور میں سب سے زیادہ ڈاؤن لوڈ ہونے والی مفت ایپ کا اعزاز حاصل کیا۔ اس کی وجہ سے امریکی اسٹاک مارکیٹ میں ایک اندازے کے مطابق ایک ہزار ارب ڈالرز کی کمی واقع ہوئی، جس نے ٹیکنالوجی سیکٹر میں ہلچل مچا دی۔
سام آلٹمین کا ردعمل
اوپن اے آئی کے سی ای او سام آلٹمین نے ڈیپ سیک کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ان کی کمپنی مزید جدید اور مؤثر ماڈلز متعارف کرانے میں دیر نہیں کرے گی۔
o3 منی کی لانچنگ
ڈیپ سیک کے آر 1 ماڈل کے جواب میں، سام آلٹمین نے 23 جنوری کو o3 منی لانچ کرنے کے منصوبے کا اعلان کیا۔ یہ ماڈل کمپنی کے مرکزی o3 ماڈل کا کم طاقتور مگر زیادہ مؤثر ورژن ہوگا۔
منطقی صلاحیتوں کا حامل ماڈل
اوپن اے آئی کے مطابق، یہ پہلا موقع ہے جب ایک ایسا ماڈل مفت صارفین کے لیے فراہم کیا جا رہا ہے جو منطقی مسائل کو حل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ یہ جدید اے آئی ٹیکنالوجی تک زیادہ سے زیادہ صارفین کی رسائی کو ممکن بنانے کی جانب ایک بڑا قدم ہے۔
آر 1 بمقابلہ چیٹ جی پی ٹی
ڈیپ سیک کے آر 1 ماڈل کی کارکردگی چیٹ جی پی ٹی کے برابر تصور کی جا رہی ہے، تاہم اس کی تیاری میں انتہائی کم وسائل استعمال کیے گئے ہیں۔ یہ ایک بڑا تکنیکی سنگ میل ہے جو ٹیکنالوجی کی دنیا میں تبدیلی لا سکتا ہے۔
o3 منی کی صلاحیتیں
اوپن اے آئی کے مطابق، o3 منی ماڈل بنیادی طور پر سابقہ 01 ماڈل جیسا ہی ہے، مگر اس کی کارکردگی زیادہ بہتر اور لاگت کم ہوگی۔ یہ ماڈل ریاضی، کوڈنگ اور سائنس کے مسائل حل کرنے میں مددگار ثابت ہوگا۔
مفت اور پریمیم صارفین کے لیے رسائی
جو صارفین ماہانہ 200 ڈالرز ادا کر کے چیٹ جی پی ٹی پرو سبسکرپشن لیتے ہیں، وہ o3 ماڈل تک بغیر کسی پابندی کے
رسائی حاصل کر سکیں گے۔ پلس سبسکرائبرز کو محدود فوائد حاصل ہوں گے جبکہ مفت صارفین کے لیے سخت حدود مقرر کی گئی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:چین کی مصنوعی ذہانت “ڈیپ سیک” کیا ہے؟

