کراچی کے لیے ہواوے کے ساتھ اسمارٹ سٹی پلیٹ فارم کی تجویز، سیلاب کی پیشگی وارننگ کا پائلٹ منصوبہ ایک ضلع سے شروع ہوگا، وزیراعلیٰ سندھ کا ووہان میں مصنوعی ذہانت مرکز کا دورہ

کراچی: دو کروڑ سے زیادہ آبادی والے شہر کو بارش کے پانی، ٹریفک اور کچرے جیسے روزمرہ مسائل سے نمٹنے کے لیے اب ڈیٹا کی مدد لینے کی تجویز سامنے آئی ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے چین کے شہر ووہان میں ہواوے کے ڈیجیٹل اربن گورننس کے عالمی ماڈل مرکز کا دورہ کیا اور کراچی کے لیے ایک اسمارٹ سٹی آپریشنز پلیٹ فارم بنانے میں کمپنی کی شراکت تجویز کی۔ آغاز ایک ضلع سے ہوگا، جہاں سیلاب کی پیشگی وارننگ اور شہری انتظام کا پائلٹ نظام آزمایا جائے گا، پھر دائرہ پورے شہر تک پھیلایا جائے گا۔
پائلٹ میں کیا ہوگا
تجویز کے مطابق یہ نظام بارش اور ممکنہ اربن فلڈنگ کی پیش گوئی وقت سے پہلے دے گا، ایمرجنسی رسپانس کو مربوط کرے گا اور ٹریفک، پانی کی فراہمی اور کچرا اٹھانے جیسے محکموں کی کارکردگی ایک ہی اسکرین پر دکھائے گا۔ وزیراعلیٰ نے واضح کیا کہ سندھ صرف آلات اور سافٹ ویئر خریدنا نہیں چاہتا؛ مطلوبہ شراکت طویل مدتی ہے، جس میں ٹیکنالوجی کی منتقلی، عملے کی تربیت اور مقامی مہارت پیدا کرنا شامل ہو۔ اسی سلسلے میں سندھ کے افسران کے ووہان سٹی آپریشن سینٹر کے مطالعاتی دورے اور ہواوے کا صوبے کی جامعات اور تکنیکی اداروں سے اشتراک بھی تجویز کیا گیا۔ حکام کے مطابق اس ہفتے شنگھائی میں ہونے والی سندھ سرمایہ کاری و تجارت کانفرنس میں ہواوے کے ساتھ مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کا ارادہ ہے۔
مصنوعی ذہانت کی کمپیوٹنگ تک رسائی
وفد نے ووہان آرٹیفیشل انٹیلیجنس کمپیوٹنگ سینٹر بھی دیکھا، جو 2021 سے کام کر رہا ہے اور جس کی کمپیوٹنگ صلاحیت چار سو پیٹا فلاپس تک پہنچ چکی ہے۔ وہاں جامعات، تحقیقی ادارے اور کمپنیاں مشترکہ بنیادی ڈھانچے سے استفادہ کرتی ہیں، یعنی ہر ادارے کو اپنی مہنگی مشینری لگانا نہیں پڑتی۔ مراد علی شاہ نے سندھ کی جامعات اور محققین کو بھی اسی طرز پر اے آئی تربیت اور کمپیوٹنگ وسائل تک رسائی دلانے میں تعاون مانگا اور کراچی ایجوکیشن سٹی کو اعلیٰ تعلیم اور نئی ٹیکنالوجی کا مرکز بنانے کے منصوبے کا ذکر کیا۔
دورے کے دیگر حصے
اسی دورے میں وزیراعلیٰ نے کراچی کے لیے سو کلومیٹر طویل کے۔فور پائپ لائن پر ایچ بی ایس زیڈ کمپنی سے بات کی، جس نے منصوبہ بنانے پر آمادگی ظاہر کی، اور سکھر بیراج کے دروازوں کی تیاری کا جائزہ لیا — بیراج کے چون میں سے چوالیس دریائی دروازے بدلے جا چکے ہیں، باقی دس پاکستان لائے جانے کے لیے تیار ہیں اور نہری دروازوں کی تیاری جاری ہے؛ یہ منصوبہ جون 2027 تک مکمل ہونا ہے۔ ادویات ساز کمپنی ہیومن ویل کو سندھ میں کارخانے لگانے کی دعوت دی گئی اور ایک چینی بیج کمپنی کے ساتھ موسمی تبدیلی برداشت کرنے والی فصلوں پر مشترکہ تحقیق کی تجویز بھی رکھی گئی۔ اصل امتحان اب کاغذی تجاویز کا نہیں ہوگا؛ دیکھنا یہ ہے کہ پائلٹ ضلع میں وارننگ نظام اگلی بارش سے پہلے زمین پر نظر آتا ہے یا نہیں۔



