منگل, 13 اکتوبر 2026
منگل, 13 اکتوبر 2026|
تازہ ترین
ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر ایک اور حملہ، پاکستانی شہری جاں بحق، 11 افراد زخمی، ایئرپورٹ کی بندش میں پیر کی رات تک توسیع• اسلام آباد سے کنٹینرز ہٹانے کا کام شروع، تین ہفتوں سے زائد عرصے سے بند سڑکیں کھلنے لگیں، وفاقی وزیر طارق فضل چوہدری نے کہا معمولات زندگی بحال ہوں گے• خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج پشاور ہائی کورٹ میں چیلنج، درخواست میں اقدام غیر آئینی قرار دے کر کالعدم کرنے اور نوٹیفکیشن معطل کرنے کی استدعا• پاکستان نے افغان طالبان کو خبردار کر دیا، اسحاق ڈار نے کہا افغان سرزمین سے دہشت گردوں کے خلاف کارروائی نہ ہوئی تو کابل کو خود نتائج بھگتنا ہوں گے، ستمبر میں 12 سال میں سب سے زیادہ دہشت گرد حملے ہوئے• پاکستان کا اگلے مالی سال تک بی پلس کریڈٹ ریٹنگ کا ہدف، وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا عالمی منڈیوں میں واپسی ہو گئی، 3 ارب ڈالر کے یورو بانڈز پر دوگنا پیشکشیں ملیں• گورنر راج کے بعد خیبر پختونخوا اپیکس کمیٹی کا پہلا اجلاس، گورنر فیصل کریم کنڈی اور وزیر داخلہ محسن نقوی کی مشترکہ صدارت، دہشت گردی کے خلاف مربوط اور فیصلہ کن کارروائی کا حکم• کوئٹہ کے قریب پاک فوج کا مشاق تربیتی طیارہ تکنیکی خرابی کے باعث گر کر تباہ، انسٹرکٹر پائلٹ میجر حسنین شہزاد ہمایوں اور زیر تربیت پائلٹ کیپٹن عبدالصمد شہید• خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج: آئینی علاج یا وفاق کی حد سے تجاوز؟ آرٹیکل 232 اور 234 کا امتحان، پارلیمنٹ کی منظوری اور آنے والے دنوں کا تفصیلی تجزیہ•

انبیاء کرام کی کہانیاں — بچوں کے لیے

بچوں کے لیے انبیاء کرام علیہم السلام کی 20 اسلامی کہانیاں — سادہ زبان میں، ہر کہانی کے آخر میں اخلاقی سبق۔

1. حضرت آدم علیہ السلام — پہلے انسان

بہت پرانی بات ہے۔ اللہ تعالیٰ نے سب سے پہلا انسان حضرت آدم علیہ السلام کو پیدا کیا۔ وہ زمین پر آنے والے پہلے انسان تھے، اسی لیے ہم سب ان کی اولاد ہیں اور انہیں انسانیت کا باپ بھی کہا جاتا ہے۔

اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کو جنت میں رکھا۔ جنت بہت خوبصورت جگہ تھی۔ وہاں ہر طرح کے مزے دار پھل، صاف پانی کی نہریں اور سکون ہی سکون تھا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے حضرت حوا کو بھی پیدا کیا تاکہ وہ اکیلے نہ رہیں۔ دونوں جنت میں خوش و خرم رہنے لگے۔

اللہ تعالیٰ نے ان سے فرمایا کہ جنت میں جو چاہو کھاؤ پیو، بس ایک خاص درخت کے قریب نہ جانا اور اس کا پھل نہ کھانا۔ یہ ایک چھوٹا سا امتحان تھا۔

لیکن شیطان انسان کا پرانا دشمن ہے۔ وہ طرح طرح کے بہکاوے دے کر حضرت آدم اور حضرت حوا کو اس درخت کا پھل کھانے پر آمادہ کرنے لگا۔ آخر کار دونوں نے اس درخت کا پھل کھا لیا اور اللہ کی بتائی ہوئی حد سے آگے بڑھ گئے۔

جیسے ہی انہیں اپنی غلطی کا احساس ہوا، دونوں بہت شرمندہ ہوئے۔ انہوں نے رو رو کر اللہ تعالیٰ سے معافی مانگی۔ اللہ تعالیٰ بہت مہربان ہے، اس نے ان کی توبہ قبول فرمائی اور انہیں معاف کر دیا۔

پھر اللہ تعالیٰ نے انہیں زمین پر بھیج دیا تاکہ وہ یہاں زندگی گزاریں، نیکی کریں اور اپنی اولاد کو اچھی باتیں سکھائیں۔ اسی طرح زمین پر انسانوں کی زندگی کا آغاز ہوا۔ حضرت آدم علیہ السلام زمین پر بھی اللہ کی عبادت کرتے رہے اور اپنے بچوں کو سچائی، نیکی اور اللہ کی فرمانبرداری کی تعلیم دیتے رہے۔

اس کہانی سے ہمیں یہ سمجھ آتا ہے کہ غلطی ہر انسان سے ہو سکتی ہے، لیکن اچھا انسان وہی ہے جو غلطی پر شرمندہ ہو، سچے دل سے معافی مانگے اور آئندہ وہ غلطی نہ دہرائے۔

اخلاقی سبق: غلطی ہو جائے تو چھپانے کے بجائے فوراً معافی مانگو، اللہ معاف کرنے والا ہے۔

2. حضرت نوح علیہ السلام — بڑی کشتی

حضرت نوح علیہ السلام اللہ کے ایک نیک پیغمبر تھے۔ ان کے زمانے میں لوگ برے کاموں میں لگ گئے تھے۔ وہ اللہ کو چھوڑ کر بتوں کی پوجا کرتے اور ایک دوسرے پر ظلم کرتے تھے۔

حضرت نوح علیہ السلام نے بہت لمبے عرصے تک لوگوں کو سمجھایا۔ وہ دن رات انہیں کہتے کہ اللہ ایک ہے، اسی کی عبادت کرو اور برے کام چھوڑ دو۔ مگر زیادہ تر لوگ ان کی بات نہ مانتے، بلکہ ان کا مذاق اڑاتے اور انہیں تنگ کرتے۔ صرف چند نیک لوگ ہی ان پر ایمان لائے۔

پھر اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح علیہ السلام کو حکم دیا کہ ایک بہت بڑی کشتی بناؤ، کیونکہ برے لوگوں کی سزا کے طور پر بڑا سیلاب آنے والا ہے۔ لوگ خشک زمین پر کشتی بنتی دیکھ کر ہنستے تھے کہ یہاں پانی کہاں سے آئے گا؟ مگر حضرت نوح علیہ السلام اللہ کے حکم پر ڈٹے رہے اور کشتی بناتے رہے۔

جب کشتی تیار ہو گئی تو اللہ کے حکم سے ہر جانور کا ایک ایک جوڑا کشتی میں سوار کیا گیا۔ حضرت نوح علیہ السلام کے گھر والے اور ایمان والے لوگ بھی کشتی میں سوار ہو گئے۔

پھر آسمان سے موسلا دھار بارش شروع ہوئی اور زمین سے بھی پانی ابلنے لگا۔ دیکھتے ہی دیکھتے ہر طرف پانی ہی پانی ہو گیا، پہاڑ تک ڈوب گئے۔ مگر کشتی اللہ کی حفاظت میں پانی پر تیرتی رہی اور اس میں سوار سب لوگ محفوظ رہے۔

کچھ عرصے بعد بارش رک گئی، پانی اترنے لگا اور کشتی ایک پہاڑ پر جا کر ٹھہر گئی۔ سب لوگ سلامتی سے اترے اور نئی زندگی کا آغاز ہوا۔

اخلاقی سبق: اللہ کی بات ماننے والے ہمیشہ محفوظ رہتے ہیں، چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں۔

3. حضرت ابراہیم علیہ السلام — بت توڑنے والے

حضرت ابراہیم علیہ السلام بچپن سے ہی بہت سمجھدار اور سچے دل کے مالک تھے۔ ان کے شہر کے لوگ پتھر کے بتوں کی پوجا کرتے تھے۔ وہ ان بتوں کے سامنے کھانا رکھتے اور ان سے مدد مانگتے تھے۔

نوجوان ابراہیم سوچتے تھے کہ یہ بت تو خود بنائے گئے ہیں، نہ بول سکتے ہیں، نہ سن سکتے ہیں، نہ کھا سکتے ہیں۔ یہ مدد کیا کریں گے؟ انہوں نے سورج، چاند اور ستاروں کو بھی دیکھا، مگر وہ سب ڈوب جاتے تھے۔ تب انہوں نے سمجھ لیا کہ میرا رب وہی ہے جس نے یہ سب بنایا ہے، جو ہمیشہ رہنے والا ہے۔

انہوں نے لوگوں کو پیار سے سمجھایا کہ ان بے جان بتوں کی پوجا چھوڑ دو، صرف ایک اللہ کی عبادت کرو۔ لیکن لوگ ناراض ہو گئے اور ان کی بات ماننے سے انکار کر دیا۔

ایک دن شہر کے لوگ کسی میلے کے لیے باہر گئے ہوئے تھے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام بت خانے میں گئے اور سارے چھوٹے بت توڑ دیے، صرف سب سے بڑا بت باقی چھوڑ دیا اور کلہاڑا اس کے کندھے پر رکھ دیا۔

جب لوگ واپس آئے تو بت ٹوٹے دیکھ کر غصے میں آ گئے۔ انہوں نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو بلایا اور پوچھا کہ یہ کس نے کیا؟ انہوں نے جواب دیا کہ بڑے بت سے پوچھ لو، کلہاڑا تو اسی کے پاس ہے۔

لوگ شرمندہ ہو گئے۔ وہ خود کہنے لگے کہ بت تو بول ہی نہیں سکتے۔ اس طرح سب کے سامنے واضح ہو گیا کہ بت کسی کام کے نہیں۔ مگر پھر بھی ظالم لوگوں نے ماننے کے بجائے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو آگ میں ڈالنے کا فیصلہ کیا۔ بڑی سی آگ جلائی گئی اور انہیں اس میں ڈال دیا گیا۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے آگ کو حکم دیا کہ ابراہیم کے لیے ٹھنڈی اور سلامتی والی بن جا۔ چنانچہ آگ نے انہیں ذرا سا بھی نقصان نہ پہنچایا اور وہ بالکل سلامت باہر آ گئے۔ یہ دیکھ کر بہت سے لوگ حیران رہ گئے۔

اخلاقی سبق: سچائی کا ساتھ دو، چاہے سارا شہر مخالف ہو؛ اللہ سچوں کی حفاظت کرتا ہے۔

4. حضرت ابراہیم و اسماعیل علیہما السلام — قربانی کا امتحان

حضرت ابراہیم علیہ السلام کو بڑھاپے میں اللہ تعالیٰ نے ایک پیارا سا بیٹا عطا فرمایا، جس کا نام اسماعیل رکھا گیا۔ وہ اپنے بیٹے سے بہت محبت کرتے تھے۔

جب حضرت اسماعیل علیہ السلام کچھ بڑے ہوئے تو حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ایک خواب دیکھا کہ وہ اپنے بیٹے کو اللہ کی راہ میں قربان کر رہے ہیں۔ پیغمبروں کے خواب سچے ہوتے ہیں، یہ اللہ کی طرف سے ایک بڑا امتحان تھا۔

حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے بیٹے سے محبت بھرے انداز میں کہا کہ بیٹا، میں نے خواب میں دیکھا ہے کہ میں تمہیں قربان کر رہا ہوں، تمہاری کیا رائے ہے؟ حضرت اسماعیل علیہ السلام کتنے فرمانبردار بیٹے تھے! انہوں نے کہا کہ ابا جان، آپ کو جو حکم ملا ہے وہ پورا کیجیے، ان شاء اللہ آپ مجھے صبر کرنے والوں میں پائیں گے۔

جب باپ بیٹے دونوں اللہ کے حکم کے آگے جھک گئے اور قربانی کا وقت آیا تو اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت سے حضرت اسماعیل علیہ السلام کی جگہ ایک دنبہ بھیج دیا اور وہ قربان ہو گیا۔ حضرت اسماعیل علیہ السلام بالکل سلامت رہے۔

اللہ تعالیٰ کو باپ بیٹے کی یہ فرمانبرداری اتنی پسند آئی کہ قیامت تک کے لیے اس یاد کو زندہ کر دیا۔ اسی یاد میں مسلمان ہر سال عید الاضحیٰ پر جانور قربان کرتے ہیں۔

اسی زمانے میں اللہ کے حکم سے حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل علیہما السلام نے مل کر مکہ میں اللہ کا گھر، خانہ کعبہ، تعمیر کیا اور دعا کی کہ اللہ اس جگہ کو امن اور برکت والا بنا دے۔

اخلاقی سبق: اللہ کی فرمانبرداری سب سے بڑی خوبی ہے، اور فرمانبرداروں کو اللہ کبھی مایوس نہیں کرتا۔

5. حضرت ہاجرہ رضی اللہ عنہا — زمزم کا چشمہ

حضرت ہاجرہ رضی اللہ عنہا حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اہلیہ اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کی والدہ تھیں۔ اللہ کے حکم سے حضرت ابراہیم علیہ السلام انہیں اور ننھے اسماعیل کو مکہ کی وادی میں چھوڑ کر چلے گئے۔ اس زمانے میں وہاں نہ پانی تھا، نہ کوئی آدمی، بس خشک پہاڑ اور ریت تھی۔

حضرت ہاجرہ رضی اللہ عنہا نے صبر کیا اور اللہ پر بھروسا رکھا۔ جب ساتھ لایا ہوا پانی ختم ہو گیا تو ننھا اسماعیل پیاس سے بے چین ہونے لگا۔ ماں کا دل تڑپ اٹھا۔ وہ پانی کی تلاش میں قریبی پہاڑی صفا پر چڑھیں، چاروں طرف دیکھا مگر پانی کہیں نظر نہ آیا۔ پھر وہ دوسری پہاڑی مروہ پر گئیں، وہاں بھی پانی نہ ملا۔ وہ بچے کی فکر میں دونوں پہاڑیوں کے درمیان سات بار آئیں گئیں، کبھی چلتیں کبھی دوڑتیں۔

اللہ تعالیٰ کو ماں کی یہ محنت اور بھروسا بہت پسند آیا۔ ادھر ننھے اسماعیل کے قریب زمین سے پانی کا چشمہ پھوٹ پڑا۔ حضرت ہاجرہ واپس آئیں تو پانی دیکھ کر خوشی سے بے قابو ہو گئیں۔ انہوں نے پانی کے گرد مٹی کا بند باندھا تاکہ پانی رک جائے۔ یہی مشہور چشمہ آبِ زمزم ہے، جو ہزاروں سال گزرنے کے بعد بھی آج تک جاری ہے اور دنیا بھر کے مسلمان اسے برکت والا پانی سمجھ کر پیتے ہیں۔

اسی پانی کی وجہ سے آہستہ آہستہ لوگ وہاں آ کر بسنے لگے اور مکہ کا شہر آباد ہوا۔

حضرت ہاجرہ رضی اللہ عنہا کی یاد میں آج بھی حاجی صفا اور مروہ کے درمیان سات چکر لگاتے ہیں، جسے سعی کہا جاتا ہے۔

اخلاقی سبق: مشکل میں صبر کرو اور اللہ پر بھروسا رکھو؛ اللہ محنت کرنے والوں کی مدد ضرور کرتا ہے۔

6. حضرت یوسف علیہ السلام — کنویں سے محل تک

حضرت یوسف علیہ السلام حضرت یعقوب علیہ السلام کے بیٹے تھے۔ وہ بچپن سے بہت خوبصورت، نیک اور سمجھدار تھے۔ ان کے والد ان سے خاص محبت کرتے تھے۔

ایک صبح ننھے یوسف نے اپنے والد کو اپنا خواب سنایا کہ میں نے دیکھا، گیارہ ستارے، سورج اور چاند مجھے سجدہ کر رہے ہیں۔ حضرت یعقوب علیہ السلام سمجھ گئے کہ اللہ ان کے بیٹے کو بڑا مقام دے گا۔ انہوں نے کہا کہ یہ خواب اپنے بھائیوں کو نہ سنانا۔

مگر بھائیوں کو حسد ہو گیا کہ والد ہم سے زیادہ یوسف سے محبت کرتے ہیں۔ انہوں نے ایک برا منصوبہ بنایا۔ وہ یوسف کو کھیلنے کے بہانے ساتھ لے گئے اور انہیں ایک گہرے کنویں میں ڈال دیا۔ پھر گھر آ کر جھوٹ بولا کہ یوسف کو بھیڑیا کھا گیا۔ حضرت یعقوب علیہ السلام بہت روئے مگر صبر کیا۔

ادھر ایک مسافر قافلہ کنویں کے پاس سے گزرا۔ انہوں نے پانی کے لیے ڈول ڈالا تو حضرت یوسف علیہ السلام اس کے ساتھ باہر آ گئے۔ قافلے والے انہیں مصر لے گئے اور وہاں انہیں ایک بڑے سردار کے گھر دے دیا گیا۔

حضرت یوسف علیہ السلام جہاں بھی رہے، ایمانداری اور نیکی سے رہے۔ اللہ نے انہیں خوابوں کی تعبیر بتانے کا علم دیا۔ ایک بار مصر کے بادشاہ نے عجیب خواب دیکھا، جس کی درست تعبیر حضرت یوسف علیہ السلام نے بتائی کہ پہلے سات سال خوشحالی ہو گی، پھر سات سال قحط پڑے گا۔ بادشاہ ان کی سمجھداری سے بہت خوش ہوا اور انہیں خزانے اور اناج کا بڑا ذمہ دار بنا دیا۔

قحط کے زمانے میں ان کے بھائی بھی اناج لینے مصر آئے۔ حضرت یوسف علیہ السلام نے انہیں پہچان لیا، مگر غصہ کرنے کے بجائے انہیں معاف کر دیا اور عزت سے رکھا۔ پھر پورا خاندان مصر آ گیا اور برسوں کی جدائی کے بعد سب دوبارہ مل گئے۔ والد کا دیکھا ہوا سچا خواب اس طرح پورا ہوا۔

اخلاقی سبق: حسد بہت بری چیز ہے؛ اور جو اللہ پر بھروسا رکھے، اللہ اسے ذلت سے نکال کر عزت دیتا ہے۔

7. حضرت یونس علیہ السلام — مچھلی کے پیٹ میں دعا

حضرت یونس علیہ السلام اللہ کے پیغمبر تھے۔ انہیں ایک شہر کے لوگوں کی طرف بھیجا گیا تھا تاکہ وہ انہیں اللہ کی عبادت اور نیکی کی طرف بلائیں۔

حضرت یونس علیہ السلام نے بہت عرصے لوگوں کو سمجھایا، مگر لوگ ان کی بات ماننے کو تیار نہ ہوئے۔ آخر وہ ناراض ہو کر شہر چھوڑ کر چلے گئے، حالانکہ اللہ کی طرف سے چھوڑنے کی اجازت ابھی نہیں ملی تھی۔

وہ ایک کشتی میں سوار ہوئے۔ سمندر میں سخت طوفان آیا اور کشتی ڈوبنے کے قریب ہو گئی۔ جہاز والوں نے بوجھ ہلکا کرنے کے لیے قرعہ ڈالا تو قرعہ حضرت یونس علیہ السلام کے نام کا نکلا اور انہیں سمندر میں اترنا پڑا۔

سمندر میں ایک بہت بڑی مچھلی نے اللہ کے حکم سے انہیں نگل لیا، مگر انہیں کوئی نقصان نہ پہنچا۔ مچھلی کے پیٹ کے اندھیرے میں حضرت یونس علیہ السلام کو اپنی جلدی کا احساس ہوا۔ انہوں نے دل کی گہرائی سے اللہ سے دعا کی اور اپنی کوتاہی کی معافی مانگی۔ وہ بار بار یہی پکارتے رہے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ پاک ہے، اور میں ہی خطا کرنے والوں میں سے ہوں۔

اللہ تعالیٰ نے ان کی دعا قبول فرمائی۔ مچھلی نے انہیں ساحل پر اگل دیا اور وہ سلامت باہر آ گئے۔ کچھ آرام کے بعد وہ دوبارہ اسی شہر کی طرف گئے۔ اس بار شہر کے لوگوں نے توبہ کر لی تھی اور ایمان لے آئے تھے۔ یوں پورا شہر ہدایت پا گیا۔

اخلاقی سبق: جب غلطی ہو جائے یا مشکل آ جائے تو اللہ سے سچے دل سے دعا کرو، وہ ہر اندھیرے سے نکالنے والا ہے۔

8. حضرت موسیٰ علیہ السلام — دریا میں ٹوکری

بہت پرانے زمانے میں مصر میں ایک ظالم بادشاہ فرعون حکومت کرتا تھا۔ وہ اپنے آپ کو بہت بڑا سمجھتا تھا اور لوگوں پر سخت ظلم کرتا تھا۔ اس نے حکم دیا تھا کہ بنی اسرائیل کے ہاں پیدا ہونے والے بیٹوں کو زندہ نہ چھوڑا جائے۔

اسی زمانے میں ایک نیک خاتون کے ہاں پیارا سا بچہ پیدا ہوا، جس کا نام موسیٰ رکھا گیا۔ ماں کو بڑی فکر تھی کہ فرعون کے سپاہی بچے کو نقصان نہ پہنچا دیں۔

اللہ تعالیٰ نے ماں کے دل میں ایک تدبیر ڈال دی۔ انہوں نے ایک مضبوط ٹوکری بنائی، اس میں ننھے موسیٰ کو لٹایا اور ٹوکری دریا میں بہا دی۔ بچے کی بہن دور دور سے ٹوکری کو دیکھتی رہی کہ یہ کہاں جاتی ہے۔

اللہ کی قدرت دیکھیں، ٹوکری بہتی ہوئی فرعون کے محل کے پاس جا پہنچی۔ فرعون کی نیک بیوی نے بچے کو دیکھا تو ان کا دل پگھل گیا۔ انہوں نے فرعون سے کہا کہ اس بچے کو نہ مارو، یہ ہماری آنکھوں کی ٹھنڈک بنے گا۔ یوں ننھا موسیٰ اسی محل میں رہنے لگا جس کے بادشاہ سے اس کی جان کو خطرہ تھا۔

ادھر ماں کا دل بے چین تھا۔ اللہ نے بچے کو کسی دایہ کا دودھ پینے نہ دیا۔ تب بچے کی بہن ہوشیاری سے محل پہنچی اور کہا کہ میں ایک ایسی خاتون کو جانتی ہوں جو اس بچے کو دودھ پلا سکے گی۔ وہ خاتون خود موسیٰ کی اپنی ماں تھیں۔ اس طرح اللہ نے بچے کو ماں کی گود میں واپس پہنچا دیا اور ماں کا دل ٹھنڈا ہو گیا۔

حضرت موسیٰ علیہ السلام جوان ہوئے تو اللہ تعالیٰ نے انہیں اپنا پیغمبر بنایا اور بڑے بڑے کارنامے ان کے ہاتھوں انجام پائے۔

اخلاقی سبق: اللہ جس کی حفاظت کرنا چاہے، اسے کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتا؛ ماں کی دعا اور اللہ پر بھروسا سب سے بڑی طاقت ہے۔

9. حضرت موسیٰ علیہ السلام — دریا پھٹ گیا

حضرت موسیٰ علیہ السلام بڑے ہو کر اللہ کے پیغمبر بنے۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں فرعون کے پاس بھیجا کہ وہ بنی اسرائیل کو غلامی سے آزاد کرے اور ظلم بند کرے۔ فرعون بڑا مغرور تھا، اس نے بات ماننے سے انکار کر دیا اور اپنی طاقت پر گھمنڈ کرتا رہا۔

آخر اللہ کے حکم سے ایک رات حضرت موسیٰ علیہ السلام بنی اسرائیل کو لے کر مصر سے نکل پڑے۔ جب فرعون کو پتہ چلا تو وہ اپنا بڑا لشکر لے کر ان کے پیچھے دوڑا۔

صبح کے وقت بنی اسرائیل سمندر کے کنارے پہنچے تو پیچھے سے فرعون کا لشکر دکھائی دینے لگا۔ آگے گہرا سمندر تھا اور پیچھے دشمن۔ لوگ گھبرا گئے اور کہنے لگے کہ اب ہم پکڑے گئے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے پُر سکون انداز میں کہا کہ ہرگز نہیں، میرا رب میرے ساتھ ہے، وہ ضرور راستہ دکھائے گا۔

اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ اپنی لاٹھی سمندر پر مارو۔ جیسے ہی لاٹھی لگی، سمندر کا پانی دو حصوں میں بٹ گیا اور بیچ میں خشک راستہ بن گیا۔ پانی دونوں طرف پہاڑوں کی طرح کھڑا ہو گیا۔

بنی اسرائیل اس راستے سے سلامتی کے ساتھ پار ہو گئے۔ فرعون بھی گھمنڈ میں لشکر سمیت اسی راستے میں اتر پڑا۔ جب وہ بیچ سمندر میں پہنچا تو اللہ کے حکم سے پانی دوبارہ مل گیا اور فرعون اپنے لشکر سمیت ڈوب گیا۔

اس دن بنی اسرائیل کو ظالم سے ہمیشہ کے لیے نجات مل گئی۔ یہ واقعہ ہمیں بتاتا ہے کہ جب کوئی اللہ پر پورا بھروسا کرے تو اللہ وہاں سے راستہ نکالتا ہے جہاں راستہ نظر ہی نہ آتا ہو۔

اخلاقی سبق: مشکل میں گھبرانے کے بجائے اللہ پر بھروسا رکھو؛ وہ ناممکن جگہ سے بھی راستہ نکال دیتا ہے۔

10. حضرت ایوب علیہ السلام — صبر کی مثال

حضرت ایوب علیہ السلام اللہ کے بہت نیک پیغمبر تھے۔ اللہ نے انہیں مال، اولاد اور صحت، ہر نعمت سے نوازا تھا۔ وہ شکر گزار بندے تھے، غریبوں کی مدد کرتے اور ہمیشہ اللہ کی عبادت میں لگے رہتے۔

پھر اللہ تعالیٰ نے ان کا امتحان لیا۔ ایک ایک کر کے ان کا مال ختم ہو گیا، اولاد بھی نہ رہی، اور وہ سخت بیماری میں مبتلا ہو گئے۔ بیماری اتنی لمبی ہوئی کہ برسوں گزر گئے۔ قریب کے لوگ بھی دور ہو گئے، مگر ان کی نیک بیوی ان کی خدمت میں لگی رہیں۔

اتنی مشکلات کے باوجود حضرت ایوب علیہ السلام کی زبان سے کبھی شکایت کا ایک لفظ نہ نکلا۔ وہ ہر حال میں صبر کرتے اور اللہ کا ذکر کرتے رہے۔ ان کا یقین تھا کہ جس اللہ نے نعمتیں دیں، وہی مشکل بھی دور کرے گا۔

ایک دن انہوں نے اللہ سے عاجزی سے دعا کی کہ اے میرے رب، مجھے تکلیف نے آ لیا ہے اور تو سب رحم کرنے والوں سے بڑھ کر رحم کرنے والا ہے۔

اللہ تعالیٰ نے ان کی دعا قبول فرمائی۔ اللہ کے حکم سے انہوں نے زمین پر پاؤں مارا تو ٹھنڈے پانی کا چشمہ نکل آیا۔ اس پانی سے نہانے اور پینے سے ان کی بیماری ختم ہو گئی اور صحت واپس آ گئی۔ پھر اللہ تعالیٰ نے انہیں پہلے سے بڑھ کر نعمتیں عطا فرمائیں، مال بھی ملا اور اولاد بھی۔

حضرت ایوب علیہ السلام کا صبر آج تک مشہور ہے۔ اسی لیے جب کوئی بہت صبر کرے تو لوگ اسے صبرِ ایوب کی مثال دیتے ہیں۔

اخلاقی سبق: بیماری اور مشکل میں صبر کرو اور اللہ سے امید نہ چھوڑو؛ صبر کا پھل ہمیشہ میٹھا ہوتا ہے۔

11. حضرت داؤد علیہ السلام — جالوت پر فتح

حضرت داؤد علیہ السلام جوانی میں ایک بہادر نوجوان تھے۔ ان کے زمانے میں بنی اسرائیل پر ایک ظالم بادشاہ جالوت نے بہت ظلم کر رکھا تھا۔ جالوت بہت بڑے قد کاٹھ کا طاقتور آدمی تھا، اسے دیکھ کر بڑے بڑے پہلوان بھی ڈر جاتے تھے۔

ایک بار دونوں لشکر آمنے سامنے آئے۔ جالوت آگے بڑھ کر للکارنے لگا کہ ہے کوئی جو میرے مقابلے میں آئے؟ اس کی گرجدار آواز سن کر سب سہم گئے۔ کوئی آگے بڑھنے کی ہمت نہ کر سکا۔

تب نوجوان داؤد آگے بڑھے۔ وہ نہ بڑے پہلوان تھے، نہ ان کے پاس بڑی تلوار یا زرہ تھی۔ ان کے پاس صرف اپنی غلیل اور چند ہموار پتھر تھے، مگر ان کے دل میں اللہ پر پورا بھروسا تھا۔

لوگ حیران تھے کہ یہ نوجوان اتنے بڑے دیو جیسے آدمی سے کیسے لڑے گا؟ حضرت داؤد علیہ السلام نے اللہ کا نام لیا، غلیل میں پتھر رکھا اور پوری قوت سے چلایا۔ پتھر جا کر جالوت کے ماتھے پر لگا اور وہ گر پڑا۔ اس طرح اللہ کی مدد سے ظالم کا خاتمہ ہو گیا اور مظلوموں کو فتح ملی۔

اس واقعے کے بعد لوگ حضرت داؤد علیہ السلام کی بہت عزت کرنے لگے۔ آگے چل کر اللہ تعالیٰ نے انہیں بادشاہت بھی دی اور نبوت بھی عطا فرمائی۔ وہ بہت انصاف پسند بادشاہ ہوئے۔ اللہ نے انہیں خوبصورت آواز بھی دی تھی؛ جب وہ زبور کی تلاوت کرتے تو پہاڑ اور پرندے بھی ان کے ساتھ اللہ کی تسبیح کرنے لگتے۔

اللہ نے انہیں ایک اور کمال بھی دیا تھا۔ ان کے ہاتھ میں لوہا نرم ہو جاتا تھا اور وہ اس سے مضبوط زرہیں بناتے تھے۔

اخلاقی سبق: طاقت جسم کی نہیں، ایمان اور بھروسے کی ہوتی ہے؛ اللہ پر یقین رکھنے والا کمزور بھی بڑے ظالم کو ہرا سکتا ہے۔

12. حضرت سلیمان علیہ السلام — چیونٹی کی بات

حضرت سلیمان علیہ السلام حضرت داؤد علیہ السلام کے بیٹے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں بہت بڑی بادشاہت اور خاص علم عطا فرمایا تھا۔ انہیں پرندوں اور جانوروں کی بولیاں سمجھنے کی صلاحیت بھی ملی تھی۔ ہوا بھی ان کے حکم کے تابع تھی اور وہ دور دور تک سفر کیا کرتے تھے۔

ایک دن حضرت سلیمان علیہ السلام اپنے بڑے لشکر کے ساتھ کہیں جا رہے تھے۔ راستے میں ایک وادی آئی جہاں بہت سی چیونٹیاں رہتی تھیں۔ ایک چیونٹی نے اپنے ساتھیوں کو آواز دی کہ اے چیونٹیو، جلدی اپنے اپنے بلوں میں گھس جاؤ، کہیں ایسا نہ ہو کہ سلیمان اور ان کا لشکر بے خبری میں تمہیں کچل ڈالے۔

حضرت سلیمان علیہ السلام نے چیونٹی کی یہ بات سن لی۔ آپ مسکرائے اور اللہ کا شکر ادا کیا کہ اس نے انہیں اتنی بڑی نعمتیں دی ہیں۔

جس بادشاہ کے پاس اتنی طاقت ہو، وہ چاہتا تو چیونٹی کی پروا نہ کرتا۔ مگر حضرت سلیمان علیہ السلام نے اپنے لشکر کو احتیاط سے گزرنے دیا تاکہ کسی ننھی جان کو نقصان نہ پہنچے۔

سوچو بچو، اتنا بڑا بادشاہ اور ایک چھوٹی سی چیونٹی کی بھی فکر! یہی سچے بڑے لوگوں کی پہچان ہوتی ہے کہ وہ چھوٹوں پر بھی رحم کرتے ہیں۔

اللہ تعالیٰ کو حضرت سلیمان علیہ السلام کا یہ شکر اور نرمی بہت پسند تھی۔ انہوں نے ہمیشہ اپنی طاقت اللہ کی رضا اور مخلوق کی بھلائی کے لیے استعمال کی، کبھی گھمنڈ نہیں کیا۔ بچو، ہمیں بھی راستے میں آنے والی چیونٹیوں اور دیگر چھوٹے جانوروں کا خیال رکھنا چاہیے، کیونکہ ہر جاندار اللہ کی مخلوق ہے۔

اخلاقی سبق: بڑا بننے کا مطلب ہے چھوٹوں پر رحم کرنا؛ نعمت ملے تو گھمنڈ نہیں، شکر کرو۔

13. حضرت سلیمان علیہ السلام و ملکہ سبا

یمن کے علاقے میں ایک بڑی سلطنت تھی جس کی ملکہ بڑی سمجھدار اور عقل مند تھی۔ اس کی قوم سورج کی پوجا کرتی تھی۔

حضرت سلیمان علیہ السلام کے پاس ایک خاص پرندہ تھا، ہدہد، جو دور دور کی خبریں لے کر آتا تھا۔ ایک دن ہدہد نے آ کر بتایا کہ میں ایک ایسی سلطنت دیکھ کر آیا ہوں جہاں کی ملکہ کے پاس بہت بڑا تخت ہے، مگر وہ اور اس کی قوم اللہ کو چھوڑ کر سورج کو سجدہ کرتی ہے۔

حضرت سلیمان علیہ السلام نے ملکہ کے نام ایک خط لکھا جس میں انہیں ایک اللہ کی عبادت کی دعوت دی۔ خط ہدہد کے ذریعے ملکہ تک پہنچا دیا گیا۔

ملکہ نے اپنے سرداروں سے مشورہ کیا۔ وہ سمجھدار تھی، لڑائی کے بجائے اس نے حضرت سلیمان علیہ السلام کے لیے قیمتی تحفے بھیجے تاکہ ان کے ارادے کو جانچ سکے۔ حضرت سلیمان علیہ السلام نے تحفے قبول کرنے سے انکار کر دیا اور کہا کہ اللہ نے مجھے اس سے کہیں زیادہ دیا ہے، میں تمہیں اللہ کی طرف بلاتا ہوں۔

پھر ملکہ خود ملاقات کے لیے حضرت سلیمان علیہ السلام کے دربار میں آئی۔ وہاں اس نے اللہ کی قدرت کے ایسے نمونے دیکھے کہ حیران رہ گئی۔ محل کا شیشے کا فرش دیکھ کر وہ سمجھی کہ پانی ہے، حالانکہ وہ صاف شفاف شیشہ تھا۔

آخر ملکہ نے دل سے مان لیا کہ اللہ ہی سچا رب ہے۔ اس نے سورج کی پوجا چھوڑ دی اور حضرت سلیمان علیہ السلام کے ساتھ اللہ کی عبادت قبول کر لی۔

یوں عقل مند ملکہ نے جنگ اور لڑائی کے بغیر سچائی کو پہچان لیا اور اس کی پوری قوم کو فائدہ ہوا۔

اخلاقی سبق: سچ بات سامنے آئے تو ضد چھوڑ کر مان لینا ہی عقل مندی ہے۔

14. اصحابِ کہف — غار والے نوجوان

بہت پرانی بات ہے۔ ایک شہر میں ظالم بادشاہ کی حکومت تھی جو لوگوں کو بتوں کی پوجا پر مجبور کرتا تھا۔ جو انکار کرتا، اسے سخت سزا دی جاتی تھی۔

اسی شہر میں چند نیک نوجوان رہتے تھے۔ وہ دل سے مانتے تھے کہ اللہ ایک ہے اور بت کسی کام کے نہیں۔ مگر شہر کے ماحول میں اپنے ایمان پر قائم رہنا بہت مشکل ہو گیا تھا۔

ایک دن ان نوجوانوں نے آپس میں مشورہ کیا کہ ہم ظالم بادشاہ اور بت پرستی کو چھوڑ کر کسی ایسی جگہ چلتے ہیں جہاں سکون سے اللہ کی عبادت کر سکیں۔ وہ شہر سے نکلے اور پہاڑوں میں ایک غار میں جا کر ٹھہرے۔ ان کے ساتھ ان کا وفادار کتا بھی تھا۔

اللہ تعالیٰ نے ان کے ایمان کی حفاظت یوں فرمائی کہ انہیں غار میں گہری نیند سلا دیا۔ وہ سوتے رہے، سوتے رہے۔ ایک سال، دو سال نہیں، بلکہ تین سو سال سے بھی زیادہ عرصہ گزر گیا! سورج نکلتا تو غار میں ان تک دھوپ نہ پہنچتی، اور اللہ کی قدرت سے ان کے جسم بھی خراب نہ ہوئے۔ کتا غار کے منہ پر بیٹھا رہا۔

جب وہ جاگے تو انہیں لگا جیسے بس ایک دن یا اس سے بھی کم سویا ہوگا۔ پیٹ میں بھوک لگی تو ایک ساتھی کو چاندی کا سکہ دے کر شہر بھیجا کہ اچھا سا کھانا لے آئے اور احتیاط سے کام لے۔

جب وہ شہر پہنچا تو سب کچھ بدل چکا تھا۔ لوگ، عمارتیں، بازار سب نئے تھے۔ پرانا سکہ دیکھ کر دکاندار حیران رہ گیا اور بات بادشاہ تک جا پہنچی۔ تب سب کو معلوم ہوا کہ یہ وہی نوجوان ہیں جو صدیوں پہلے ایمان بچانے کے لیے غار میں چھپے تھے۔ اس زمانے کا بادشاہ نیک تھا اور لوگ اللہ پر ایمان رکھتے تھے۔

اس واقعے سے سب نے سیکھا کہ اللہ اپنے نیک بندوں کی حفاظت خود کرتا ہے۔

اخلاقی سبق: ایمان بچانے کے لیے بری صحبت چھوڑ دینا بہتر ہے؛ اللہ اپنے مخلص بندوں کی خود حفاظت کرتا ہے۔

15. اصحابِ فیل — ہاتھیوں کا لشکر

مکہ مکرمہ میں اللہ کا گھر خانہ کعبہ موجود ہے، جس کی طرف رخ کر کے دنیا بھر کے مسلمان نماز پڑھتے ہیں۔ بہت پہلے یمن کا ایک بادشاہ ابرہہ اسے گرانے کے ارادے سے مکہ کی طرف بڑھا۔ اس کے پاس بہت بڑا لشکر تھا جس کے آگے آگے بڑے بڑے ہاتھی تھے۔ اسی لیے اس واقعے کو ہاتھیوں والا واقعہ کہا جاتا ہے۔

ابرہہ چاہتا تھا کہ لوگ کعبہ کے بجائے اس کے بنائے ہوئے گرجے کی طرف آئیں۔ اس کے لشکر کی دھاک اتنی تھی کہ راستے کی کوئی قوم اس کا مقابلہ نہ کر سکی۔

جب لشکر مکہ کے قریب پہنچا تو مکہ کے سردار عبدالمطلب، جو ہمارے پیارے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے دادا تھے، ابرہہ کے پاس گئے۔ ابرہہ نے ان کے اونٹ پکڑ لیے تھے۔ عبدالمطلب نے اپنے اونٹ واپس مانگے۔ ابرہہ حیران ہوا کہ میں تمہارے کعبہ کو گرانے آیا ہوں اور تم صرف اونٹوں کی بات کر رہے ہو؟

عبدالمطلب نے جواب دیا کہ اونٹوں کا مالک میں ہوں، اس لیے وہ مانگ رہا ہوں، اور کعبہ کا مالک اللہ ہے، وہ خود اپنے گھر کی حفاظت کرے گا۔

پھر جب لشکر کعبہ کی طرف بڑھنے لگا تو اللہ تعالیٰ نے آسمان سے پرندوں کے جھنڈ بھیجے۔ وہ اپنی چونچوں اور پنجوں میں چھوٹی چھوٹی مٹی کی کنکریاں اٹھائے ہوئے تھے۔ انہوں نے وہ کنکریاں لشکر پر برسائیں۔ اللہ کے حکم سے اتنا بڑا لشکر تباہ ہو گیا اور ابرہہ کا ارادہ خاک میں مل گیا۔

