ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر ایک اور حملہ، پاکستانی شہری جاں بحق، 11 افراد زخمی، ایئرپورٹ کی بندش میں پیر کی رات تک توسیع

ریاض: سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر اتوار کو ایک اور حملہ ہوا جس میں ایک پاکستانی شہری جاں بحق اور 11 افراد زخمی ہو گئے۔ سعودی سول ایوی ایشن اتھارٹی کے مطابق زخمیوں کو مختلف اسپتالوں میں منتقل کر دیا گیا ہے، جبکہ حملے سے ہونے والے مالی نقصان کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔
ٹرمینل 4 پر پروجیکٹائل گرا، آگ بھڑک اٹھی
سعودی قیادت والے اتحاد کے مطابق ایک پروجیکٹائل ایئرپورٹ کے ٹرمینل 4 پر گرا جس سے آگ بھڑک اٹھی۔ اتحاد کا کہنا ہے کہ ایئرپورٹ کے قریب ایک کروز میزائل بھی فضا میں تباہ کیا گیا، جبکہ مشرقی صوبے میں ایک ڈرون اور خمیس مشیط کی جانب آنے والا بیلسٹک میزائل بھی روکا گیا۔ دمّام کے ایئرپورٹ پر بھی حملے کی اطلاع ملی ہے۔
ایک روز قبل کا حملہ، 13 افراد جاں بحق ہوئے تھے
یہ تازہ حملہ اس بڑے حملے کے ایک روز بعد ہوا ہے جس کی ذمہ داری یمن کے حوثیوں نے قبول کی تھی اور جس میں 13 افراد جاں بحق اور 300 سے زائد زخمی ہوئے تھے۔ حوثیوں نے گزشتہ 24 گھنٹوں میں متعدد حملوں کا دعویٰ کرتے ہوئے سعودی فضائی اڈوں کو بدستور نشانہ بنانے کی دھمکی دی ہے۔
ایئرپورٹ کی بندش میں توسیع
حملوں کے بعد ایئرپورٹ کی بندش میں مزید 24 گھنٹے کی توسیع کر دی گئی ہے اور اب یہ پیر کی رات تک برقرار رہے گی، جس سے پروازوں کا شیڈول مزید متاثر ہوگا۔ سعودی وزیر توانائی شہزادہ عبدالعزیز بن سلمان نے کہا ہے کہ ان واقعات کا جواب بھی اتنا ہی سنجیدہ ہونا چاہیے، جبکہ پاکستان سمیت کئی ممالک نے سعودی ایئرپورٹس پر حملوں کی مذمت کی ہے۔



