بچوں کے لیے سیرتِ نبوی ﷺ اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی 20 اسلامی کہانیاں — سادہ زبان میں، ہر کہانی کے آخر میں اخلاقی سبق۔
- 1. نبی کریم ﷺ کا بچپن — حضرت حلیمہ سعدیہ کے پاس
- 2. جوانی میں امانت داری — «الامین»
- 3. حجرِ اسود کا فیصلہ — چادر والا واقعہ
- 4. غارِ حرا — پہلی وحی
- 5. ہجرتِ مدینہ — غارِ ثور میں تین راتیں
- 6. غزوہ بدر — 313 کا لشکر
- 7. غزوہ خندق — حضرت سلمان فارسی کا مشورہ
- 8. صلح حدیبیہ — صبر اور حکمت
- 9. فتح مکہ — عام معافی کا دن
- 10. حجۃ الوداع — آخری خطبہ کا پیغام
- 11. حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ — سچے ساتھی
- 12. حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ — انصاف کی مثال
- 13. حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ — کنواں خرید کر وقف کر دیا
- 14. حضرت علی کرم اللہ وجہہ — علم اور بہادری
- 15. حضرت بلال حبشی رضی اللہ عنہ — صبر اور اذان
- 16. حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا — سب سے پہلے ایمان لانے والی
- 17. حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا — نبی ﷺ کی لاڈلی بیٹی
- 18. حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ — اسلام قبول کرنے کا واقعہ
- 19. نبی ﷺ کی بچوں سے محبت — حسن و حسین رضی اللہ عنہما
- 20. پڑوسی کا حق — نبی ﷺ کی عیادت کی کہانی
1. نبی کریم ﷺ کا بچپن — حضرت حلیمہ سعدیہ کے پاس
بہت پرانے زمانے کی بات ہے۔ مکہ مکرمہ میں ایک خوب صورت بچہ پیدا ہوا۔ اس کا نام محمد رکھا گیا۔ اس زمانے میں مکہ کے امیر لوگوں کا یہ دستور تھا کہ وہ اپنے بچوں کو دیہات کی کھلی اور صاف ہوا میں پالنے کے لیے بھیج دیتے تھے، تاکہ بچے صحت مند ہوں اور خالص عربی زبان سیکھیں۔
ایک دن بنو سعد قبیلے کی عورتیں بچوں کی تلاش میں مکہ آئیں۔ ان میں ایک نیک اور شریف عورت حضرت حلیمہ سعدیہ بھی تھیں۔ وہ غریب تھیں، اس لیے امیر گھرانوں کے بچے دوسری عورتیں لے گئیں۔ آخر میں ایک یتیم بچہ رہ گیا، جس کے والد اس کی پیدائش سے پہلے ہی وفات پا چکے تھے۔ دوسری عورتیں اس بچے کو لینے سے ہچکچائیں، مگر حضرت حلیمہ نے سوچا کہ خالی ہاتھ واپس جانا اچھا نہیں۔ انہوں نے اسی یتیم بچے کو محبت سے اٹھا لیا۔ یہ بچہ ہمارے پیارے نبی حضرت محمد ﷺ تھے۔
جس دن سے بچہ محمد ﷺ حضرت حلیمہ کے گھر آیا، اس گھر میں برکت آ گئی۔ پہلے ان کی بکریاں کمزور تھیں اور دودھ کم دیتی تھیں، اب وہ خوب دودھ دینے لگیں۔ کھیت ہرے بھرے ہو گئے اور گھر میں خوشحالی آ گئی۔ حضرت حلیمہ اور ان کے شوہر سمجھ گئے کہ یہ بچہ بہت برکت والا ہے۔
بچہ محمد ﷺ حضرت حلیمہ کے بچوں کے ساتھ کھیلتے ہوئے بڑے ہونے لگے۔ وہ سب بچوں سے الگ مزاج کے تھے؛ سچ بولتے، کسی کو تنگ نہ کرتے اور سب سے پیار سے پیش آتے۔ حضرت حلیمہ انہیں اپنی اولاد سے بھی زیادہ چاہتی تھیں۔ جب واپس کرنے کا وقت آیا تو ان کا دل بھر آیا، مگر انہوں نے بچے کو ان کی والدہ حضرت آمنہ کے پاس مکہ پہنچا دیا۔
بچپن ہی سے اللہ تعالیٰ نے نبی ﷺ کو نیکی، سچائی اور محبت بھرا دل عطا فرمایا تھا۔ یہی خوبیاں آگے چل کر پوری دنیا کے لیے روشنی بن گئیں۔
اخلاقی سبق: یتیم بچے سے محبت اور حسنِ سلوک کرنا اللہ تعالیٰ کو بہت پسند ہے اور اس سے گھر میں برکت آتی ہے۔
2. جوانی میں امانت داری — «الامین»
جب حضرت محمد ﷺ جوان ہوئے تو سارا مکہ انہیں ان کی سچائی اور دیانت کی وجہ سے پہچانتا تھا۔ آپ ﷺ کبھی جھوٹ نہ بولتے، کبھی کسی کا حق نہ مارتے اور جو بات کہتے، اسے پورا کرتے۔ لوگ آپ کی ان خوبیوں کی وجہ سے آپ کو «الامین» کہنے لگے، جس کا مطلب ہے: سب سے زیادہ امانت دار۔
مکہ کے لوگ سفر پر جاتے وقت اپنی قیمتی چیزیں اور سونا چاندی آپ ﷺ کے پاس امانت رکھواتے تھے۔ انہیں یقین ہوتا تھا کہ محمد ﷺ کے پاس رکھی چیز بالکل محفوظ رہے گی۔ جب وہ واپس آتے تو ان کی امانت انہیں ویسے کی ویسی مل جاتی، ایک ذرہ بھی کم نہ ہوتی۔
آپ ﷺ تجارت بھی کرتے تھے۔ بازار میں جب آپ کوئی چیز بیچتے تو اس کی اچھائی بھی بتا دیتے اور اگر اس میں کوئی کمی ہوتی تو وہ بھی صاف صاف کہہ دیتے، تاکہ خریدنے والا دھوکا نہ کھائے۔ آپ ناپ تول میں پوری ایمان داری کرتے اور کسی کو نقصان نہ پہنچاتے۔ یہی وجہ تھی کہ تاجر آپ پر آنکھیں بند کر کے بھروسا کرتے تھے۔
مکہ کی ایک مال دار اور نیک خاتون حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا نے آپ کی سچائی اور امانت داری کی شہرت سنی تو اپنا تجارتی سامان آپ کے سپرد کر کے شام بھیجا۔ آپ ﷺ نے ایمان داری سے تجارت کی اور پہلے سے کہیں زیادہ منافع کما کر لائے، اور ایک ایک پائی کا حساب بھی صاف پیش کر دیا۔ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا آپ کے اخلاق سے بہت متاثر ہوئیں۔
