منگل, 13 اکتوبر 2026
منگل, 13 اکتوبر 2026|
تازہ ترین
ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر ایک اور حملہ، پاکستانی شہری جاں بحق، 11 افراد زخمی، ایئرپورٹ کی بندش میں پیر کی رات تک توسیع• اسلام آباد سے کنٹینرز ہٹانے کا کام شروع، تین ہفتوں سے زائد عرصے سے بند سڑکیں کھلنے لگیں، وفاقی وزیر طارق فضل چوہدری نے کہا معمولات زندگی بحال ہوں گے• خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج پشاور ہائی کورٹ میں چیلنج، درخواست میں اقدام غیر آئینی قرار دے کر کالعدم کرنے اور نوٹیفکیشن معطل کرنے کی استدعا• پاکستان نے افغان طالبان کو خبردار کر دیا، اسحاق ڈار نے کہا افغان سرزمین سے دہشت گردوں کے خلاف کارروائی نہ ہوئی تو کابل کو خود نتائج بھگتنا ہوں گے، ستمبر میں 12 سال میں سب سے زیادہ دہشت گرد حملے ہوئے• پاکستان کا اگلے مالی سال تک بی پلس کریڈٹ ریٹنگ کا ہدف، وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا عالمی منڈیوں میں واپسی ہو گئی، 3 ارب ڈالر کے یورو بانڈز پر دوگنا پیشکشیں ملیں• گورنر راج کے بعد خیبر پختونخوا اپیکس کمیٹی کا پہلا اجلاس، گورنر فیصل کریم کنڈی اور وزیر داخلہ محسن نقوی کی مشترکہ صدارت، دہشت گردی کے خلاف مربوط اور فیصلہ کن کارروائی کا حکم• کوئٹہ کے قریب پاک فوج کا مشاق تربیتی طیارہ تکنیکی خرابی کے باعث گر کر تباہ، انسٹرکٹر پائلٹ میجر حسنین شہزاد ہمایوں اور زیر تربیت پائلٹ کیپٹن عبدالصمد شہید• خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج: آئینی علاج یا وفاق کی حد سے تجاوز؟ آرٹیکل 232 اور 234 کا امتحان، پارلیمنٹ کی منظوری اور آنے والے دنوں کا تفصیلی تجزیہ•
سیاست

خیبر پختونخوا میں گورنر راج نافذ، وفاق نے صوبے کا انتظام سنبھال لیا، پی ٹی آئی نے فیصلہ سنگین سیاسی غلطی قرار دے دیا

News Cuff

پشاور: خیبر پختونخوا میں ہنگامی حالت نافذ کرتے ہوئے گورنر راج لگا دیا گیا ہے، جس کے بعد صوبے کا انتظامی کنٹرول وفاقی حکومت کے پاس چلا گیا ہے اور صوبائی حکومت عملاً ختم ہو گئی ہے۔ یہ فیصلہ صوبے کی بگڑتی ہوئی امن و امان کی صورتحال کے تناظر میں سامنے آیا ہے، جہاں حالیہ دنوں میں دہشت گردی کے واقعات اور سرحدی علاقوں میں دراندازی کی کوششوں میں اضافہ دیکھا گیا تھا۔

وفاقی فیصلے کے بعد صوبائی انتظامیہ کو نئی ہدایات جاری کر دی گئی ہیں جبکہ قانون نافذ کرنے والے ادارے معمول کے مطابق اپنی ذمہ داریاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ سیکیورٹی فورسز نے اسی دوران کرم کے علاقے میں دراندازی کی ایک بڑی کوشش ناکام بنائی، جسے موجودہ صورتحال کی سنگینی کی ایک مثال قرار دیا جا رہا ہے۔

سیاسی ردعمل

فیصلے پر سیاسی جماعتوں کا شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔ پاکستان تحریک انصاف نے گورنر راج کو سنگین سیاسی غلطی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اقدام صوبے کے عوام کے مینڈیٹ کی توہین ہے۔ پی ٹی آئی رہنما بیرسٹر گوہر نے بھی فیصلے پر سخت تحفظات کا اظہار کیا ہے، جبکہ جمعیت علمائے اسلام (ف) نے صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے اپنی کور کمیٹی کا اجلاس طلب کر لیا ہے۔

دوسری جانب وفاقی حکومت کا موقف ہے کہ صوبے میں آئین و قانون کی عملداری بحال کرنا وقت کی اہم ضرورت تھی۔ ماہرین کے مطابق گورنر راج کے بعد صوبے کی سیاست میں آنے والے دنوں میں مزید ہلچل متوقع ہے اور اس فیصلے کے اثرات ملکی سیاست پر بھی مرتب ہوں گے۔

قرآن مجید اردو ترجمے کے ساتھ پڑھیںنماز کے اوقات • رمضان کیلنڈر • قرآنی دعائیں

متعلقہ خبریں

تبصرہ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے