ترک صدر کی جانب سے کشیدگی کم کرنے کی اپیل
ترک صدر رجب طیب اردوان نے پاکستان اور بھارت کے درمیان حالیہ کشیدگی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے دونوں ممالک سے تناؤ کم کرنے کی اپیل کی ہے۔ ترک خبررساں ایجنسی کے مطابق اردوان نے کہا کہ ترکیہ خطے میں اور اس کے باہر کسی نئے تنازعے کا خواہاں نہیں، اور چاہتا ہے کہ پاکستان اور بھارت بات چیت کے ذریعے کشیدگی کو جلد ختم کریں۔
وزیراعظم شہباز شریف کا دورہ ترکی حساس وقت میں ہوا
صدر اردوان نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف کا حالیہ دورہ ترکیہ ایک انتہائی حساس وقت میں ہوا، جو خطے کی تازہ پیشرفت کے تناظر میں اہمیت رکھتا ہے۔ اس ملاقات کے دوران خصوصی طور پر تجارت اور دفاعی صنعت میں کثیرالجہتی تعاون پر بات کی گئی، اور پاکستانی عوام کے لیے ترکی کی حمایت کا اعادہ کیا گیا۔
ترکی کا مستقل مؤقف: تنازع نہیں، امن چاہتے ہیں
اردوان کا کہنا تھا کہ ترکیہ کا ہر موقع پر یہی مؤقف رہا ہے کہ ہم اپنے خطے اور اس سے باہر نئے تنازعات نہیں چاہتے، اس لیے موجودہ صورتحال میں بھی امن کی کوششوں کو ترجیح دی جانی چاہیے۔
پاکستانی وزیر دفاع کا ردعمل: خطرات اور اقدامات
دوسری جانب، وزیر دفاع خواجہ آصف نے برطانوی خبر ایجنسی کو دیے گئے انٹرویو میں کہا ہے کہ بھارت کی طرف سے ممکنہ حملے کے پیش نظر پاکستان نے سرحد پر اپنی فوجی قوت میں اضافہ کر دیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان ایٹمی ہتھیار صرف اُس وقت استعمال کرے گا جب ہمارے قومی وجود کو براہ راست خطرہ لاحق ہو۔
پہلگام واقعے کے بعد بھارتی حملے کا خدشہ
وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ پہلگام فالس فلیگ آپریشن کے بعد بھارت کی طرف سے حملے کا امکان ہے، اسی خدشے کے پیش نظر پاکستان نے اسٹریٹجک فیصلے کیے ہیں، اور بھارتی بیان بازی پر کڑی نظر رکھی جا رہی ہے۔ پاکستانی فوج نے حکومت کو ممکنہ بھارتی حملے سے متعلق الرٹ جاری کر دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:ہندوستان کیلئے بہتر ہوگا نیا پنگا نہ لے، اینٹ کا جواب پتھر سے دیں گے: اسحاق ڈار