یاد رکھو بچو! سچائی اور امانت داری ایسی دولت ہے جو انسان کو سب کے دلوں میں جگہ دیتی ہے۔ جو بچہ آج سچ بولتا ہے اور دوسروں کی چیزوں کی حفاظت کرتا ہے، کل سارا زمانہ اس پر اسی طرح بھروسا کرتا ہے جیسے مکہ والے نبی ﷺ پر کرتے تھے۔
اخلاقی سبق: ہمیشہ سچ بولو اور امانت کی حفاظت کرو، کیونکہ سچا اور امانت دار انسان سب کا محبوب بن جاتا ہے۔
3. حجرِ اسود کا فیصلہ — چادر والا واقعہ
ایک دفعہ مکہ میں شدید بارش اور سیلاب آیا، جس سے خانہ کعبہ کی دیواریں کمزور ہو گئیں۔ قریش کے سرداروں نے مل کر کعبہ کی نئی تعمیر شروع کی۔ محنت سے دیواریں کھڑی ہو گئیں۔ اب آخری اور سب سے بڑا مرحلہ باقی تھا: حجرِ اسود کو اس کی جگہ پر رکھنا۔
یہاں بڑا جھگڑا کھڑا ہو گیا۔ مکہ کا ہر قبیلہ چاہتا تھا کہ یہ عزت اسے ملے۔ بات بڑھتے بڑھتے لڑائی تک جا پہنچی۔ لوگ آپس میں الجھ پڑے اور کئی دن تک تعمیر کا کام رکا رہا۔ خون خرابے کا خطرہ پیدا ہو گیا۔
آخر ایک بزرگ نے مشورہ دیا کہ کل صبح جو شخص سب سے پہلے کعبہ کے دروازے سے اندر آئے، وہی اس جھگڑے کا فیصلہ کرے گا، اور سب اس کا فیصلہ مان لیں گے۔ سب قبیلوں نے یہ بات قبول کر لی۔
اگلی صبح سب کی نظریں دروازے پر تھیں۔ اندر داخل ہونے والے سب سے پہلے نوجوان حضرت محمد ﷺ تھے۔ سب خوشی سے پکار اٹھے کہ یہ تو الامین ہیں، ہم ان کا فیصلہ خوشی سے مانیں گے۔
آپ ﷺ نے نہایت حکمت سے مسئلہ حل فرمایا۔ آپ نے ایک بڑی چادر بچھائی اور حجرِ اسود کو اپنے ہاتھوں سے اٹھا کر اس کے بیچ میں رکھ دیا۔ پھر ہر قبیلے کے سردار کو بلایا اور چادر کا ایک ایک کونا سب کو پکڑا دیا۔ سب سرداروں نے مل کر چادر اٹھائی اور حجرِ اسود کو اس کی جگہ تک لے گئے۔ پھر آپ ﷺ نے اسے اپنے دستِ مبارک سے اس کی جگہ نصب فرما دیا۔
یوں سب قبیلوں کو عزت بھی مل گئی اور لڑائی بھی ختم ہو گئی۔ سب آپ کی عقلمندی اور انصاف کی تعریف کرتے رہ گئے۔
اخلاقی سبق: جھگڑے کا حل لڑائی میں نہیں، عقلمندی اور انصاف میں ہے؛ جو سب کو ساتھ لے کر چلے، وہی بڑا ہوتا ہے۔
4. غارِ حرا — پہلی وحی
مکہ کے قریب ایک پہاڑ ہے جسے جبلِ نور کہتے ہیں۔ اس پہاڑ پر ایک چھوٹی سی غار تھی، جس کا نام غارِ حرا تھا۔ جب حضرت محمد ﷺ کی عمر تقریباً چالیس برس ہوئی تو آپ کو تنہائی میں بیٹھ کر اللہ کی عبادت اور غور و فکر کرنا بہت پسند آنے لگا۔ آپ کھانا پانی ساتھ لے کر غارِ حرا چلے جاتے اور کئی کئی دن وہاں رہ کر آسمان و زمین بنانے والے پر غور کرتے رہتے۔
آپ دیکھتے کہ لوگ پتھروں کے بنے بتوں کو پوجتے ہیں، ایک دوسرے پر ظلم کرتے ہیں اور کمزوروں کا حق مارتے ہیں۔ یہ سب دیکھ کر آپ کا دل بہت دکھتا۔ آپ سوچتے رہتے کہ انسانوں کو سیدھا راستہ کیسے دکھایا جائے؟
ایک رات غارِ حرا میں وہ عظیم واقعہ پیش آیا جس نے دنیا کی تقدیر بدل دی۔ اللہ کے فرشتے حضرت جبرئیل علیہ السلام تشریف لائے اور آپ ﷺ سے فرمایا: پڑھو۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ میں پڑھنا نہیں جانتا۔ فرشتے نے آپ کو سینے سے لگایا اور پھر فرمایا: پڑھو۔ تیسری بار کہنے پر فرشتے نے قرآن مجید کی پہلی آیات سنائیں، جن کا مفہوم یہ تھا کہ اپنے رب کے نام سے پڑھو جس نے انسان کو پیدا کیا۔
یہ پہلی وحی تھی۔ آپ ﷺ گھر تشریف لائے تو دل تیزی سے دھڑک رہا تھا۔ آپ نے حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا کہ مجھے کمبل اوڑھا دو۔ انہوں نے آپ کو تسلی دی اور کہا کہ آپ نیک اور سچے انسان ہیں، اللہ آپ کو کبھی رسوا نہیں کرے گا۔ پھر وہ آپ کو اپنے چچا زاد بھائی ورقہ بن نوفل کے پاس لے گئیں، جو پرانی آسمانی کتابوں کے عالم تھے۔ انہوں نے خوش خبری دی کہ آپ پر وہی فرشتہ آیا ہے جو پہلے انبیاء پر آتا تھا، اور آپ اللہ کے رسول ہیں۔
یوں اس رات سے قرآن مجید کے نزول کا آغاز ہوا، جو آج تک پوری انسانیت کے لیے ہدایت کی روشنی ہے۔
اخلاقی سبق: علم حاصل کرنا سب سے پہلی اور بڑی نیکی ہے؛ اللہ تعالیٰ نے پہلی وحی میں بھی پڑھنے کا حکم دیا۔
5. ہجرتِ مدینہ — غارِ ثور میں تین راتیں
جب مکہ کے ظالم سرداروں نے مسلمانوں پر ظلم کی حد کر دی تو اللہ تعالیٰ نے نبی ﷺ کو مدینہ ہجرت کا حکم دیا۔ مدینہ کے لوگ اسلام قبول کر چکے تھے اور محبت سے آپ کا انتظار کر رہے تھے۔
ہجرت کی رات ظالموں نے آپ ﷺ کے گھر کا گھیراؤ کر لیا تھا۔ آپ ﷺ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو اپنے بستر پر لٹایا، تاکہ لوگوں کی امانتیں جو آپ کے پاس تھیں، وہ صبح ان کے مالکوں کو واپس کر دیں، اور خود حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے ساتھ خاموشی سے نکل پڑے۔ دیکھو بچو! اتنی مشکل گھڑی میں بھی آپ ﷺ نے امانتوں کا خیال رکھا۔
