گورنر راج کے بعد خیبر پختونخوا اپیکس کمیٹی کا پہلا اجلاس، گورنر فیصل کریم کنڈی اور وزیر داخلہ محسن نقوی کی مشترکہ صدارت، دہشت گردی کے خلاف مربوط اور فیصلہ کن کارروائی کا حکم

پشاور: خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کے بعد صوبائی اپیکس کمیٹی کا پہلا اجلاس پیر کے روز گورنر ہاؤس پشاور میں منعقد ہوا، جس کی مشترکہ صدارت گورنر فیصل کریم کنڈی اور وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کی۔ اجلاس میں مشاورتی کونسل کے ارکان، کور کمانڈر پشاور، چیف سیکرٹری، آئی جی پولیس اور سول و عسکری حکام نے شرکت کی۔
اجلاس کی تفصیلات
اجلاس میں صوبے کی مجموعی سکیورٹی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا گیا اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے شہداء کو خراج عقیدت پیش کیا گیا۔ کمیٹی نے متعلقہ اداروں کو دہشت گردوں کے خلاف مربوط، مؤثر اور فیصلہ کن کارروائی کی ہدایت کی اور واضح کیا کہ انٹیلی جنس بنیادوں پر آپریشنز جاری رہیں گے اور امن و امان کی بہتری کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔
پولیس اور سی ٹی ڈی کی استعداد بڑھانے کا فیصلہ
کمیٹی نے خیبر پختونخوا پولیس اور کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) کی عملی استعداد میں اضافے پر زور دیا۔ گورنر کنڈی نے کہا کہ صوبے کی اولین ترجیح دہشت گردی کا خاتمہ ہے، ترقیاتی منصوبوں پر سمجھوتہ ہو سکتا ہے مگر سکیورٹی پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ پولیس اور سی ٹی ڈی فرنٹ لائن فورس ہیں، اس لیے ان کی ضروریات پوری کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے، اور اقدامات نمائشی نہیں بلکہ ایسے ہونے چاہئیں جن کے نتائج نظر آئیں۔ انہوں نے کرپشن کے خلاف زیرو ٹالرنس کا بھی اعلان کیا۔
وفاق اور صوبہ ایک پیج پر ہیں، محسن نقوی
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا کہ دہشت گردی کے معاملے پر وفاقی اور صوبائی حکومتیں پہلی مرتبہ ایک پیج پر ہیں اور جہاں ضرورت ہوگی وفاق صوبے کے ساتھ کھڑا ہوگا۔ انہوں نے ساتھ یہ بھی کہا کہ صوبے کو انسداد دہشت گردی میں قیادت خود کرنا ہوگی اور یہ توقع نہیں رکھنی چاہیے کہ ایک دن میں سب کچھ بدل جائے گا، تاہم قریبی رابطہ کاری سے نتائج ضرور سامنے آئیں گے۔



