سیاسی ہلچل نے اسٹاک مارکیٹ کو بھی لپیٹ میں لے لیا، کے ایس ای 100 انڈیکس میں 1,400 سے زائد پوائنٹس کی کمی، سرمایہ کار محتاط ہو گئے

کراچی: ملکی سیاسی صورتحال کی ہلچل پاکستان اسٹاک ایکسچینج تک پہنچ گئی ہے — پیر کے کاروباری دن کے دوران بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس میں 1,400 سے زائد پوائنٹس کی کمی دیکھنے میں آئی اور دوپہر تک انڈیکس 165,644 پوائنٹس کی سطح پر ٹریڈ کر رہا تھا۔ صبح کے سیشن میں بھی انڈیکس تقریباً 973 پوائنٹس نیچے تھا، جس کے بعد فروخت کا دباؤ بڑھتا چلا گیا۔
آٹو موبائل اسمبلرز، سیمنٹ، کمرشل بینک، تیل و گیس کی تلاش و پیداوار، آئل مارکیٹنگ کمپنیوں اور بجلی کی پیداوار سمیت تقریباً تمام بڑے شعبوں میں فروخت دیکھی گئی۔ انڈیکس پر بھاری اثر رکھنے والے حصص — حبکو، ماڑی، او جی ڈی سی، پی او ایل، پی ایس او، ایم سی بی، میزان بینک، نیشنل بینک اور یو بی ایل — سرخ رنگ میں ٹریڈ ہوتے رہے۔
سیاسی بے یقینی، سرمایہ کار پریشان
بروکرز کے مطابق خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے بعد پیدا ہونے والی سیاسی بے یقینی نے سرمایہ کاروں کو محتاط کر دیا ہے۔ یاد رہے کہ پچھلے کاروباری ہفتے بھی انڈیکس 1,066 پوائنٹس (0.6 فیصد) کمی کے ساتھ 167,089 پوائنٹس پر بند ہوا تھا، جب خطے کی کشیدگی سرمایہ کاروں کے ذہنوں پر سوار تھی۔
عالمی سطح پر بھی ایشیائی مارکیٹوں کا آغاز محتاط رہا، جہاں کمپنیوں کے مالی نتائج کا سیزن اور تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ زیر بحث ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق آنے والے دنوں میں پارلیمنٹ کے اجلاسوں اور سیاسی صورتحال کی سمت مارکیٹ کا رخ طے کرے گی — صورتحال میں ٹھہراؤ آیا تو خریداری واپس آ سکتی ہے۔