مدینہ کا راستہ جنوب کی طرف تھا، مگر آپ ﷺ پہلے جنوب ہی کی سمت ایک پہاڑ کی غار میں گئے جسے غارِ ثور کہتے ہیں، تاکہ تلاش کرنے والے گمراہ ہو جائیں۔ آپ دونوں تین راتیں اس غار میں چھپے رہے۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے بیٹے دن کی خبریں لاتے اور ان کی بیٹی حضرت اسماء رضی اللہ عنہا کھانا پہنچاتیں۔
ایک دن تلاش کرنے والے غار کے دہانے تک آ پہنچے۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ فکر مند ہوئے کہ دشمن اتنے قریب آ گیا ہے۔ نبی ﷺ نے بڑے سکون سے انہیں تسلی دی کہ گھبراؤ نہیں، اللہ ہمارے ساتھ ہے۔ اللہ تعالیٰ کی حفاظت سے دشمن غار کے اندر دیکھے بغیر واپس چلا گیا اور دونوں حضرات محفوظ رہے۔
تین راتوں کے بعد راستہ بتانے والے ماہر کی رہنمائی میں قافلہ مدینہ کی طرف روانہ ہوا۔ راستے میں سختیاں آئیں، مگر اللہ کی مدد ساتھ رہی۔ مدینہ پہنچنے پر بچے، بوڑھے اور جوان خوشی سے جھوم اٹھے اور محبت بھرے نعتیہ اشعار سے استقبال کیا۔ یوں اسلام کی تاریخ کا نیا باب شروع ہوا اور ہجری تقویم کا آغاز اسی عظیم واقعے سے ہوا۔
اخلاقی سبق: مشکل وقت میں اللہ پر بھروسا اور صبر رکھو؛ اللہ اپنے نیک بندوں کی خود حفاظت فرماتا ہے۔
6. غزوہ بدر — 313 کا لشکر
ہجرت کے دوسرے سال رمضان کا مہینہ تھا۔ خبر ملی کہ مکہ کا ایک بڑا لشکر مدینہ کی طرف بڑھ رہا ہے۔ اس لشکر میں تقریباً ایک ہزار مسلح آدمی تھے، جن کے پاس بہت سے گھوڑے اور ہتھیار تھے۔ نبی ﷺ نے مسلمانوں سے مشورہ کیا۔ مسلمانوں نے کہا کہ ہم آپ کے ساتھ ہیں، جہاں آپ چلیں گے ہم چلیں گے۔
مسلمانوں کی تعداد صرف تین سو تیرہ تھی۔ ان کے پاس ہتھیار بھی کم تھے اور سواریاں بھی گنتی کی تھیں۔ دو تین گھوڑے اور چند اونٹ، بس یہی ان کا سارا سامان تھا۔ تعداد اور طاقت میں دشمن تین گنا سے بڑا تھا، مگر مسلمانوں کے دل ایمان سے بھرے ہوئے تھے۔ وہ جانتے تھے کہ وہ حق کی خاطر نکلے ہیں۔
دونوں لشکر بدر کے میدان میں آمنے سامنے ہوئے۔ رات کو نبی ﷺ نے لمبی دعا کی اور اللہ سے مدد مانگی۔ اگلے دن جنگ شروع ہوئی۔ مسلمان بڑی بہادری اور نظم و ضبط سے لڑے۔ ان میں بوڑھے بھی تھے اور نوجوان بھی؛ سب کا ایک ہی جذبہ تھا کہ حق کی جیت ہو۔
اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کی مدد فرمائی اور کم تعداد کے باوجود انہیں عظیم فتح عطا کی۔ مکہ کے بڑے بڑے سردار مارے گئے اور ان کا لشکر شکست کھا کر بھاگ گیا۔ جو دشمن قیدی بنے، نبی ﷺ نے ان کے ساتھ بھی حسنِ سلوک کا حکم دیا۔ ان قیدیوں میں سے جو پڑھے لکھے تھے، ان سے کہا گیا کہ وہ مسلمان بچوں کو پڑھنا لکھنا سکھا دیں، تو انہیں آزاد کر دیا جائے گا۔
غزوہ بدر ہمیں سکھاتا ہے کہ جیت تعداد اور ہتھیاروں سے نہیں ملتی، بلکہ سچائی، یقین اور اللہ پر بھروسے سے ملتی ہے۔
اخلاقی سبق: حق کے راستے میں تعداد کی کمی سے گھبرانا نہیں چاہیے؛ ایمان اور اللہ پر بھروسا سب سے بڑی طاقت ہے۔
7. غزوہ خندق — حضرت سلمان فارسی کا مشورہ
بدر اور احد کی جنگوں کے بعد مکہ کے سرداروں نے ایک بہت بڑی فوج تیار کی۔ اس مرتبہ کئی قبیلے مل کر تقریباً دس ہزار کا لشکر لے کر مدینہ کی طرف چل پڑے۔ خبر سن کر مسلمانوں میں فکر کی لہر دوڑ گئی، کیونکہ اتنی بڑی فوج کا مقابلہ کھلے میدان میں بہت مشکل تھا۔
نبی ﷺ ہمیشہ اہم معاملات میں ساتھیوں سے مشورہ کرتے تھے۔ مجلسِ مشورہ بیٹھی۔ اس میں حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ بھی تھے، جو ملکِ فارس سے آئے تھے اور وہاں کے طریقے جانتے تھے۔ انہوں نے عرض کیا کہ ہمارے ملک میں جب دشمن کی بڑی فوج آتی ہے تو ہم شہر کے گرد گہری خندق کھود لیتے ہیں، تاکہ دشمن آگے نہ بڑھ سکے۔ عربوں کے لیے یہ نیا خیال تھا، مگر نبی ﷺ کو یہ مشورہ بہت پسند آیا اور سب نے اسے قبول کر لیا۔
پھر کیا تھا، سارے مسلمان خندق کھودنے میں لگ گئے۔ نبی ﷺ خود بھی مٹی اٹھاتے اور ساتھیوں کے ساتھ کام کرتے۔ سردی کے دن تھے اور کھانا بھی کم تھا، مگر کوئی پیچھے نہ ہٹا۔ کھودتے کھودتے ایک سخت چٹان آ گئی جو کسی سے نہ ٹوٹی۔ نبی ﷺ نے خود کدال چلائی اور اللہ کے فضل سے چٹان ٹکڑے ٹکڑے ہو گئی۔ چند دنوں میں مدینہ کے کھلے حصے کے گرد لمبی اور گہری خندق تیار ہو گئی۔
جب دشمن کا لشکر آیا تو خندق دیکھ کر حیران رہ گیا۔ گھوڑ سوار آگے بڑھ ہی نہ سکے۔ وہ کئی ہفتے خندق کے اس پار پڑے رہے۔ پھر ایک رات تیز آندھی اور سرد ہوا چلی، ان کے خیمے اکھڑ گئے اور برتن الٹ گئے۔ حوصلہ ہار کر سارا لشکر واپس چلا گیا۔
یوں ایک اچھے مشورے اور سب کی مشترکہ محنت سے مدینہ محفوظ رہا اور بڑی جنگ کے بغیر ہی فتح مل گئی۔
