پنجاب میں اسموگ کے سیزن کا آغاز، لاہور کی فضا آلودہ ہونے لگی، محکمہ موسمیات کی بارش کی پیشگوئی سے شہریوں کو عارضی ریلیف کی امید

لاہور: موسم کی تبدیلی کے ساتھ ہی پنجاب میں اسموگ کا سیزن باضابطہ طور پر شروع ہو گیا ہے۔ صوبائی دارالحکومت لاہور کی فضا میں آلودگی کی مقدار بڑھنے لگی ہے — پنجاب انوائرنمنٹل پروٹیکشن ایجنسی کے ریئل ٹائم ڈیش بورڈ کے مطابق شہر کا مجموعی ائیر کوالٹی انڈیکس 131 ریکارڈ کیا گیا، جو درمیانے درجے کی آلودگی کو ظاہر کرتا ہے۔ تاہم شہر کے مختلف علاقوں میں صورتحال یکساں نہیں: سفاری پارک میں انڈیکس 157، شاہدرہ اور ڈی ایچ اے فیز 6 میں 155 جبکہ ملتان روڈ پر 154 رہا، جہاں ہوا حساس افراد کے لیے نقصان دہ قرار دی گئی، دوسری جانب واہگہ بارڈر اور ایجرٹن روڈ پر ہوا نسبتاً صاف رہی۔
شہریوں کے لیے خوشخبری یہ ہے کہ محکمہ موسمیات نے 15 اکتوبر تک پنجاب کے بالائی اور وسطی علاقوں میں بارش، تیز ہواؤں اور آندھی کے ساتھ کہیں کہیں ژالہ باری کی پیشگوئی کی ہے۔ بارش ہوا میں معلق ذرات کو زمین پر گرا کر فضا صاف کر دیتی ہے، جبکہ تیز ہوائیں آلودگی کو منتشر کرنے میں مدد دیتی ہیں — اس لیے آئندہ چند روز میں ہوا کے معیار میں نمایاں بہتری متوقع ہے۔
احتیاط ہی بہتر
ماہرینِ ماحولیات نے خبردار کیا ہے کہ یہ ریلیف عارضی ہو سکتا ہے، کیونکہ گاڑیوں کا دھواں، صنعتی اخراج اور اینٹوں کے بھٹے آلودگی کے بنیادی اسباب بدستور موجود ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اسموگ کا سیزن عام طور پر اکتوبر سے فروری تک رہتا ہے، اس دوران بچوں، بزرگوں اور سانس کے مریضوں کو صبح کے اوقات میں غیر ضروری باہر نکلنے سے گریز کرنا چاہیے اور باہر نکلتے وقت ماسک کا استعمال کرنا چاہیے۔
ادھر ٹریفک پولیس اور ای پی اے نے دھواں چھوڑنے والی گاڑیوں کے خلاف مشترکہ کارروائیاں بھی شروع کر دی ہیں۔ شہری گھر سے نکلنے سے پہلے اپنے علاقے کا ائیر کوالٹی انڈیکس دیکھ کر معمولات طے کریں تو صحت کے خطرات کم کیے جا سکتے ہیں۔