یوں اللہ تعالیٰ نے اپنے گھر کی حفاظت فرمائی۔ یہی وہ مبارک سال ہے جس میں ہمارے پیارے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت ہوئی۔

اخلاقی سبق: جو اللہ کے گھر اور اللہ کے دین کی حفاظت کا ذمہ خود اللہ لے لے، اسے دنیا کی کوئی طاقت نقصان نہیں پہنچا سکتی۔

16. حضرت لقمان کی نصیحتیں

حضرت لقمان ایک بہت دانا اور نیک انسان تھے۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں خاص حکمت یعنی گہری سمجھ عطا فرمائی تھی۔ وہ اپنے بیٹے سے بہت محبت کرتے تھے اور اسے زندگی کی سب سے قیمتی نصیحتیں کیا کرتے تھے۔ یہ نصیحتیں اتنی اچھی ہیں کہ آج بھی ہر بچے کو انہیں یاد رکھنا چاہیے۔

انہوں نے سب سے پہلے کہا کہ میرے پیارے بیٹے، اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرانا۔ اللہ ایک ہے، عبادت صرف اسی کی کرنا، یہ سب سے بڑی سچائی ہے۔

پھر کہا کہ ماں باپ کی عزت اور خدمت کرنا۔ ماں نے بڑی تکلیفوں سے تمہیں پالا ہے، اس لیے ہمیشہ ان کے شکر گزار رہنا اور ان سے نرمی سے بات کرنا۔

انہوں نے سمجھایا کہ اللہ ہر چیز کو دیکھتا ہے۔ اگر تم کوئی اچھا یا برا کام چھپ کر بھی کرو، چاہے وہ رائی کے دانے جتنا چھوٹا ہو اور پتھر کے اندر یا آسمانوں میں ہو، اللہ اسے جانتا ہے۔ اس لیے ہمیشہ نیکی کرو اور برائی سے بچو۔

انہوں نے کہا کہ نماز قائم کرنا، لوگوں کو اچھی باتوں کی طرف بلانا، بری باتوں سے روکنا، اور جو مشکل پیش آئے اس پر صبر کرنا۔ یہ ہمت والوں کے کام ہیں۔

پھر بڑی پیاری نصیحت کی کہ لوگوں سے تکبر سے منہ نہ پھیرو اور زمین پر اکڑ کر نہ چلو، کیونکہ اللہ غرور کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔ اپنی چال میں درمیانی راہ رکھو، یعنی نہ بہت آہستہ، نہ مغروروں کی طرح اکڑ کر۔

اور آخری نصیحت یہ کہ اپنی آواز کو نرم رکھو، اونچی اور سخت آواز سب سے بری لگتی ہے۔ پیار سے اور نرمی سے بات کرنا ہی اچھے انسان کی پہچان ہے۔

اخلاقی سبق: اللہ کی عبادت، والدین کی خدمت، نماز اور نرمی — یہ چار باتیں زندگی سنوار دیتی ہیں۔

17. حضرت زکریا و یحییٰ علیہما السلام

حضرت زکریا علیہ السلام اللہ کے نیک پیغمبر تھے۔ وہ عبادت گاہ کی خدمت کرتے تھے اور لوگوں کو اللہ کی طرف بلاتے تھے۔ انہی کی نگرانی میں حضرت مریم علیہا السلام کی پرورش ہوئی۔

حضرت زکریا علیہ السلام بوڑھے ہو چکے تھے اور ان کی کوئی اولاد نہیں تھی۔ ان کے دل میں بڑی خواہش تھی کہ اللہ انہیں ایک نیک بیٹا عطا کرے جو ان کے بعد لوگوں کو اللہ کی طرف بلائے۔

ایک دن انہوں نے تنہائی میں اپنے رب کو نرمی سے پکارا اور دعا کی کہ اے میرے رب، میں بوڑھا ہو گیا ہوں، میرے بال سفید ہو گئے ہیں، مگر میں تجھ سے دعا کر کے کبھی مایوس نہیں ہوا۔ مجھے اپنی طرف سے ایک نیک وارث عطا فرما۔

اللہ تعالیٰ نے ان کی دعا قبول فرمائی اور خوشخبری دی کہ آپ کو ایک بیٹا ملے گا جس کا نام یحییٰ ہوگا۔ حضرت زکریا علیہ السلام حیران ہوئے کہ اتنے بڑھاپے میں بیٹا کیسے ہوگا؟ فرمایا گیا کہ اللہ کے لیے یہ آسان ہے، وہ جو چاہے کر سکتا ہے۔

پھر حضرت یحییٰ علیہ السلام پیدا ہوئے۔ وہ بچپن سے ہی بہت نیک، سمجھدار اور عبادت گزار تھے۔ اللہ نے انہیں بچپن میں ہی خاص سمجھ اور علم عطا فرما دیا تھا۔ وہ اپنے والدین کے بہت فرمانبردار، نرم دل اور سب کے ساتھ اچھا برتاؤ کرنے والے تھے۔ انہیں مظلوموں اور ضرورت مندوں کا بہت خیال رہتا تھا۔

حضرت یحییٰ علیہ السلام بڑے ہو کر اللہ کے پیغمبر بنے اور لوگوں کو نیکی، سچائی اور توبہ کی طرف بلاتے رہے۔ انہوں نے ہمیشہ حق کی بات کہی، چاہے سامنے کتنا ہی طاقتور آدمی کیوں نہ ہو۔

اخلاقی سبق: اللہ سے دعا کبھی چھوڑنی نہیں چاہیے؛ وہ بوڑھے حضرت زکریا کو بھی بیٹا دے سکتا ہے تو ہماری دعائیں بھی ضرور سنتا ہے۔

18. حضرت مریم علیہا السلام — پاکیزہ خاتون

حضرت مریم علیہا السلام دنیا کی سب سے نیک اور پاکیزہ خواتین میں سے ایک تھیں۔ ان کی والدہ نے ان کے پیدا ہونے سے پہلے ہی اللہ سے وعدہ کیا تھا کہ وہ اپنے بچے کو اللہ کی عبادت اور خدمت کے لیے وقف کریں گی۔

جب حضرت مریم پیدا ہوئیں تو ان کی پرورش کی ذمہ داری اللہ نے حضرت زکریا علیہ السلام کو دی۔ وہ عبادت گاہ میں رہتیں، دن رات اللہ کی عبادت کرتیں اور بہت پاک صاف زندگی گزارتی تھیں۔

حضرت زکریا علیہ السلام اکثر دیکھتے کہ حضرت مریم کے پاس ایسے پھل موجود ہیں جو اس موسم کے نہیں ہوتے تھے۔ وہ حیران ہو کر پوچھتے کہ مریم، یہ تمہارے پاس کہاں سے آیا؟ وہ جواب دیتیں کہ یہ اللہ کی طرف سے ہے، اللہ جسے چاہتا ہے بے حساب روزی دیتا ہے۔