اخلاقی سبق: بڑے بزرگوں اور دوستوں کا اچھا مشورہ ہمیشہ سننا چاہیے؛ مل جل کر کام کرنے سے بڑی سے بڑی مشکل آسان ہو جاتی ہے۔
8. صلح حدیبیہ — صبر اور حکمت
ہجرت کے چھٹے سال نبی ﷺ نے خواب دیکھا کہ آپ ساتھیوں کے ساتھ مکہ جا کر عمرہ کر رہے ہیں۔ آپ ﷺ نے چودہ سو مسلمانوں کے ساتھ مکہ کا سفر شروع کیا۔ سب نے عبادت کے کپڑے پہنے تھے، ساتھ قربانی کے جانور تھے اور جنگ کا کوئی ارادہ نہ تھا۔
مکہ والے مسلمانوں کو شہر میں داخل ہونے سے روکنا چاہتے تھے۔ مسلمان مکہ کے قریب حدیبیہ کے مقام پر ٹھہر گئے۔ کئی دن بات چیت ہوتی رہی۔ آخر مکہ والوں نے صلح کی پیش کش کی، مگر شرائط بہت سخت رکھیں: مسلمان اس سال عمرہ کیے بغیر واپس جائیں گے، اگلے سال آ سکیں گے؛ دس سال تک جنگ نہیں ہوگی؛ اور اگر مکہ کا کوئی آدمی مدینہ آئے تو اسے واپس کرنا ہوگا۔
یہ شرائط سن کر کئی مسلمانوں کے دل دکھے۔ وہ سمجھتے تھے کہ یہ ہمارے لیے ذلت ہے۔ مگر نبی ﷺ نے دور کی نظر سے دیکھا۔ آپ ﷺ نے صلح نامہ منظور فرما لیا اور اس پر دستخط کر دیے۔ آپ جانتے تھے کہ امن ملے گا تو لوگ سکون سے اسلام کی بات سنیں گے۔
نتیجہ بالکل ویسا ہی نکلا۔ صلح کے بعد لوگ آزادانہ آنے جانے لگے، اسلام کی دعوت تیزی سے پھیلنے لگی اور دو سال کے اندر مسلمانوں کی تعداد پہلے سے کئی گنا بڑھ گئی۔ اللہ تعالیٰ نے اس صلح کو «فتحِ مبین» یعنی کھلی فتح قرار دیا۔
مگر مکہ والوں نے کچھ عرصے بعد خود ہی صلح توڑ دی۔ ان کی اس غلطی کا نتیجہ یہ نکلا کہ راستہ فتحِ مکہ کے لیے کھل گیا۔
بچو! اس واقعے سے سمجھو کہ بعض اوقات صبر سے پیچھے ہٹنا کمزوری نہیں ہوتی، بلکہ یہ سب سے بڑی عقلمندی ہوتی ہے۔ وقتی بات مان لینے سے آگے چل کر بڑی کامیابیاں ملتی ہیں۔
اخلاقی سبق: غصے کے وقت برداشت اور صبر سے کام لو؛ نرم دل اور عقلمند انسان ہی آخر میں جیتتا ہے۔
9. فتح مکہ — عام معافی کا دن
صلح حدیبیہ کو مکہ والوں نے خود توڑ دیا تو نبی ﷺ دس ہزار مسلمانوں کے لشکر کے ساتھ مکہ کی طرف روانہ ہوئے۔ یہ رمضان کا مہینہ تھا اور ہجرت کو آٹھ سال ہو چکے تھے۔
مکہ والے یاد کر رہے تھے کہ انہوں نے برسوں تک مسلمانوں پر کتنے ظلم کیے تھے۔ انہوں نے نبی ﷺ کو گھر سے نکالا، آپ کے ساتھیوں کو ستایا اور کئی مسلمانوں کو شہید کیا۔ اب جب اتنا بڑا لشکر شہر کے سامنے تھا تو انہیں اپنی جانوں کی فکر پڑ گئی۔ انہیں لگتا تھا کہ آج بدلہ لیا جائے گا۔
مگر نبی ﷺ رحمت کا پیکر تھے۔ آپ نے پہلے ہی اعلان فرما دیا تھا کہ جو شخص اپنے گھر میں رہے، یا خانہ کعبہ میں پناہ لے، یا حضرت ابوسفیان کے گھر چلا جائے، وہ محفوظ رہے گا۔ لشکر بغیر کسی بڑی لڑائی کے شہر میں داخل ہوا۔
آپ ﷺ اونٹنی پر سوار ہو کر نہایت عاجزی کے ساتھ مکہ میں داخل ہوئے۔ آپ کا سر مبارک شکر گزاری میں جھکا ہوا تھا، حالانکہ یہ فتح کا دن تھا۔ خانہ کعبہ پہنچ کر آپ نے اسے بتوں سے پاک کیا۔
پھر وہ لمحہ آیا جسے دنیا آج تک یاد کرتی ہے۔ مکہ کے لوگ آپ کے سامنے جمع تھے۔ یہ وہی لوگ تھے جنہوں نے آپ پر ظلم کیے تھے۔ آپ ﷺ نے ان سے پوچھا کہ تمہیں مجھ سے کس سلوک کی امید ہے؟ انہوں نے کہا کہ آپ شریف بھائی ہیں، ہم بھلائی کی امید رکھتے ہیں۔ نبی ﷺ نے فرمایا کہ جاؤ، آج تم پر کوئی الزام نہیں، تم سب آزاد ہو۔
یہ سن کر لوگوں کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ دشمنوں کو اس طرح معاف کر دینا دنیا کی تاریخ میں بے مثال ہے۔ اسی دن مکہ والوں کے دل اسلام کے لیے کھل گئے اور وہ بڑی تعداد میں مسلمان ہونے لگے۔
اخلاقی سبق: طاقت ملنے پر بدلہ لینے کے بجائے معاف کر دینا سب سے بڑی بہادری ہے؛ معافی دلوں کو جیت لیتی ہے۔
10. حجۃ الوداع — آخری خطبہ کا پیغام
ہجرت کے دسویں سال نبی ﷺ نے حج کا ارادہ فرمایا۔ خبر سنتے ہی مدینہ اور ارد گرد کے علاقوں سے مسلمانوں کے قافلے اکٹھے ہونے لگے۔ ایک لاکھ سے زیادہ مسلمان اس سفر میں آپ ﷺ کے ساتھ شریک ہوئے۔ یہ آپ ﷺ کا پہلا اور آخری حج تھا، اسی لیے اسے حجۃ الوداع کہتے ہیں۔
حج کے دن آپ ﷺ نے عرفات کے میدان میں ایک تاریخی خطبہ دیا۔ اس خطبے میں آپ نے وہ اصول بتائے جن پر قیامت تک عمل کر کے انسانیت خوشحال رہ سکتی ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ ہر مسلمان کی جان، مال اور عزت دوسرے مسلمان پر اسی طرح حرام ہے جیسے یہ دن اور یہ مہینہ حرمت والا ہے۔ کسی کا مال اس کی مرضی کے بغیر لینا جائز نہیں۔
آپ ﷺ نے فرمایا کہ کسی عربی کو غیر عربی پر اور کسی غیر عربی کو عربی پر کوئی فضیلت نہیں؛ برتری صرف نیکی اور پرہیزگاری سے ہے۔ آپ نے عورتوں کے حقوق کی خاص تاکید فرمائی کہ ان کے ساتھ ہمیشہ بھلائی اور نرمی کا سلوک کرو۔ آپ نے فرمایا کہ میں تمہارے پاس اللہ کی کتاب چھوڑے جا رہا ہوں؛ جب تک اسے تھامے رہو گے، کبھی گمراہ نہ ہو گے۔
