پاکستان میں پولیو کا چھٹا کیس سامنے آ گیا، خیبر ضلع کے سات سالہ بچے میں وائرس کی تصدیق، 2019 کے بعد ضلع کا پہلا کیس، خصوصی ویکسینیشن مہم کا اعلان

پشاور: پاکستان میں پولیو کے خاتمے کی کوششوں کو ایک اور دھچکا لگا ہے — نیشنل ایمرجنسی آپریشنز سینٹر نے تصدیق کی ہے کہ خیبر پختونخوا کے ضلع خیبر میں ایک سات سالہ بچے میں پولیو وائرس پایا گیا ہے، جس کے بعد 2026 میں ملک بھر میں پولیو کیسز کی تعداد چھ ہو گئی ہے۔ متاثرہ بچے کا تعلق تحصیل جمرود کی یونین کونسل گھنڈی اے سے ہے، اور یہ 2019 کے بعد ضلع خیبر میں رپورٹ ہونے والا پہلا کیس ہے۔
اس سال کے چھ کیسز میں سے پانچ خیبر پختونخوا سے سامنے آئے ہیں — بنوں سے تین جبکہ شمالی وزیرستان اور خیبر سے ایک ایک۔ گزشتہ سال 2025 میں ملک بھر میں 31 کیسز رپورٹ ہوئے تھے، اس لیے حکام کے مطابق مجموعی طور پر وائرس کی منتقلی میں کمی آئی ہے، تاہم خیبر پختونخوا میں یہ سلسلہ بدستور جاری ہے۔ پروگرام کے ایک عہدیدار کے مطابق صوبے کے سکیورٹی مسائل وائرس کے دوبارہ پھیلاؤ کی ایک بڑی وجہ بن رہے ہیں۔
خصوصی مہم کا اعلان
ڈپٹی کمشنر خیبر شاہد علی نے کیس کی تصدیق کے بعد اعلان کیا ہے کہ زیادہ خطرے والے علاقوں میں خصوصی ویکسینیشن مہم شروع کی جائے گی۔ پولیو پروگرام نے کیس کی جامع تحقیقات بھی شروع کر دی ہیں، جبکہ بڑے بچوں کو منہ کے قطروں کے ساتھ انجیکشن والی ویکسین بھی دینے اور معمول کی حفاظتی ٹیکہ جات کو مضبوط بنانے کے اقدامات زیر غور ہیں۔
حکام نے ایک بار پھر والدین سے اپیل کی ہے کہ ہر مہم میں اپنے پانچ سال سے کم عمر بچوں کو پولیو کے قطرے ضرور پلوائیں، کیونکہ یہ معذور بنا دینے والی بیماری لاعلاج ضرور ہے مگر ویکسین سے اس کی روک تھام سو فیصد ممکن ہے۔