اللہ تعالیٰ نے حضرت مریم علیہا السلام کو ایک بڑی خوشخبری کے لیے چن لیا۔ انہیں بتایا گیا کہ اللہ انہیں ایک بیٹا عطا کرے گا جس کا نام عیسیٰ ہوگا، وہ دنیا اور آخرت میں عزت والا ہوگا اور اللہ کا خاص پیغمبر ہوگا۔

حضرت مریم علیہا السلام ساری زندگی پاکیزگی، عبادت اور صبر کی مثال رہیں۔ انہوں نے ہر مشکل میں اللہ پر بھروسا رکھا اور کبھی اللہ کی نافرمانی نہ کی۔

مسلمان حضرت مریم علیہا السلام کی بہت عزت کرتے ہیں۔ قرآن مجید میں پوری ایک سورت ان کے نام سے ہے، جسے سورہ مریم کہا جاتا ہے۔ یہ اس بات کی نشانی ہے کہ اللہ تعالیٰ نیک اور پاکیزہ زندگی گزارنے والوں کو کتنی عزت دیتا ہے۔

اخلاقی سبق: پاکیزہ اور نیک زندگی گزارنے والوں کو اللہ دنیا و آخرت میں عزت دیتا ہے۔

19. حضرت عیسیٰ علیہ السلام — ولادت اور معجزے

حضرت عیسیٰ علیہ السلام اللہ کے عظیم پیغمبر تھے اور حضرت مریم علیہا السلام کے بیٹے تھے۔ ان کی ولادت اللہ کی قدرت کا بڑا نشان تھی۔ وہ بغیر باپ کے پیدا ہوئے، جیسے اللہ نے حضرت آدم علیہ السلام کو بغیر ماں باپ کے پیدا کیا تھا۔ اللہ کے لیے کوئی کام مشکل نہیں۔

جب حضرت مریم علیہا السلام ننھے عیسیٰ کو لے کر اپنے لوگوں کے پاس آئیں تو لوگ حیران ہوئے اور طرح طرح کی باتیں کرنے لگے۔ تب اللہ کے حکم سے گود کے بچے حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے بات کی اور کہا کہ میں اللہ کا بندہ ہوں، اس نے مجھے کتاب دی ہے اور مجھے پیغمبر بنایا ہے، اور جب تک میں زندہ ہوں نماز اور زکوٰۃ کی پابندی کا حکم دیا ہے۔ بچے کی یہ بات سن کر سب دنگ رہ گئے۔

حضرت عیسیٰ علیہ السلام بڑے ہوئے تو انہوں نے لوگوں کو ایک اللہ کی عبادت اور نیکی کی تعلیم دی۔ اللہ نے انہیں انجیل نام کی کتاب عطا فرمائی۔

اللہ کے حکم سے وہ بڑے بڑے معجزے دکھاتے تھے۔ وہ مٹی سے پرندے کی شکل بناتے اور اس میں پھونک مارتے تو اللہ کے حکم سے وہ زندہ پرندہ بن کر اڑ جاتا۔ وہ پیدائشی اندھے اور کوڑھ کے مریض کو اللہ کے حکم سے اچھا کر دیتے، اور اللہ کے حکم سے مردوں کو بھی زندہ کر دیتے تھے۔ یہ سب معجزے ان کی اپنی طاقت سے نہیں، اللہ کی دی ہوئی قدرت سے ہوتے تھے۔

ان کے کچھ نیک ساتھی بھی تھے جو ان کے مددگار بنے۔ مگر کچھ لوگوں نے ضد کی اور انہیں ماننے سے انکار کر دیا۔ آخر اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو ان کے دشمنوں سے بچا کر اپنے پاس اٹھا لیا۔ مسلمان مانتے ہیں کہ وہ قیامت کے قریب دوبارہ دنیا میں آئیں گے۔

اخلاقی سبق: تمام معجزے اللہ کی قدرت سے ہوتے ہیں؛ ہمیں ہمیشہ اللہ ہی پر بھروسا کرنا چاہیے۔

20. حضرت اسماعیل علیہ السلام — مکہ کی آبادی

حضرت اسماعیل علیہ السلام حضرت ابراہیم علیہ السلام کے بڑے بیٹے تھے۔ ان کی بچپن کی زندگی مکہ کی وادی میں گزری، جہاں اللہ نے ان کی والدہ حضرت ہاجرہ رضی اللہ عنہا کے لیے زمزم کا چشمہ جاری فرمایا تھا۔ اسی پانی کی برکت سے وہ ویران وادی آہستہ آہستہ آباد ہونے لگی۔

دور دراز سے مسافر قافلے پانی دیکھ کر وہاں رکتے اور کچھ لوگ وہیں بس گئے۔ یوں مکہ کا شہر بننے لگا۔ ننھے اسماعیل اسی ماحول میں پروان چڑھے۔ انہوں نے یہاں کے عرب قبیلوں سے عربی زبان سیکھی اور تیر اندازی میں بڑی مہارت حاصل کی۔ وہ سچے، نرم دل اور والدین کے بہت فرمانبردار تھے۔

حضرت ابراہیم علیہ السلام وقتاً فوقتاً مکہ آتے اور بیٹے سے ملتے۔ جب اللہ تعالیٰ نے خانہ کعبہ کی تعمیر کا حکم دیا تو باپ بیٹے نے مل کر یہ عظیم کام کیا۔ حضرت اسماعیل علیہ السلام پتھر لا لا کر اپنے والد کو دیتے اور حضرت ابراہیم علیہ السلام دیواریں کھڑی کرتے۔ دونوں دعا کرتے رہے کہ اے ہمارے رب، ہماری یہ خدمت قبول فرما۔

آگے چل کر اللہ تعالیٰ نے حضرت اسماعیل علیہ السلام کو بھی اپنا پیغمبر بنایا۔ انہوں نے مکہ اور آس پاس کے لوگوں کو ایک اللہ کی عبادت، نماز اور زکوٰۃ کی تعلیم دی۔ وہ اپنے وعدے کے بہت پکے تھے؛ جس بات کا وعدہ کر لیتے، اسے ضرور پورا کرتے۔ اسی لیے قرآن میں ان کی سچائی اور وعدے کی پابندی کی تعریف کی گئی ہے۔

انہی حضرت اسماعیل علیہ السلام کی نسل سے آگے چل کر ہمارے پیارے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم پیدا ہوئے۔ اس طرح مکہ کی آبادی اور خانہ کعبہ کی خدمت کی بنیاد اس عظیم خاندان کے ہاتھوں پڑی۔

اخلاقی سبق: وعدہ کرو تو ضرور پورا کرو؛ سچائی اور فرمانبرداری انسان کو بڑا مقام دیتی ہے۔