خطبے کے آخر میں آپ ﷺ نے آسمان کی طرف اشارہ کر کے اللہ کو گواہ بنایا کہ اے اللہ! گواہ رہنا، میں نے تیرا پیغام تیرے بندوں تک پہنچا دیا۔ سب مسلمانوں نے ایک آواز میں کہا کہ ہم گواہی دیتے ہیں کہ آپ نے پیغام پہنچا دیا۔
حج سے واپسی کے کچھ ہی مہینوں بعد نبی ﷺ اس دنیا سے رخصت ہو گئے، مگر آپ کا یہ خطبہ آج بھی ہر مسلمان کے لیے مشعلِ راہ ہے۔
اخلاقی سبق: سب انسان برابر ہیں؛ عزت اسی کی ہے جو نیک اور پرہیزگار ہو، اور ہمیں قرآن کو تھام کر زندگی گزارنی ہے۔
11. حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ — سچے ساتھی
حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نبی ﷺ کے سب سے قریبی دوست اور ساتھی تھے۔ بچپن سے جوانی تک دونوں کی دوستی مثالی رہی۔ جب نبی ﷺ نے نبوت کا اعلان فرمایا تو مردوں میں سب سے پہلے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے بغیر کسی ہچکچاہٹ کے اسلام قبول کیا۔ اسی لیے آپ کو «صدیق» کا لقب ملا، یعنی سچ کی فوراً تصدیق کرنے والا۔
اسلام قبول کرتے ہی آپ نے اپنی دولت دین کی خدمت میں لگا دی۔ مکہ میں غلاموں کو خرید کر آزاد کرنا آپ کی بڑی نیکی تھی۔ حضرت بلال رضی اللہ عنہ سمیت کئی ستائے ہوئے غلاموں کو آپ نے مال دے کر آزاد کرایا۔ لوگ پوچھتے کہ اتنا مال کیوں خرچ کرتے ہو؟ آپ کہتے کہ میں یہ اللہ کی رضا کے لیے کرتا ہوں۔
ہجرت کی رات آپ نبی ﷺ کے ساتھ تھے۔ غارِ ثور میں تین راتیں آپ نے آپ ﷺ کی خدمت اور حفاظت میں گزاریں۔ سفر کی تیاری میں اپنی سواریاں اور مال پیش کر دیا۔ نبی ﷺ آپ سے اتنی محبت کرتے تھے کہ فرمایا کرتے تھے کہ ابوبکر میرے ساتھی ہیں۔
نبی ﷺ کی وفات کے بعد جب مسلمان غم سے بے حال تھے تو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے بڑے حوصلے سے سب کو سنبھالا۔ آپ پہلے خلیفہ بنے۔ بعض قبیلوں نے زکاۃ دینے سے انکار کیا تو آپ نے حق پر ڈٹ کر امت کو بکھرنے سے بچا لیا۔ سادگی آپ کی پہچان تھی؛ خلافت کے باوجود پرانے کپڑے پہنتے اور بازار میں خود چل کر کام کرتے۔
دو سال چند مہینے خلافت کر کے آپ وفات پا گئے اور نبی ﷺ کے پہلو میں دفن ہوئے۔ آج بھی دنیا آپ کو سچائی، وفاداری اور قربانی کی سب سے روشن مثال مانتی ہے۔
اخلاقی سبق: سچا دوست وہی ہوتا ہے جو مشکل وقت میں ساتھ کھڑا ہو؛ دوست کے لیے قربانی دینا سب سے بڑی وفاداری ہے۔
12. حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ — انصاف کی مثال
حضرت عمر رضی اللہ عنہ اسلام لانے سے پہلے مسلمانوں کے سخت مخالف تھے، مگر جب اللہ نے ان کے دل میں ایمان کی روشنی ڈالی تو وہ اسلام کی سب سے مضبوط ڈھال بن گئے۔ آپ کے مسلمان ہونے سے مسلمانوں کو کھلے عام عبادت کی ہمت ملی۔ نبی ﷺ نے آپ کو «فاروق» کا لقب دیا، یعنی حق اور باطل کو الگ الگ کر دینے والا۔
حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے بعد آپ دوسرے خلیفہ بنے۔ آپ کے دور میں اسلام دور دور تک پھیلا اور انصاف کا ایسا نظام قائم ہوا جس کی مثال دنیا دیتی ہے۔ آپ کا اصول تھا کہ قانون کے سامنے امیر غریب، بڑا چھوٹا سب برابر ہیں۔
ایک واقعہ بہت مشہور ہے۔ آپ راتوں کو مدینہ کی گلیوں میں گشت کرتے تاکہ دیکھ سکیں کہ کوئی بھوکا یا پریشان تو نہیں۔ ایک رات آپ نے دیکھا کہ ایک عورت بچوں کو بہلانے کے لیے ہانڈی میں پانی ابال رہی ہے، کیونکہ گھر میں کھانا نہیں تھا اور بچے بھوک سے رو رہے تھے۔ خلیفہ وقت خود اپنے کندھے پر آٹے کی بوری اٹھا کر لائے، آگ جلائی، کھانا پکایا اور بچوں کو اپنے سامنے کھلایا۔ پھر جب تک بچے ہنسنے نہ لگے، آپ وہیں بیٹھے رہے۔
آپ اپنے گورنروں پر بھی سختی سے نظر رکھتے۔ اگر کسی حاکم کے خلاف رعایا کی شکایت آتی تو فوراً انصاف کرتے، چاہے وہ کتنا بڑا عہدے دار کیوں نہ ہو۔ بیت المال کا ایک پیسہ بھی اپنے ذاتی کام پر خرچ کرنا آپ کے نزدیک حرام تھا۔ ایک رات سرکاری کام کرتے ہوئے سرکاری تیل کا چراغ جلایا اور جب اپنا ذاتی کام آیا تو وہ چراغ بجھا کر اپنا چراغ جلایا۔
ایسی دیانت اور انصاف کی وجہ سے آپ کا رعب ظالموں کے دلوں میں بیٹھا رہتا تھا اور مظلوم آپ کے دور میں چین کی نیند سوتے تھے۔
اخلاقی سبق: انصاف سب کے لیے برابر ہونا چاہیے؛ بڑا انسان وہ ہے جو کمزوروں کا خیال رکھے اور امانت میں خیانت نہ کرے۔
13. حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ — کنواں خرید کر وقف کر دیا
حضرت عثمان رضی اللہ عنہ مکہ کے مال دار مگر نہایت نرم دل اور شرمیلے انسان تھے۔ آپ نے اسلام کی ابتدائی دنوں میں ہی حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی دعوت پر اسلام قبول کر لیا۔ نبی ﷺ نے آپ کو «غنی» کہا، اور امت آپ کو آپ کی سخاوت کی وجہ سے اسی لقب سے یاد کرتی ہے۔
