خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج پشاور ہائی کورٹ میں چیلنج، درخواست میں اقدام غیر آئینی قرار دے کر کالعدم کرنے اور نوٹیفکیشن معطل کرنے کی استدعا

پشاور: خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ اور گورنر راج کو پشاور ہائی کورٹ میں چیلنج کر دیا گیا ہے۔ ایڈووکیٹ سلمان کی جانب سے دائر درخواست میں صدر مملکت آصف علی زرداری، وزیراعظم شہباز شریف اور گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی کو فریق بنایا گیا ہے اور عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ اس اقدام کو کالعدم قرار دیا جائے۔
درخواست میں کیا مؤقف اختیار کیا گیا؟
درخواست گزار کا مؤقف ہے کہ صوبے میں ایمرجنسی اور گورنر راج کا نفاذ آئین اور قانون سے متصادم ہے اور اس سے بنیادی حقوق، صوبائی خودمختاری اور عوام کے جمہوری مینڈیٹ کو نقصان پہنچا ہے۔ درخواست میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ منتخب صوبائی حکومت کو انتظامی اقدام کے ذریعے غیر فعال کرنا آئینی حدود سے تجاوز ہے، اس لیے عدالت اس فیصلے کی آئینی حیثیت کا جائزہ لے۔
نوٹیفکیشن معطلی کی بھی استدعا
درخواست میں عدالت سے یہ استدعا بھی کی گئی ہے کہ کیس کے حتمی فیصلے تک گورنر راج کے نوٹیفکیشن پر عمل درآمد معطل کر دیا جائے۔ درخواست گزار کے مطابق ایمرجنسی کے بعد سڑکوں کی بندش سے عام شہریوں کو شدید مشکلات پیش آئیں اور لوگوں کی پشاور ہائی کورٹ اور ضلعی عدالتوں تک رسائی بھی متاثر ہوئی۔
پس منظر اور حکومت کا مؤقف
یاد رہے کہ صدر مملکت نے وزیراعظم کی ایڈوائس پر آئین کے آرٹیکل 232 اور 234 کے تحت یہ اقدامات منظور کیے تھے، جس کے بعد صوبائی کابینہ تحلیل ہو گئی، انتظامی امور کے لیے 11 رکنی مشاورتی کونسل قائم کی گئی اور امن و امان کے لیے آرٹیکل 245 کے تحت فوج کی خدمات بھی طلب کی گئیں۔ دوسری جانب وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری کہہ چکے ہیں کہ تحریک انصاف کو اعتراض ہے تو وہ عدالت سے رجوع کر سکتی ہے، جبکہ اپوزیشن رہنماؤں نے منگل سے ملک گیر پرامن احتجاج کا اعلان بھی کر رکھا ہے۔



