خیبر پختونخوا میں گورنر راج کے بعد 11 رکنی ایڈوائزری کونسل قائم، صوبے میں فوج تعیناتی کا نوٹیفکیشن جاری

خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کے بعد وفاقی حکومت نے صوبے کا انتظامی ڈھانچا مرتب کرنا شروع کر دیا ہے۔ گورنر کو صوبے کے امور میں معاونت فراہم کرنے کے لیے 11 رکنی ایڈوائزری کونسل قائم کر دی گئی ہے جو اہم انتظامی اور پالیسی معاملات میں مشاورت دے گی۔
ایڈوائزری کونسل کی تشکیل
ذرائع کے مطابق ایڈوائزری کونسل میں انتظامی تجربہ رکھنے والی شخصیات کو شامل کیا گیا ہے تاکہ گورنر راج کے دوران صوبائی امور متاثر نہ ہوں۔ وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ پہلے ہی واضح کر چکے ہیں کہ گورنر ایک مشاورتی کونسل کے ساتھ صوبے کا انتظام سنبھالیں گے اور یہ نظام ابتدائی طور پر چھ ماہ کے لیے ہوگا۔
فوج تعیناتی کا نوٹیفکیشن
دوسری جانب صوبے میں امن و امان کی صورتحال بہتر بنانے کے لیے فوج تعینات کرنے کا باضابطہ نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا گیا ہے۔ وزارت داخلہ کے مطابق فوج سول انتظامیہ کی معاونت کے لیے تعینات کی جائے گی، خصوصاً ان اضلاع میں جہاں دہشت گردی کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔
وزیر داخلہ محسن نقوی کا کہنا ہے کہ بعض اضلاع میں صورتحال اس قدر سنگین ہو چکی تھی کہ شام کے بعد شہری گھروں سے باہر نکلنے سے گریز کرتے تھے۔ ان کے مطابق ریاستی رٹ کی بحالی اور شہریوں کے جان و مال کا تحفظ حکومت کی اولین ترجیح ہے اور جتنی جلدی ممکن ہوا صوبے کی صورتحال معمول پر لائی جائے گی۔