جب مسلمان ہجرت کر کے مدینہ آئے تو وہاں پینے کے میٹھے پانی کی بہت کمی تھی۔ شہر میں ایک ہی کنواں تھا جس کا پانی میٹھا تھا، اسے بیرِ رومہ کہتے تھے۔ اس کا مالک ایک یہودی تھا جو پانی پیسے لے کر بیچتا تھا۔ غریب مسلمانوں کے لیے روزانہ پانی خریدنا بہت مشکل تھا۔
جب نبی ﷺ کو اس تکلیف کا علم ہوا تو آپ نے مسلمانوں کو ترغیب دی کہ جو اس کنویں کو خرید کر سب کے لیے وقف کر دے گا، اس کے لیے جنت کی خوش خبری ہے۔ یہ سنتے ہی حضرت عثمان رضی اللہ عنہ آگے بڑھے۔ آپ نے کنویں کے مالک سے بات کی۔ مالک نے بھاری قیمت مانگی، مگر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے اپنی جیب سے بڑی رقم ادا کر کے کنواں خرید لیا۔
خریدنے کے بعد آپ نے نہ اس پر اپنا نام لکھوایا اور نہ پانی بیچا۔ آپ نے اعلان کر دیا کہ یہ کنواں آج سے سب کے لیے وقف ہے؛ امیر ہو یا غریب، مسلم ہو یا غیر مسلم، ہر کوئی یہاں سے مفت پانی بھر سکتا ہے۔ یہاں تک کہ آپ خود بھی اسی کنویں سے اسی طرح پانی بھرتے تھے جیسے عام لوگ۔
یہ کنواں سینکڑوں سال تک لوگوں کو پانی پلاتا رہا۔ صرف یہی نہیں، جب بھی مسلمانوں کو مال کی ضرورت پڑی، چاہے جنگ کی تیاری ہو یا قحط کا زمانہ، حضرت عثمان رضی اللہ عنہ ہمیشہ سب سے آگے ہوتے۔ تبوک کی تیاری کے موقع پر آپ نے اتنا مال دیا کہ نبی ﷺ خوش ہو کر دعائیں دینے لگے۔
اخلاقی سبق: اپنی دولت سے دوسروں کی ضرورت پوری کرنا سب سے بڑی نیکی ہے؛ سخی انسان کا مال کم نہیں ہوتا، لوگوں کی دعائیں اس کی دولت بن جاتی ہیں۔
14. حضرت علی کرم اللہ وجہہ — علم اور بہادری
حضرت علی رضی اللہ عنہ نبی ﷺ کے چچا زاد بھائی تھے اور بچپن ہی سے آپ ﷺ کے گھر میں پرورش پائی۔ جب وحی کا آغاز ہوا تو بچوں میں سب سے پہلے حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اسلام قبول کیا۔ اس وقت آپ کی عمر صرف دس برس کے لگ بھگ تھی، مگر عقل اور سمجھ میں آپ بڑوں سے آگے تھے۔
ہجرت کی رات جب دشمن آپ ﷺ کے گھر کے گرد کھڑے تھے، حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اپنی جان کی پروا کیے بغیر آپ کے بستر پر لیٹنے کی ذمہ داری قبول کی، تاکہ لوگوں کی امانتیں صبح واپس کی جا سکیں۔ آپ جانتے تھے کہ دشمن آ سکتا ہے، مگر آپ پوری رات سکون سے سوئے۔
جوان ہو کر آپ اسلام کے سب سے بہادر سپاہی بنے۔ غزوہ خیبر میں جب قلعے کا بھاری دروازہ کسی سے نہ کھلا اور کئی دن محاصرہ جاری رہا تو نبی ﷺ نے علم حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ہاتھ میں دیا۔ آپ آگے بڑھے، اللہ کی مدد سے مرحب جیسے بڑے پہلوان کو شکست دی اور قلعہ فتح ہو گیا۔ آپ کی تلوار ذوالفقار کا نام آج بھی بہادری کی علامت ہے۔
مگر حضرت علی رضی اللہ عنہ کی اصل عظمت صرف بہادری نہیں، علم بھی تھا۔ بچپن سے نبی ﷺ کے ساتھ رہنے کی وجہ سے آپ نے قرآن اور دین کا گہرا علم حاصل کیا۔ لوگ مشکل مسائل میں آپ کے پاس آتے اور آپ کی عقلمندانہ باتوں سے مسئلہ حل ہو جاتا۔ آپ فرمایا کرتے تھے کہ مجھ سے پوچھو، اس سے پہلے کہ میں تم میں نہ رہوں۔
آپ چوتھے خلیفہ بنے۔ آپ کی زندگی سادگی، عدل اور علم کی روشن مثال ہے۔ بچو! حضرت علی رضی اللہ عنہ ہمیں سکھاتے ہیں کہ اصل بہادری تلوار میں نہیں، علم، انصاف اور حق پر ڈٹ جانے میں ہے۔
اخلاقی سبق: علم اور بہادری دونوں ساتھ ہوں تو انسان کامل بنتا ہے؛ بہادری صرف لڑنے کا نام نہیں، حق پر ڈٹ جانے کا نام ہے۔
15. حضرت بلال حبشی رضی اللہ عنہ — صبر اور اذان
حضرت بلال رضی اللہ عنہ حبشہ سے آئے ہوئے ایک غلام تھے۔ مکہ میں آپ کے مالک امیہ بن خلف آپ سے سخت کام لیتا تھا۔ جب حضرت بلال رضی اللہ عنہ کے دل میں اسلام کی روشنی آئی تو آپ نے اپنے مالک کے سامنے بھی سچائی کا اعلان کر دیا کہ میرا رب صرف ایک اللہ ہے۔
یہ سن کر ظالم مالک آگ بگولا ہو گیا۔ وہ آپ کو تپتی ریت پر لٹا کر سینے پر بھاری پتھر رکھ دیتا اور کہتا کہ اسلام چھوڑ دو۔ گرمی سے ریت جلتی رہتی، مگر حضرت بلال رضی اللہ عنہ کی زبان سے صرف ایک ہی بات نکلتی: احد، احد — یعنی اللہ ایک ہے۔ نہ آپ نے ایمان چھوڑا اور نہ صبر کا دامن ہاتھ سے جانے دیا۔
آخر حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے بڑی رقم دے کر آپ کو خریدا اور آزاد کر دیا۔ آزادی کے بعد آپ نبی ﷺ کے قریبی ساتھیوں میں شامل ہو گئے اور ہجرت کر کے مدینہ آ گئے۔
مدینہ میں جب مسجدِ نبوی بنی اور اذان کا طریقہ مقرر ہوا تو نبی ﷺ نے مؤذن کے لیے حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو چنا۔ آپ کی آواز بلند، خوش الحان اور دل کو چھونے والی تھی۔ جب آپ اذان دیتے تو مدینہ کی گلیوں میں ہر طرف سے لوگ مسجد کی طرف دوڑتے۔ فتح مکہ کے دن خانہ کعبہ کی چھت پر چڑھ کر اذان دینے کی عزت بھی آپ کو ملی۔
