خیبر پختونخوا میں گورنر راج نافذ، وفاق نے صوبے کا انتظام سنبھال لیا، پی ٹی آئی نے فیصلہ سنگین سیاسی غلطی قرار دے دیا

پشاور: خیبر پختونخوا میں ہنگامی حالت نافذ کرتے ہوئے گورنر راج لگا دیا گیا ہے، جس کے بعد صوبے کا انتظامی کنٹرول وفاقی حکومت کے پاس چلا گیا ہے اور صوبائی حکومت عملاً ختم ہو گئی ہے۔ یہ فیصلہ صوبے کی بگڑتی ہوئی امن و امان کی صورتحال کے تناظر میں سامنے آیا ہے، جہاں حالیہ دنوں میں دہشت گردی کے واقعات اور سرحدی علاقوں میں دراندازی کی کوششوں میں اضافہ دیکھا گیا تھا۔
وفاقی فیصلے کے بعد صوبائی انتظامیہ کو نئی ہدایات جاری کر دی گئی ہیں جبکہ قانون نافذ کرنے والے ادارے معمول کے مطابق اپنی ذمہ داریاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ سیکیورٹی فورسز نے اسی دوران کرم کے علاقے میں دراندازی کی ایک بڑی کوشش ناکام بنائی، جسے موجودہ صورتحال کی سنگینی کی ایک مثال قرار دیا جا رہا ہے۔
سیاسی ردعمل
فیصلے پر سیاسی جماعتوں کا شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔ پاکستان تحریک انصاف نے گورنر راج کو سنگین سیاسی غلطی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اقدام صوبے کے عوام کے مینڈیٹ کی توہین ہے۔ پی ٹی آئی رہنما بیرسٹر گوہر نے بھی فیصلے پر سخت تحفظات کا اظہار کیا ہے، جبکہ جمعیت علمائے اسلام (ف) نے صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے اپنی کور کمیٹی کا اجلاس طلب کر لیا ہے۔
دوسری جانب وفاقی حکومت کا موقف ہے کہ صوبے میں آئین و قانون کی عملداری بحال کرنا وقت کی اہم ضرورت تھی۔ ماہرین کے مطابق گورنر راج کے بعد صوبے کی سیاست میں آنے والے دنوں میں مزید ہلچل متوقع ہے اور اس فیصلے کے اثرات ملکی سیاست پر بھی مرتب ہوں گے۔



