سعودی عرب پر حملہ پاکستان پر حملہ سمجھا جائے گا، وزیر مذہبی امور سردار محمد یوسف کا دوٹوک اعلان، مذہبی جماعتوں کے رہنما بھی مملکت کے ساتھ یکجہتی کے لیے ایک صف میں کھڑے ہو گئے

اسلام آباد: وفاقی وزیر مذہبی امور سردار محمد یوسف نے کہا ہے کہ پاکستان سعودی عرب پر ہونے والے کسی بھی حملے کو اپنے اوپر حملہ سمجھتا ہے، کیونکہ دونوں ملکوں کے درمیان دفاعی معاہدے یہی کہتے ہیں۔ وہ منگل کو نیشنل پریس کلب میں اس پریس کانفرنس کے بعد گفتگو کر رہے تھے جس میں مذہبی جماعتوں کے رہنما اور ارکان پارلیمنٹ مملکت کے ساتھ یکجہتی کے لیے اکٹھے ہوئے تھے۔ حوثی حملوں میں شہری تنصیبات اور عمرہ زائرین کے نشانہ بننے کی انہوں نے سخت مذمت کی اور کہا کہ حرمین شریفین اور حجاز مقدس کی حرمت پر کوئی مسلمان سمجھوتہ نہیں کر سکتا۔
پس منظر: ریاض ایئرپورٹ حملہ اور دفاعی معاہدے
یمن کے حوثی گروہ کی جانب سے سعودی شہری اور تیل تنصیبات پر حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔ سعودی جنرل اتھارٹی آف سول ایوی ایشن کے مطابق اتوار کو ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر حملے میں ایک پاکستانی شہری جاں بحق اور گیارہ افراد زخمی ہوئے تھے۔ وزیر مذہبی امور نے یاد دلایا کہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان گزشتہ برس اسٹریٹجک باہمی دفاعی معاہدہ ہوا تھا اور اگست میں پاکستان، سعودی عرب اور ترکیے کے درمیان مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ بھی طے پایا؛ دونوں سمجھوتوں میں کسی ایک فریق پر حملہ سب پر حملہ تصور ہوتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان نے اس حمایت کا عملی ثبوت بھی دیا ہے اور آئندہ بھی ہر ممکن قدم اٹھایا جاتا رہے گا۔
مذہبی رہنما بھی ایک آواز
پریس کانفرنس میں جمعیت علمائے اسلام کے سیکرٹری جنرل مولانا عبدالغفور حیدری نے کہا کہ سعودی عرب کے معاملے پر حکومت اور عوام ایک صفحے پر ہیں اور مملکت صرف ایک ملک نہیں، مسلمانوں کی دینی وابستگی کا مرکز ہے۔ پاک سعود یکجہتی کونسل کے سرپرست سینیٹر ڈاکٹر حافظ عبدالکریم نے کہا کہ مکہ و مدینہ اور عمرہ و حج کے زائرین تمام مسلمانوں کے لیے سرخ لکیر ہیں۔ جمعیت علمائے پاکستان کے سربراہ شاہ اویس نورانی نے اس سے آگے بڑھ کر تجویز دی کہ مکہ دفاعی معاہدے کو وسعت دے کر حرمین کے تحفظ کے لیے ایک وسیع مشترکہ اسلامی دفاعی ڈھانچہ بنایا جائے۔
سردار یوسف کے مطابق ملکی سیاسی قیادت، مذہبی جماعتیں اور ریاستی ادارے اس موقف پر متفق ہیں کہ مملکت کے امن و سلامتی کے لیے سعودی حکومت کے ہر قدم کی مکمل حمایت کی جائے گی۔ بیانات کی یہ ہم آوازی اسی لیے اہم ہے کہ اس بار نشانہ صرف تنصیبات نہیں بنیں، وہ زائرین بھی زد میں آئے جو عبادت کے لیے گئے تھے۔