نبی ﷺ کی وفات کے بعد آپ کے لیے مدینہ میں اذان دینا مشکل ہو گیا، کیونکہ ہر اذان پر محبوب ﷺ کی یاد آتی تھی۔ آپ کی زندگی اس بات کی زندہ مثال ہے کہ رنگ، نسل اور غلامی یا آزادی سے انسان بڑا نہیں بنتا؛ بڑائی ایمان، صبر اور استقامت سے ملتی ہے۔
اخلاقی سبق: سچائی پر ڈٹے رہو چاہے کتنی ہی تکلیف آئے؛ صبر اور ثابت قدمی رکھنے والوں کو اللہ عزت عطا فرماتا ہے۔
16. حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا — سب سے پہلے ایمان لانے والی
حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا مکہ کی معزز اور مال دار خاتون تھیں۔ آپ کی عقل، دیانت اور نیک نامی کی وجہ سے لوگ آپ کو «طاہرہ» یعنی پاکیزہ کہتے تھے۔ آپ کا تجارتی کاروبار بڑا تھا اور آپ اپنے سامان کے لیے قابلِ بھروسا آدمی تلاش کرتی رہتی تھیں۔
جب آپ نے حضرت محمد ﷺ کی سچائی اور امانت داری کی شہرت سنی تو اپنا قافلہ آپ کے سپرد کر کے شام بھیجا۔ آپ ﷺ نے ایمان داری سے خوب منافع کمایا۔ اس کے بعد حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا نے آپ ﷺ سے نکاح کی پیش کش کی اور دونوں کی شادی ہو گئی۔ یہ زندگی بھر کی محبت اور وفا کا رشتہ تھا۔
جب غارِ حرا میں پہلی وحی نازل ہوئی اور نبی ﷺ گھبراہٹ کے عالم میں گھر آئے تو حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا پہلی شخصیت تھیں جنہوں نے آپ کو تسلی دی۔ انہوں نے کہا کہ آپ رشتے داروں کا خیال رکھتے ہیں، سچ بولتے ہیں، مسکینوں کا بوجھ اٹھاتے ہیں، اس لیے اللہ آپ کو کبھی تنہا نہیں چھوڑے گا۔ اسی دن انہوں نے سب سے پہلے اسلام قبول کیا۔ یہ عزت ہمیشہ کے لیے آپ کے حصے میں آئی۔
مصیبت کے سالوں میں حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا نے اپنی ساری دولت اسلام کی خدمت میں لگا دی۔ جب مکہ والوں نے مسلمانوں کا بائیکاٹ کیا اور وہ پہاڑی گھاٹی میں محصور رہے تو آپ بھی عمر میں بڑی ہونے کے باوجود ان کے ساتھ بھوک اور تکلیف برداشت کرتی رہیں۔
آپ کی وفات پر نبی ﷺ کو اتنا غم ہوا کہ وہ سال «عام الحزن» یعنی غم کا سال کہلایا۔ نبی ﷺ زندگی بھر آپ کی محبت اور قربانی کو یاد کرتے رہے اور آپ کی سہیلیوں کے ساتھ بھی آپ کی خاطر حسنِ سلوک کرتے رہے۔
اخلاقی سبق: مشکل وقت میں اپنے پیاروں کا حوصلہ بڑھانا اور ان کا ساتھ دینا سب سے بڑی محبت ہے۔
17. حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا — نبی ﷺ کی لاڈلی بیٹی
حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا نبی ﷺ اور حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کی سب سے چھوٹی اور سب سے لاڈلی بیٹی تھیں۔ بچپن ہی سے آپ کی طبیعت میں نرمی، شرم و حیا اور بڑوں کی خدمت کا جذبہ تھا۔ نبی ﷺ آپ سے اتنی محبت کرتے تھے کہ جب آپ تشریف لاتیں تو آپ ﷺ کھڑے ہو کر استقبال کرتے، پیشانی پر بوسہ دیتے اور اپنی جگہ بٹھاتے۔
چھوٹی عمر میں آپ نے ماں کے ساتھ سختیاں برداشت کیں۔ بائیکاٹ کے دنوں کی بھوک اور مکہ والوں کے ظلم آپ نے اپنی آنکھوں سے دیکھے۔ ایک بار کسی ظالم نے نماز پڑھتے ہوئے نبی ﷺ کی پشت پر گندگی ڈال دی تو ننھی فاطمہ رضی اللہ عنہا روتے ہوئے آئیں اور اپنے ہاتھوں سے صاف کیا۔ باپ کو تکلیف میں دیکھنا آپ کے لیے سب سے بڑا دکھ تھا۔
آپ کا نکاح حضرت علی رضی اللہ عنہ سے ہوا۔ گھر سادہ تھا؛ چکی پیسنی، پانی بھرنا اور گھر کے سارے کام آپ خود کرتیں۔ ایک بار کام کی تھکن سے آپ نے نبی ﷺ سے ایک خادمہ مانگی تو آپ ﷺ نے آپ کو ایک بہتر تحفہ دیا: سونے سے پہلے اللہ کی تسبیح پڑھنے کا طریقہ سکھایا اور فرمایا کہ یہ خادم سے بہتر ہے۔ آپ نے شکر کے ساتھ یہ سبق قبول کر لیا۔
حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کے بیٹے حضرت حسن اور حضرت حسین رضی اللہ عنہما تھے، جن سے نبی ﷺ بے پناہ محبت کرتے تھے۔ آپ کی زندگی سادگی، قناعت اور والدین کی خدمت کی اعلیٰ مثال ہے۔
نبی ﷺ کی وفات کے تقریباً چھ مہینے بعد آپ اس دنیا سے رخصت ہوئیں۔ نبی ﷺ آپ کو اپنے جگر کا ٹکڑا فرمایا کرتے تھے، اور دنیا آج بھی آپ کو عورتوں کے لیے عظمت و پاکیزگی کی روشن مثال مانتی ہے۔
اخلاقی سبق: سادگی اور قناعت میں اصل سکون ہے؛ والدین کی خدمت اور ان کا احترام جنت کا راستہ ہے۔
18. حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ — اسلام قبول کرنے کا واقعہ
حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ نبی ﷺ کے چچا تھے اور عمر میں آپ ﷺ کے قریب تھے۔ آپ مکہ کے مشہور پہلوان اور شکاری تھے۔ بہادری میں کوئی آپ کا مقابلہ نہ کر سکتا تھا۔ آپ شکار کے بہت شوقین تھے اور روزانہ شہر سے باہر جایا کرتے تھے۔
