پاکستان کا اگلے مالی سال تک بی پلس کریڈٹ ریٹنگ کا ہدف، وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا عالمی منڈیوں میں واپسی ہو گئی، 3 ارب ڈالر کے یورو بانڈز پر دوگنا پیشکشیں ملیں

اسلام آباد: وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ پاکستان اگلے مالی سال کے آغاز تک اپنی خودمختار کریڈٹ ریٹنگ بی پلس تک لے جانے کا ہدف رکھتا ہے، جبکہ ڈبل بی درجہ طویل مدتی مقصد ہے۔ انہوں نے یہ بات بنکاک میں عالمی مالیاتی فنڈ اور عالمی بینک کے سالانہ اجلاسوں کے موقع پر بلوم برگ ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے کہی۔
عالمی منڈیوں میں واپسی
وزیر خزانہ کے مطابق پاکستان تقریباً چار سال کے وقفے کے بعد عالمی مالیاتی منڈیوں میں واپس آیا ہے۔ اپریل میں 75 کروڑ ڈالر کی نجی بانڈ اجرا کے بعد تقریباً تین ہفتے قبل 3 ارب ڈالر کے یورو بانڈز جاری کیے گئے، جن کے لیے پیش کی گئی رقم سے تقریباً دوگنا پیشکشیں موصول ہوئیں اور ایشیا، مشرق وسطیٰ، یورپ اور امریکا کے سرمایہ کاروں نے حصہ لیا۔ ایک ارب ڈالر کے پانڈا بانڈ پروگرام کے تحت 25 کروڑ ڈالر جاری ہو چکے ہیں اور مزید اجرا کی تیاری ہے، جبکہ اسلامی سکوک اور پہلی مرتبہ ڈالر میں طے شدہ مگر روپے میں مالیت رکھنے والے بانڈز کے لیے بھی بینکوں کو ذمہ داریاں دی گئی ہیں اور موجودہ یورو بانڈز کی ٹوکنائزیشن پر غور ہو رہا ہے۔
قرضوں کی مدت بڑھانے کی حکمت عملی
محمد اورنگزیب نے کہا کہ حکومت اس مالی سال نیا عالمی قرض لینے کی جلدی میں نہیں ہے۔ آئندہ دو سے تین سال میں مختصر مدتی بیرونی قرض کے ایک حصے کو طویل مدتی قرض سے بدلنا مقصد ہے، تاکہ واپسی کا دباؤ اور رول اوور کا خطرہ کم ہو اور بیرونی قرض کا مجموعی حجم بڑھے نہیں۔ گزشتہ سال اپریل سے اب تک پاکستان کی ریٹنگ میں تین مرتبہ بہتری آ چکی ہے اور ملک اس وقت بی کیٹیگری میں ہے۔
شرح نمو اور ذخائر
وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ مشرق وسطیٰ میں کشیدگی اور تیل کی بلند قیمتوں کے باوجود ملکی معیشت اس مالی سال 4 فیصد سے زیادہ شرح نمو حاصل کرے گی، جبکہ گزشتہ سال یہ شرح 3.7 فیصد تھی۔ انہوں نے زرمبادلہ ذخائر 21.4 ارب ڈالر کے قریب ہونے کی بھی نشاندہی کی، جو تقریباً تین ماہ کی درآمدات کے برابر ہیں۔