ان دنوں نبی ﷺ مکہ میں اسلام کی دعوت دے رہے تھے۔ ایک دن ابوجہل نے خانہ کعبہ کے پاس نبی ﷺ کو سخت برا بھلا کہا اور اذیت دی۔ نبی ﷺ نے صبر کیا اور اسے جواب نہ دیا۔ ایک کنیز نے یہ سارا منظر دیکھا۔
شام کو حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ شکار سے واپس آئے تو کنیز نے سارا واقعہ سنایا اور کہا کہ آپ کے بھتیجے کے ساتھ یہ سلوک ہوا اور آپ چپ رہے؟ رشتے کی غیرت اور اپنے بھتیجے کی محبت میں حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ غصے سے بھر کر اٹھے۔ آپ سیدھا کعبہ پہنچے جہاں ابوجہل بیٹھا تھا۔ آپ نے اس کے سامنے کھڑے ہو کر فرمایا کہ تم میرے بھتیجے کو ستاتے ہو؟ سن لو، میں بھی اسی دین پر ہوں جس پر وہ ہیں۔
یہ اعلان مکہ میں بجلی کی طرح گرا۔ حضرت حمزہ جیسے بہادر کا مسلمان ہونا اسلام کے لیے بڑی تقویت تھی۔ اس دن کے بعد کسی کی ہمت نہ ہوتی کہ نبی ﷺ کو کھلے عام ستائے۔
اسلام لانے کے بعد آپ نے اپنی بہادری کو اللہ کے راستے میں لگا دیا۔ غزوہ بدر میں آپ نے نمایاں بہادری دکھائی۔ غزوہ احد میں آپ لڑتے ہوئے شہید ہو گئے۔ نبی ﷺ کو آپ کی شہادت کا شدید غم ہوا اور آپ نے حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کو «سید الشہداء» یعنی شہیدوں کے سردار کا لقب دیا۔
اخلاقی سبق: اپنی طاقت اور بہادری کو کمزوروں کی حفاظت اور حق کی حمایت میں استعمال کرو، یہی اصل پہلوانی ہے۔
19. نبی ﷺ کی بچوں سے محبت — حسن و حسین رضی اللہ عنہما
نبی ﷺ بچوں سے بہت محبت کرتے تھے۔ آپ کے نواسے حضرت حسن اور حضرت حسین رضی اللہ عنہما آپ کو جان سے پیارے تھے۔ آپ انہیں اکثر اپنے کندھوں پر بٹھاتے، گود میں لیتے اور پیار سے چومتے۔ آپ ﷺ فرمایا کرتے تھے کہ یہ دونوں میرے دنیا کے دو پھول ہیں۔
ایک بار نبی ﷺ خطبہ دے رہے تھے کہ ننھے حسن اور حسین رضی اللہ عنہما لڑکھڑاتے ہوئے مسجد میں آئے۔ نبی ﷺ خطبہ روک کر منبر سے اترے، دونوں کو اٹھا کر اپنے پاس بٹھایا اور پھر خطبہ جاری رکھا۔ لوگ حیران بھی ہوئے اور آپ کی شفقت دیکھ کر خوش بھی۔
ایک اور خوب صورت واقعہ بہت مشہور ہے۔ نبی ﷺ نماز میں سجدے میں تھے کہ ننھے حسن یا حسین رضی اللہ عنہما آپ کی پشت پر چڑھ گئے۔ نبی ﷺ نے سجدہ اتنا لمبا کر دیا کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم فکر مند ہوئے۔ نماز کے بعد آپ ﷺ نے فرمایا کہ میرا بیٹا میری پشت پر سوار تھا، میں نے جلدی اٹھنا مناسب نہ سمجھا کہ اس کا کھیل ادھورا رہ جائے۔
ایک دیہاتی نے آپ ﷺ کو بچوں کو پیار کرتے دیکھا تو حیرت سے کہا کہ ہم تو بچوں کو چومتے نہیں۔ نبی ﷺ نے فرمایا کہ اگر اللہ کسی کے دل سے رحم نکال دے تو میں کیا کر سکتا ہوں؛ جو دوسروں پر رحم نہیں کرتا، اس پر بھی رحم نہیں کیا جاتا۔
آپ صرف اپنے نواسوں سے ہی نہیں، سب بچوں سے یہی سلوک کرتے تھے۔ گلی میں بچے کھیلتے ملتے تو سلام کرتے، یتیم بچوں کے سر پر ہاتھ پھیرتے اور جو بچہ کوئی پھل یا چھوٹی سی چیز تحفے میں دیتا تو اسے خوشی سے قبول کرتے۔ یہی وجہ تھی کہ مدینہ کے بچے آپ ﷺ کے ارد گرد یوں جمع ہوتے جیسے پروانے چراغ کے گرد ہوتے ہیں۔
اخلاقی سبق: بچوں سے پیار اور نرمی کرنا سنت ہے؛ جو چھوٹوں پر رحم کرتا ہے، بڑے اس کا احترام کرتے ہیں۔
20. پڑوسی کا حق — نبی ﷺ کی عیادت کی کہانی
مدینہ میں نبی ﷺ کے پاس ایک یہودی خاندان رہتا تھا۔ اس خاندان کا ایک لڑکا آپ ﷺ کی خدمت بھی کیا کرتا تھا۔ نبی ﷺ ہمیشہ اپنے پڑوسیوں کے ساتھ حسنِ سلوک فرماتے، چاہے ان کا مذہب کوئی بھی ہو۔
ایک دن وہ لڑکا بیمار پڑ گیا۔ نبی ﷺ کو اس کی بیماری کی خبر ملی تو آپ فوراً اس کی عیادت کے لیے اس کے گھر تشریف لے گئے۔ بیمار کے سرہانے بیٹھنا اور حال پوچھنا آپ کی عادت تھی، چاہے بیمار کوئی بھی ہو۔ پڑوسی کے گھر والوں کے لیے یہ بات حیران کن بھی تھی اور دل کو چھونے والی بھی کہ اتنی بڑی شخصیت ان کے بیمار بچے کا حال پوچھنے آئی ہے۔
نبی ﷺ نے ہمیشہ پڑوسی کے حق کی بہت تاکید فرمائی۔ آپ کا فرمان ہے کہ حضرت جبرئیل علیہ السلام مجھے پڑوسی کے بارے میں اتنی تاکید کرتے رہے کہ مجھے گمان ہوا کہ پڑوسی کو وارث بنا دیا جائے گا۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ وہ شخص کامل مومن نہیں جس کے شر سے اس کا پڑوسی محفوظ نہ ہو۔
آپ خود کھانا پکاتے تو پڑوسی کا حصہ یاد رکھتے اور صحابہ کو بھی ترغیب دیتے کہ جب شوربہ پکاؤ تو اس میں پانی زیادہ رکھو تاکہ پڑوسی کو بھی بھیج سکو۔ کسی پڑوسی کو بھوکا رکھ کر خود پیٹ بھر کر سونا آپ ﷺ کو پسند نہ تھا۔
بچو! ہمارا پڑوسی ہماری خوشی غمی کا سب سے قریب ساتھی ہوتا ہے۔ اس کی مدد کرنا، بیمار ہو تو عیادت کرنا اور اسے تنگ نہ کرنا ہر اچھے انسان کی پہچان ہے۔
اخلاقی سبق: پڑوسی کا حق ادا کرو، اس کی بیماری میں عیادت اور مشکل میں مدد کرو؛ یہی نبی ﷺ کی سیرت ہے۔
